جنگ صفین میں معاویہ (رضی اللہ عنہ) گمراہی ظاہر ہو گئی (اسدالغابہ)
مولانا ابوالحسن ہزارویجنگ صفین میں معاویہ (رضی اللہ عنہ) گمراہی ظاہر ہو گئی (اسدالغابہ)
الجواب اہلسنّت
یہاں بھی روایتی ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے ہوئے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کو آڑ بنا کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مطعون کیا ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو صفین میں شہید کیا گیا شیعہ لوگوں کا اشارہ اس طرف ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عمار کو کوئی صحابی نہیں بلکہ باغی ٹولا قتل کرے گا اور مذکورہ صفحے پر لکھا ہے کہ قیل قتلہ ابوالعادیة المازنی وقیل الجھنی کہا گیا ہے کہ العادیہ بدری صحابی نے ان کو شہید کیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان یعنی حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو جہنی رضی اللہ عنہ نے شہید کیا لہذا ثابت ہو گیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت فیہ باغیہ ہے ہم جواب عرض کرتے ہیں
1: یہاں کتاب کے الفاظ رافضی شیطانیت پر چُھرا چلا رہے ہیں کہ قیل کے ساتھ درج کی جانے والی عبارت دلالت کرتی ہے کہ یہ دعویٰ شاخ نازک پر ٹنوں وزن لادنے کی طرح ہے یعنی انتہائی کمزور اور ضعیف بات ہے اور ایسی کمزور بے اصل بات کی بنا پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو طعن کرنا بددیانتی کی دلیل ہے
2: امام اہلسنّت حضرت مولانا سرفراز خان صفر رحمہ اللہ تقریر بخاری صفحہ 807 پر ارشاد فرماتے ہیں جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل یمن کا مجوسی سیاسی ٹولہ ہے اور از روئے حدیث صحیح منافق اور باغی ہیں اسی طرح عمار رضی اللہ عنہ کا قاتل بھی یہی ٹولہ ہے حضرت علی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے دونوں گروہ کا کوئی صحابی نہیں ہے کیونکہ قاعدہ کے مطابق الباغیہ الفئتہ کی صفت ہے اور یہ صفت موصوف تقتلک کا فاعل ہے اور فاعل کا وجود فعل سے پہلے ہونا ضروری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ گروہ پہلے سے ہی باغی ہے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی وجہ سے باغی نہیں ٹھہرا اور اس گروہ کی پہلی بغاوت امام برحق حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوئی مصباح اللغات صفحہ 67 بغی کے تحت فئہ باغیہ "امام عادل کی اطاعت سے نکلنے والی جماعت" تو اس امام برحق سے بغاوت کرنے والی وہی جماعت ہے جنہوں نے امام برحق سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کیا اور پھر اس گروہ نے امام برحق علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اطاعت نہ کی۔ آپ نے جب تفتیش کرنے اور اپنی فوج سے قاتل نکالنے کا حکم دیا تو انہوں نے آپ کو قتل کرنے اور حکومت ختم کرنے کی دھمکی دے دی
3: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ کہا گیا کہ آپ کے لشکر نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
انحن قتلناہ وانما قتلہ الذین جاء بہ
(طبری وغیرہ) کیا ہم نے قتل کیا ہے؟؟ اس کے سوا کچھ نہیں کہ عمار کے قاتل آپ کو لانے والے ہیں۔
لہذا معلوم ہوگیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکریوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو شہید نہیں کیا بلکہ سیاسی ٹولے نے یہ گندا طریقہ اختیار کیا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف یہ الزام پھینک دیا کہ انہوں نے قتل کیا ہے ۔
4: حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے قاتل وہ سبائی ہیں جو حیدر کرار رضی اللہ عنہ کے قافلے میں گُھسے ہوئے تھے اس کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے جو طبری میں موجود ہے کہ جب صُلح کی گفتگو چل رہی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے کچھ حضرات مذاکرات کے لیے تشریف لائے اور وہ طرح طرح کی الجھنے والی باتیں کہہ رہے تھے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تحمل اور صبر سے برداشت فرما رہے تھے اس موقع پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل نہیں کہتے مگر یہ تو بتاؤ قاتلان عثمان تم جیسے لوگ ہیں تم ان کو جانتے ہو وہ تمہارے صاحب کے فوجی ہیں وہ قاتل ہمارے حوالے کر دے کہ ہم بدلے میں ان کو قتل کر دے پھر ہم تمہاری اطاعت کرکے جماعت میں شامل ہوجائیں گے تو ابن ربیعہ بولا اے معاویہ کیا تجھے پسند ہے کہ موقع پائے تو عمار کو بھی بدلے میں قتل کر دے (طبری جلد 4 صفحہ 3)
ابن ربیعہ کے یہ آخری الفاظ خاص طور پر قابل غور ہیں کہ اگر موقع پائیں تو عمار کو بھی بدلے میں قتل کرے حالانکہ حضرت عمارؓ نہ تو حضرت عثمانؓ کے قاتل ہیں اور نہ ہی اس قتل پر راضی ہیں اس کے باوجود حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا نام لینا کسی خاص وجہ سے ہے۔ دراصل وہ نشانہ تاک کر بیٹھے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے قتل کا الزام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر پر ڈالنے کا الزام پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔ اس سے بھی یہ بات صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والے وہی باغی اور سبائی لوگ تھے جو خاص منصوبے کے تحت ملت اسلامیہ کو برباد کرنے پر تُل چُکے تھے۔