Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

متعہ اور نکاح مؤقت، نکاح مؤقت اور متعہ میں فرق

  مولانا اللہ یار خانؒ

متعہ اور نکاح مؤقت، نکاح مؤقت اور متعہ میں فرق

قال شيخ الاسلام فی الفرق بين المتعة وبين نكاح المؤقت ان يذكر المؤقت بلفظ النكاح والتزويج وفی المتعة اتمتع او استمتع وعدم اشراط الشهود فی المتعة وفی المؤقت الشهود۔

(فتح القدير: صفحہ 33 مطبوعہ ہند جلد 2)

شیخ الاسلام نے فرمایا کہ متعہ اور نکاحِ مؤقت میں فرق یہ ہے کہ وقت نکاحِ مؤقت میں لفظ تزویج یا نکاح سے عقد نکاح کیا جاتا ہے اور متعہ، وقتِ متعہ کرنے کے اتمتع او استمتع سے بیان کیا جاتا ہے۔ دوم ، فرق یہ ہے کہ متعہ میں گواہ شرط نہیں اور نکاحِ مؤقت میں حضوری گواہوں کی شرط ہے۔

اور مسندِ امام کے حاشیہ پر مولانا محمد حسن سملی کا ارشاد صفحہ 336:

ان حضور الشهود غير شروط فی المتعة وانما هو فی المؤقت وهذا هو الفرق بينهما۔

فتح القدير: صفحہ 33 جلد 2 پر:

النكاح المؤقت من أفراد المتعة وان عقد بلفظ التزويج واحضار الشهود۔

اور مولانا محمد حسن سملی نے فرمایا کہ حاضر ہونا گواہوں کا متعہ میں شرط نہیں مگر نکاحِ مؤقت میں حضوری گواہوں کی شرط ہے اور یہی ان دونوں میں فرق ہے۔ نکاحِ مؤقت بھی متعہ کی قسم اس کی فرد ہے اگرچہ منعقد کیا جاتا ہے ساتھ لفظ تزویج اور حاضری گواہوں سے۔

فائدہ: ثابت ہوا کہ نکاحِ مؤقت میں وقتی تلذذ ہوتا ہے اور نفع بھی وقتی ہوتا ہے زوجہ بنانا دونوں میں مقصود نہیں ہوتا بلکہ وقتی تسکین مقصود ہے اس واسطے متعہ کا اطلاق نکاحِ مؤقت پر کر دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ فتح مکہ کے دن جو نکاحِ مؤقت کی اباحت 3 دن کے لئے ہوتی تھی اس پر بھی متعہ بول دیا جاتا ہے اس میں اشتباه واقعہ ہوگیا کہ شاید یہی کئی بار حلال ہوا اور کئی بار حرام ہوا اور نہ متعہ جس کو شیعہ حلال کہتے ہیں اور اس کے ثواب میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ یہ تو کسی وقت بھی جائز نہیں ہوا چونکہ زنا اور اس میں کوئی فرق نہیں زنا میں بھی رضا مندی طرفین ہوتی ہے بغیر گواہوں کے جیسا متعہ میں ہوتی ہے۔ ذرا یہ تو بتائیے کہ پیشہ ور عورتیں جو رقم مقرر کر کے ایک جماع کے لئے یا پوری رات کے لئے بدکاری سے دوچار ہوتی ہیں کیا ان میں رضا مندی نہیں ہوتی یقیناً دونوں بات چیت کرتے ہیں رقم مقرر کرتے ہیں وقت مقرر ہوتا ہے پھر اس میں اور متعہ میں فرق کیا ہے وہ فرق تو بتائیے جس سے متعہ حلال ہے اور زنا حرام ہے ذرا خدا کے لئے غور فرمانا تعصب کی عینک کو اتارنا اور امور ذیل پر پوری توجہ دینا۔

  1.  اباحت نکاحِ مؤقت سفرِ جہاز میں ثابت ہوتی ہے نہ حضر میں تم ہر وقت جائز کہتے ہو۔
  2. اباحت بھی مقید تھی حالتِ اضطراری سے جس طرح گوشت خنزیز و گوشت مردار حالتِ اضطراری سے مقید ہے اور جو احکام حالتِ اضطراری سے مختص ہوتے ہیں ان کا حالتِ اختیاری میں کرنا شرعاً حرام ہوتا ہے لہٰذا متعہ کا کرنا بھی حرام ہوا۔
  3.  اور یہ حالت اضطراری نکاحِ مؤقت کی مقید تھی 3 دن سے 3 دن کے بعد خود بخود اُٹھ گئی اور ہمیشہ کے لئے حرام کی گئی۔
  4.  یہ 3 دن کی اباحت بھی صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متصل تھی اس اختصاصی حکم میں غیر شریک نہیں جیسا عنقریب آتا ہے۔
  5.  اور جو لوگ بعد رسول اللہﷺ بھی اباحت کے قائل رہے۔ وہ بوجہ عدم بلوغ حرمت کے رہے تھے پھر تمام نے اباحت سے رجوع کیا ہے ۔
  6.  اگر کسی شخص نے خنزیر کا گوشت یا مردار کا گوشت کھا لیا وقتِ اضطرار کے تو اب یہ حلال نہ ہو جائیں گے۔ اسی طرح بالفرضِ محال نکاحِ مؤقت کو مباح کہیں اس حالت کے لئے تو پھر حلال نہ ہو جائے گا تو گویا سیدنا ابنِ عباسؓ کا فتویٰ اس حالت کے لئے جو کوئی دے رہا تھا تو حقیقتاً یہ فتویٰ حرمت کا تھا نہ حلت کا۔