Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

واقعہ جمل اور اس کا مدلل رد

  علی محمد الصلابی

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلاف کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کی رائے:

واقعہ جمل کی تفصیلات لکھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے باہمی اختلافات کے متعلق مختصر طور پر اہل سنت و الجماعت کا اعتقاد لکھ دیا جائے۔ تاکہ جب کوئی مسلمان تاریخی کتب کا مطالعہ کرے اور ان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلاف کو دیکھے تو اس کے دل میں ان نفوس قدسیہ کے متعلق کوئی بدگمانی پیدا نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر مورخین نے ہر قسم کا رطب و یابس جمع کر دیا ہے اور بہت کم مؤرخین ایسے گزرے ہیں جو روایات کی چھان بین کرتے تھے۔

امام ابوبکر المروزی (احمد بن محمد بن حجاج ابوبکر المروزی۔ شیخ الاسلام امام اہل السنۃ، سنت کی پیروی میں شدید تھے۔ امام احمد کے ہونہار شاگرد تھے۔ وہ بھی اس کے ساتھ بہت مانوس تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’اخبار الشیوخ و اخلاقہم‘‘ مشہور ہے۔ 275 ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الحنابلۃ لابن ابی یعلیٰ، جلد 1 صفحہ 56۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 13 صفحہ 173۔) لکھتے ہیں: ’’میں نے ابو عبداللہ احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا، کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ کے متعلق یہ بے بنیاد و فضول روایات لکھتے ہیں۔ میں نے کہا: آپ کے متعلق بھی یہ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ نے کہا ہے، میں انکار نہیں کرتا کہ کوئی محدث یہ احادیث اس لیے لکھے تاکہ ان کی اصلیت کے متعلق لوگوں کو معلوم ہو۔ وہ غضب ناک لہجے میں بولے: میں شدت سے ایسی روایات کا انکار کرتا ہوں اور مزید کہا: یہ باطل ہیں۔ اللہ کی پناہ! میں کیسے ان سے انکار نہ کروں گا؟ اگر ایسی روایات غیر اہم لوگوں کے بارے میں ہوں تو میں تب بھی ان کا انکار کرتا اور جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے بارے میں ایسی روایات ہوں تو پھر میرا کیا حال ہو گا؟ نیز انھوں نے فرمایا: میں کبھی ایسی احادیث نہیں لکھتا۔ میں نے ابو عبداللہ سے کہا: جس شخص کے بارے میں پتا چل جائے کہ وہ ایسی فضول روایات لکھتا اور اکٹھی کرتا ہے کیا اسے ترک کر دیا جائے گا؟ انھوں نے فرمایا: ہاں۔ ایسی ردی احادیث جمع کرنے والا رجم کا مستحق ہے۔ ابو عبداللہ نے فرمایا: میرے پاس عبدالرحمٰن بن صالح آیا تو میں نے اس سے پوچھا: کیا تم ایسی احادیث بیان کرتے ہو؟ وہ کہنے لگا: یہ فلاں اور فلاں بیان کرتا ہے اور میں اس کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہوں اور وہ ان کو دلیل بھی بناتا ہے۔ میں نے اس کے بعد اسے دیکھا تو اس سے اعراض کیا اور اس سے بات نہ کی۔

(السنۃ للخلال: جلد 3 صفحہ 501)

اس موضوع پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے متفرق مقامات پر بہت کچھ لکھا، لیکن بطورِ تمثیل کچھ قارئین کی خدمت میں درج کیا جا رہا ہے، اور خصوصاً جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق انھوں نے لکھا وہ بھی ہم ذکر کریں گے۔

وہ لکھتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے درمیان جو تنازعات ہوتے رہے ہم ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتے ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہم اللہ تعالیٰ سے رحم اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔‘‘

(الفتوی الحمویۃ لابن تیمیۃ: صفحہ 448۔ مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: جلد 5 صفحہ 75۔ الفتاویٰ الکبری لابن تیمیۃ: جلد 6 صفحہ 658۔ جلد 3 صفحہ 445)

اب ہم دو عظیم اماموں کی عبارتیں نقل کرتے ہیں کیونکہ ان میں زیر بحث مسئلہ کے متعلق خصوصی راہنمائی ملتی ہے:

1۔ ابن المستوفی اربلی (مبارک بن احمد بن مبارک، ابو البرکات اربلی علامہ، محدث۔ 564 ہجری میں پیدا ہوئے۔ ادب، شعر، عربوں کے وقائع کے ماہر تھے۔ عابد، متقی تھے۔ قضائے اربل پر ایک مدت تک فائز رہے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’تاریخ اربل‘‘ ہے۔ 637 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 33 صفحہ 49۔ الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 295) نے کہا: ’’میں نے ارادہ کیا کہ امام زہد ابو مظفر خزاعی (مبارک بن طاہر بن مبارک ابو مظفر الخزاعی، بغدادی صوفی، مقری۔ 533 ہجری میں پیدا ہوئے۔ عابد و زاہد تھے اور قرآن کے ساتھ خصوصی لگاؤ تھا۔ شافعی المسلک تھے۔ رائے اور قیاس سے نفرت کرتے تھے۔ خوب جانچ کر احادیث کی سماعت کی۔ 600 ہجری میں وفات پائی۔ (تاریخ اربل لابن المستوفی: جلد 1 صفحہ 41۔ تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 42 صفحہ 482)کو ابن ابی دنیا کی کتاب ’’مقتل عثمان‘‘ سناؤں ، لیکن انھوں نے میری بات سے انکار کر دیا اور کہا: اگر ہم خود اس واقعہ کو دیکھتے تو بھی ہم اسے روایت نہ کرتے۔‘‘

