پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ 18 ذی الحجہ، جمعہ کے دن 30 ہجری کو شہید کر دئیے گئے۔ یہ قول زیادہ مشہور ہے۔ لوگوں تک یہ خبر پہنچ گئی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی یہ افسوس ناک خبر سنی، لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلافت کی بیعت لینے کے لیے آمادہ کر لیا۔ جو صدمہ لوگوں کو تھا وہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی تھا، تاہم وہ دوسرے لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے کی تلقین کرتی رہتیں۔ بہرحال امت مسلمہ کے دل اس جانکاہ صدمہ سے چور چور تھے جو انھیں پاکباز، متقی ابو عبداللہ عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی اس مظلومانہ شہادت سے پہنچا تھا، ایسا صدمہ جو چند مجرم ہاتھوں کے ذریعے مدینہ منورہ میں پیش آیا انھوں نے لوگوں کو خوف زدہ کر دیا اور امیر المؤمنین خلیفۂ ثالث کو قتل کر ڈالا۔ اس وقت صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت اٹھی اور سب نے مل کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت لی اور ان سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص لینے کا وعدہ لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کا مشورہ قبول کر لیا اور انھیں کچھ دیر تک صبر کرنے کا مشورہ دیا، کیونکہ فتنہ گروں کے پاس طاقت تھی لوگوں پر ان کی دہشت چھائی ہوئی تھی اور وہ ان سے مرعوب تھے وہ ان کی ہاں میں ہاں ملائے ہوئے تھے۔ ان کی پشت پناہی دیگر قبائل کر رہے تھے اور وہ ان کا دفاع کرتے تھے۔ جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے میں مانع تھے۔ اس لیے حالات کا معمول پر آ جانا ضروری تھا اور اسی لمحے ارکان خلافت کو مضبوط کرنا ضروری تھا۔ تاآنکہ قصاص لینے کا ماحول بن جاتا اور نئے سرے سے فتنے نہ کھڑے ہو جاتے۔ بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو یہ خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ کہیں وہ مجرم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ہلہ نہ بول دیں۔ اس لیے انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نصیحت کی کہ وہ مسجد میں کھلے عام بیعت نہ لیں، بلکہ اس کام کے لیے کوئی اور جگہ منتخب کرنی چاہیے۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مسجد ہی میں بیعت لینے پر اصرار کیا۔
(تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 427)
دن پر دن گزرتے رہے حتیٰ کہ شہادتِ عثمان کو چار ماہ گزر گئے اور ان کے قاتلوں سے قصاص نہ لیا جا سکا۔ اس موقع پر صحابہ کرامؓ نے اپنا اپنا اجتہاد کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں گروہوں میں سے حق کے زیادہ قریب تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اختلاف بڑھانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ معاملات الجھنے لگے۔ کینہ پرور اور سبائی فرقہ لوگوں میں افواہیں پھیلانے پر تل گیا تاکہ دونوں گروہوں میں فتنہ بھڑکا کر فساد برپا کر دیا جائے۔ بالآخر وہ اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب ہو گئے۔ لوگوں میں اشتعال انگیزی بڑھنے لگی۔ اکثر لوگ قصاص عثمان کا مطالبہ کرنے لگے پھر وہی ہوا جو مقدر تھا۔ متعدد گروہ خون عثمان کے قصاص کا مطالبہ زور و شور سے کرنے لگے۔ اس موقعہ پر ام المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی اجتہاد کیا اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی روشنی میں عملاً میدان میں آنے کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لَا خَيۡرَ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰٮهُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍ بَيۡنَ النَّاسِ وَمَن يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞(سورۃ النساء آیت 114)
ترجمہ: لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے کا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔ اور جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کے کرنے کے لیے ایسا کرے گا، ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مومنوں کے دلوں میں اُن (سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ ) کے مقام و منزلت کا خیال کرتے ہوئے عملاً اس معاملہ میں کردار ادا کرنے کا عزم کر لیا اگرچہ امہات المؤمنین کو گھروں میں ٹھہرے رہنے کی خصوصی قرآنی نصیحت موجود تھی۔ لیکن یہ نصیحت اصلاح عامہ کی کوشش اور حاجت برآری کی مخالف نہیں۔
