پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 6

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ 18 ذی الحجہ، جمعہ کے دن 30 ہجری کو شہید کر دئیے گئے۔ یہ قول زیادہ مشہور ہے۔ لوگوں تک یہ خبر پہنچ گئی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی یہ افسوس ناک خبر سنی، لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلافت کی بیعت لینے کے لیے آمادہ کر لیا۔ جو صدمہ لوگوں کو تھا وہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی تھا، تاہم وہ دوسرے لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے کی تلقین کرتی رہتیں۔ بہرحال امت مسلمہ کے دل اس جانکاہ صدمہ سے چور چور تھے جو انھیں پاکباز، متقی ابو عبداللہ عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی اس مظلومانہ شہادت سے پہنچا تھا، ایسا صدمہ جو چند مجرم ہاتھوں کے ذریعے مدینہ منورہ میں پیش آیا انھوں نے لوگوں کو خوف زدہ کر دیا اور امیر المؤمنین خلیفۂ ثالث کو قتل کر ڈالا۔ اس وقت صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت اٹھی اور سب نے مل کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت لی اور ان سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص لینے کا وعدہ لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کا مشورہ قبول کر لیا اور انھیں کچھ دیر تک صبر کرنے کا مشورہ دیا، کیونکہ فتنہ گروں کے پاس طاقت تھی لوگوں پر ان کی دہشت چھائی ہوئی تھی اور وہ ان سے مرعوب تھے وہ ان کی ہاں میں ہاں ملائے ہوئے تھے۔ ان کی پشت پناہی دیگر قبائل کر رہے تھے اور وہ ان کا دفاع کرتے تھے۔ جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے میں مانع تھے۔ اس لیے حالات کا معمول پر آ جانا ضروری تھا اور اسی لمحے ارکان خلافت کو مضبوط کرنا ضروری تھا۔ تاآنکہ قصاص لینے کا ماحول بن جاتا اور نئے سرے سے فتنے نہ کھڑے ہو جاتے۔ بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو یہ خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ کہیں وہ مجرم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ہلہ نہ بول دیں۔ اس لیے انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نصیحت کی کہ وہ مسجد میں کھلے عام بیعت نہ لیں، بلکہ اس کام کے لیے کوئی اور جگہ منتخب کرنی چاہیے۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مسجد ہی میں بیعت لینے پر اصرار کیا۔

(تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 427)

دن پر دن گزرتے رہے حتیٰ کہ شہادتِ عثمان کو چار ماہ گزر گئے اور ان کے قاتلوں سے قصاص نہ لیا جا سکا۔ اس موقع پر صحابہ کرامؓ نے اپنا اپنا اجتہاد کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں گروہوں میں سے حق کے زیادہ قریب تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اختلاف بڑھانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ معاملات الجھنے لگے۔ کینہ پرور اور سبائی فرقہ لوگوں میں افواہیں پھیلانے پر تل گیا تاکہ دونوں گروہوں میں فتنہ بھڑکا کر فساد برپا کر دیا جائے۔ بالآخر وہ اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب ہو گئے۔ لوگوں میں اشتعال انگیزی بڑھنے لگی۔ اکثر لوگ قصاص عثمان کا مطالبہ کرنے لگے پھر وہی ہوا جو مقدر تھا۔ متعدد گروہ خون عثمان کے قصاص کا مطالبہ زور و شور سے کرنے لگے۔ اس موقعہ پر ام المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی اجتہاد کیا اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی روشنی میں عملاً میدان میں آنے کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَا خَيۡرَ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰٮهُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍ بَيۡنَ النَّاسِ‌ وَمَن يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞(سورۃ النساء آیت 114)

ترجمہ: لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے کا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔ اور جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کے کرنے کے لیے ایسا کرے گا، ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مومنوں کے دلوں میں اُن (سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ ) کے مقام و منزلت کا خیال کرتے ہوئے عملاً اس معاملہ میں کردار ادا کرنے کا عزم کر لیا اگرچہ امہات المؤمنین کو گھروں میں ٹھہرے رہنے کی خصوصی قرآنی نصیحت موجود تھی۔ لیکن یہ نصیحت اصلاح عامہ کی کوشش اور حاجت برآری کی مخالف نہیں۔

اگر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان دونوں گروہوں کے درمیان صلح کرانے کا عزم لے کر آگے بڑھیں تو یہ امت مسلمہ پر عظیم احسان ہے۔ وہ خلافت علی رضی اللہ عنہ کو تسلیم کر چکی تھیں، نہ تو انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کی بیعت توڑی اور نہ ان کے خلاف بغاوت کا ارادہ کیا۔

صفحہ 1 از 6