(تاریخ اربل لابن المستوفی: جلد 1 صفحہ 44)

2۔ امام ابن دقیق العید شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے ہم عصر ( محمد بن علی بن وہب ابو الفتح قشیری ابن دقیق العید۔ امام، فقیہ، محدث، شیخ الاسلام۔ 615 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے ہم عصروں میں ذہین و فطین، وسیع علم رکھنے والے اور متقی مشہور تھے۔ قضاء مصر پر فائز رہے۔ ان کی مشہور تصانیف ’’الاقتراح‘‘ و ’’شرح عمدۃ الاحکام‘‘ ہیں۔ 702 ہجری میں فوت ہوئے۔ (طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبہ: جلد 2 صفحہ 225،) شذرات الذہب لابن العماد: جلد 6 صفحہ)ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی تنازعات کے متعلق جو کچھ ہم تک روایات پہنچی ہیں ان میں سے بہت کچھ جھوٹ ہے، وہ قابل توجہ نہیں اور جو روایات صحیح ہیں ہم ان کی احسن تاویل کریں گے اور ان کے لیے عمدہ ترین مخارج تلاش کریں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے ان کی ثنا بیان کر دی ہے۔ جو کچھ ان کی نسبت ہم تک پہنچا ہے اس میں تاویل کا احتمال ہے اور قاعدہ کے مطابق مشکوک چیز معلوم کو باطل نہیں کرتی۔

(تشنیف المسامع للزرکشی: جلد 4 صفحہ 842 )

یہ وہی بات ہے جو حبر امت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہی تھی کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو گالی مت دو، کیونکہ اللہ عزوجل نے ان کے لیے استغفار کا حکم دیا ہے۔حالانکہ اسے معلوم تھا کہ یہ مستقبل میں آپس میں قتال کریں گے۔

(الحجۃ فی بیان المحجۃ لابی القاسم الاصبہانی: جد 2 صفحہ 395۔ اس کی سند کو ابن تیمیہؓ نے منہاج السنۃ، جلد 2 صفحہ 22 میں صحیح کہا۔)

چند اُصولوں کا ذکر جو اہل سنت و الجماعت میں متفق علیہ ہیں۔ صرف اہل بدعت و اہواء ہی ان کا انکار کرتے ہیں:

1۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب کے ساتھ حسن ظن رکھنا خصوصاً ان کے بارے میں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی رہے ان میں بلاشک و شبہ علی، عائشہ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہن بھی ہیں۔

2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو معصوم نہ سمجھنا بلکہ ان سے نہ صرف صغیرہ گناہ سرزد ہو سکتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ بھی سرزد ہونے پر کوئی تعجب نہ کرنا اور اگر وہ اجتہاد کرنے میں غلطی کریں تو انھیں ایک اجر ضرور ملنے کی امید رکھنا۔

3۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر سب و شتم کرنا حرام ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے اورجو ان کے عادل ہونے میں عیب جوئی کرتا ہے وہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عدل میں عیب جوئی کرتا ہے کہ جس نے ان کو جنت کی بشارت دی اور وہ دین میں عیب جوئی کرتا ہے جو ان صحابہ کرامؓ کے ہاتھوں اور زبانوں سے ہم تک پہنچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا، جب انھوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ نازیبا کلمات کہہ دئیے جو پہلے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لاَا تَسُبُّوْا اَصْحَابِیْ فَلَوْ اَنَّ اَحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَہَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ اَحَدِہِمْ وَ لَا نَصِیْفِہٖ

’’تم میرے اصحاب کو گالی مت دو۔ اگر تم میں سے کوئی کوہِ احد کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو ان کے اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے ایک مد (لپ) بلکہ آدھا مد (چلو) کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3673۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 222)۔

جب درج بالا گفتگو اللہ تعالیٰ کی بے نیام تلوار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے کی گئی جن کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی خصوصی نصرت و حمایت کی، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جرنیل صحابہ میں سے ہیں تو جس شخص کو صحابہ سے کوئی نسبت ہی نہیں وہ صحابہ کو کیسے گالی دے سکتا ہے۔ اسی طرح بعد میں آنے والوں کو زیب نہیں دیتا کہ اسلافِ امت کے متعلق زبان درازی کریں۔

4۔ صحابہ کرامؓ کے باہمی تنازعات کے متعلق ہم توقف سے کام لیتے ہیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں اور اس مقام پر ہم تمام صحابہ کو مجتہدین سمجھتے ہیں جن کا اجتہاد حق پر تھا ان کو دو اجر ملیں گے اور جنھوں نے اجتہاد میں خطا کی ان کو ایک اجر ملے گا۔ ان شاء اللہ۔