اگر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان دونوں گروہوں کے درمیان صلح کرانے کا عزم لے کر آگے بڑھیں تو یہ امت مسلمہ پر عظیم احسان ہے۔ وہ خلافت علی رضی اللہ عنہ کو تسلیم کر چکی تھیں، نہ تو انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کی بیعت توڑی اور نہ ان کے خلاف بغاوت کا ارادہ کیا۔
امام ابن بطال (علی بن خلف بن عبدالملک ابو الحسن قرطبی، علامہ، مالکی مسلک کے بڑے علماء میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ علم و معرفت کے دریا تھے۔ حدیث سے خصوصی شغف تھا۔ اندلس میں قاضی رہے۔ ان کی تصنیف ’’شرح البخاری‘‘ مشہور ہے۔ 449 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 18 صفحہ 47۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 282۔)رحمہ اللہ نے کہا: وہ اس حدیث ’’وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جنھوں نے اپنا معاملہ عورت کے سپرد کیا۔‘‘ کے بارے میں سیدنا ابوبکرہ ( نفیع بن حارث بن کلدہ، ابوبکرہ ثقفی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ تھے۔ جنگ جمل میں یہ دونوں فریقوں سے علیحدہ ہو گئے اور کسی کی طرف سے قتال میں حصہ نہ لیا۔ 52 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 484۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 467) رضی اللہ عنہ کے مؤقف پر تبصرہ کر رہے تھے: جہاں تک ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ حدیث سے استدلال کا موقف ہے تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کے نزدیک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے میدان جہاد میں نکلنے کی رائے ضعیف تھی۔ مہلب کہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ ابوبکرہؓ کے بارے میں مشہور یہی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے پر تھے اور میدان جہاد میں جاتے وقت ان کے ساتھ تھے۔ جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قتال کی نیت سے میدان عمل میں نہیں جا رہی تھیں، بلکہ انھیں یہ کہہ کر آمادہ کیا گیا تھا کہ آپ میدان جہاد میں آگے بڑھیں تاکہ لوگوں کے درمیان صلح کروا سکیں۔ کیونکہ آپ ان کی ماں ہیں اور وہ قتال کر کے آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے۔ اس لیے وہ نکل پڑیں اور ان کے ہمراہ بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ جو گروہ بغاوت پر اڑ گیا تو وہ بغاوت کرنے والوں سے قتال کریں گے۔ ان میں ابوبکرہ بھی شامل تھے۔ اس رائے سے انھوں نے کبھی رجوع نہ کیا۔ پھر ابن بطال رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کوئی مسلمان یہ نہیں کہتا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ساتھ کسی کے امیر ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ ہی وہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی مخالف تھیں اور نہ امارت چھیننے کے لیے انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا۔ انھوں نے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہ لینے کی وجہ سے مخالفت کی اور ان (کے قاتلوں ) پر حدود اللہ قائم کیے بغیر ان کو کھلا چھوڑنے پر ان کی مخالفت کی، اس کے علاوہ ان کا کوئی مطالبہ نہ تھا۔
( شرح صحیح البخاری لابن بطال: جلد 10 صفحہ 51)
اس نیک عزم اور اس مبارک نیت کے ساتھ جب ان کا قافلہ عَیْن (چشمہ) حَوْأَب (الحوأب: مکہ اور بصرہ کے درمیان پڑاؤ کا ایک مقام ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 456۔) پہنچا تو انھوں نے امن و سلامتی کے لیے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور واپسی کا ارادہ کیا۔ تاکہ وہ سارے معاملے سے یک بارگی علیحدہ ہو جائیں اور اس اندیشے سے کہ کہیں کوئی انہونی پیش نہ آ جائے۔
مسند احمد اور مستدرک حاکم میں روایت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب بنو عامر کے چشموں کے پاس رات کو پہنچیں تو کتوں کے بھونکنے کی آواز آئی۔ انھوں نے پوچھا، یہ کون سا چشمہ ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ عین حوأب ہے۔ آپ نے فرمایا: مجھے یقین ہے کہ میں واپس چلی جاؤں گی۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے فرمایا تھا: تم میں سے کسی ایک کا کیا حال ہو گا جب اس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے؟ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے انھیں کہا: آپ واپس جانا چاہتی ہیں؟ ممکن ہے اللہ عزوجل آپ کے ہاتھوں سے لوگوں کے درمیان صلح کرا دے۔
