واقعہ جمل اور اس کا مدلل رد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

واقعہ جمل اور اس کا مدلل رد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

چند اُصولوں کا ذکر جو اہل سنت و الجماعت میں متفق علیہ ہیں۔ صرف اہل بدعت و اہواء ہی ان کا انکار کرتے ہیں:

1۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب کے ساتھ حسن ظن رکھنا خصوصاً ان کے بارے میں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی رہے ان میں بلاشک و شبہ علی، عائشہ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہن بھی ہیں۔

2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو معصوم نہ سمجھنا بلکہ ان سے نہ صرف صغیرہ گناہ سرزد ہو سکتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ بھی سرزد ہونے پر کوئی تعجب نہ کرنا اور اگر وہ اجتہاد کرنے میں غلطی کریں تو انھیں ایک اجر ضرور ملنے کی امید رکھنا۔

3۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر سب و شتم کرنا حرام ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے اورجو ان کے عادل ہونے میں عیب جوئی کرتا ہے وہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عدل میں عیب جوئی کرتا ہے کہ جس نے ان کو جنت کی بشارت دی اور وہ دین میں عیب جوئی کرتا ہے جو ان صحابہ کرامؓ کے ہاتھوں اور زبانوں سے ہم تک پہنچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا، جب انھوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ نازیبا کلمات کہہ دئیے جو پہلے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لاَا تَسُبُّوْا اَصْحَابِیْ فَلَوْ اَنَّ اَحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَہَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ اَحَدِہِمْ وَ لَا نَصِیْفِہٖ

’’تم میرے اصحاب کو گالی مت دو۔ اگر تم میں سے کوئی کوہِ احد کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو ان کے اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے ایک مد (لپ) بلکہ آدھا مد (چلو) کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3673۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 222)۔

جب درج بالا گفتگو اللہ تعالیٰ کی بے نیام تلوار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے کی گئی جن کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی خصوصی نصرت و حمایت کی، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جرنیل صحابہ میں سے ہیں تو جس شخص کو صحابہ سے کوئی نسبت ہی نہیں وہ صحابہ کو کیسے گالی دے سکتا ہے۔ اسی طرح بعد میں آنے والوں کو زیب نہیں دیتا کہ اسلافِ امت کے متعلق زبان درازی کریں۔

4۔ صحابہ کرامؓ کے باہمی تنازعات کے متعلق ہم توقف سے کام لیتے ہیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں اور اس مقام پر ہم تمام صحابہ کو مجتہدین سمجھتے ہیں جن کا اجتہاد حق پر تھا ان کو دو اجر ملیں گے اور جنھوں نے اجتہاد میں خطا کی ان کو ایک اجر ملے گا۔ ان شاء اللہ۔



صفحہ 2 از 2