(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 52، حدیث نمبر: 24299۔ مسند ابی یعلیٰ: جلد 8 صفحہ 282، حدیث نمبر: 4868۔ صحیح ابن حبان: جلد 15 صفحہ 126، حدیث نمبر: 6732 ۔ مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 129۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 177 پر صحیح کہا اور البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 217 پر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا۔ اس کی سند صحیحین کی شرط پر ہے اور مجمع الزوائد: جلد 7 صفحہ 237 میں ہیثمی رحمہ اللہ نے لکھا: مسند احمد کی روایت کے سب راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 847 پر لکھا ہے کہ اس کی سند بہت ہی صحیح ہے۔ اس کے تمام راوی کتب ستہ کے ثقہ اور ثبت ہیں۔)
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اصل معاملے کی حقیقت واضح کرتے ہوئے اور ہمارے لیے حقیقت امر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا:
’’تمام لوگ صلح پر متفق ہو گئے۔ جس نے اس اتفاق کو ناپسند کیا اس نے ناپسند کیا اور جو اس پر راضی ہوا وہ راضی ہوا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف یہ خبر بتانے کے لیے قاصد بھیجا کہ وہ صلح کے لیے آئی ہیں۔ دونوں گروہوں کے لوگ خوش ہو گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو جاہلیت کے زمانہ، اس کی شقاوتوں اور اس کے اعمالِ بد کا تذکرہ کیا، پھر اسلام کا تذکرہ کیا اور اہل اسلام کی باہمی الفت و اجتماعیت کی تعریف کی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب لوگوں کو خلافت ابی بکر رضی اللہ عنہ پر جمع کیا۔
پھر ان کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، پھر یہ حادثہ پیش آیا جسے ان لوگوں نے پروان چڑھایا جو دنیا کے طلب گار تھے۔ اس شخص سے ان کے حسد کے نتیجے میں یہ کارروائی عمل میں لائی گئی جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا تھا اور اس فضیلت کے ساتھ انھیں حسد تھا جسے اللہ تعالیٰ نے عطا کرکے احسان کیا تھا۔ انھوں نے اسلام اور دیگر معاملات کو پیچھے کی طرف لوٹانے کی کوشش کی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلوں کو نافذ کرتا ہے۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! توجہ سے سنو! میں کل واپس جا رہا ہوں تم بھی واپس چل پڑو اور جن لوگوں نے سیدنا عثمان کے قتل میں کسی قسم کی معاونت کی وہ میرے ساتھ نہ آئیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب یہ جملہ کہا تو ان لوگوں کے سرغنوں نے سر جوڑ لیے جیسے اشتر نخعی، شریح بن اوفی، عبداللہ بن سبا المعروف بابن السوداء وغیرہم جو تقریباً پچیس سو افراد کے قریب تھے اور ان میں ایک بھی صحابی نہ تھا۔ و للّٰہ الحمد۔
وہ کہنے لگے: یہ کیسی رائے ہے؟ اللہ کی قسم! جو لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل ڈھونڈ رہے ہیں ان سب سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ بہتر جانتا ہے اور وہی عمل کرنے کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ اس نے جو کچھ کہا تم نے سن لیا، صبح سب لوگ تمہارا گھیراؤ کریں گے اور سب لوگ تمھیں پکڑنے کی کوشش کریں گے تو تمہارا کیا حال ہو گا جبکہ تم ان کی اکثریت کے مقابلے میں قلیل ہو؟ تو اشتر نے کہا: ہمیں شروع دن سے طلحہ اور زبیر کی رائے معلوم تھی، لیکن علی رضی اللہ عنہ کی رائے آج سے پہلے ہم نہیں جانتے تھے۔ اس نے اگر ان سے صلح کر لی ہے تو ہمارے خونوں پر صلح کی ہے۔ اگر معاملہ یہی ہے تو ہم علی کو بھی عثمان کے ساتھ ملا دیں گے تو لوگ ہماری ہاں میں ہاں ملائیں گے۔
ابن سوداء نے کہا: تیری رائے بہت بری ہے، اگر ہم اسے قتل کریں گے تو خود بھی قتل کر دئیے جائیں گے۔ کیونکہ ہم اے عثمان کے قاتلو! پچیس سو ہیں اور طلحہ و زبیر اور ان کے ساتھی پانچ ہزار ہیں اور ہمارا ان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں۔ حالانکہ وہ سب صرف تمھیں ہی تلاش کر رہے ہیں۔
علباء بن ہیثم نے کہا: تم انھیں چھوڑو اور ہم مختلف علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ اپنا دفاع کریں گے۔ ابن سوداء نے کہا: تو نے بہت نامناسب بات کی ہے
اس طرح تو اللہ کی قسم! لوگ تمھیں اچک لیں گے۔ پھر ابن سوداء نے کہا: اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دے، اے لوگو! تمہارا غلبہ لوگوں میں مل جل کر رہنے میں پنہاں ہے۔ جب لوگ اکٹھے ہوں تم ہلہ بول دو اور ان کو تحقیق کی مہلت مت دو، تم جس کے ساتھ ہو گے وہ ضرور تمہارا دفاع کرے گا اور تم جس چیز کو ناپسند کرتے ہو اللہ تعالیٰ طلحہ، زبیر اور ان کے ساتھیوں کو اسی میں پھنسا دے گا۔ سب لوگوں نے یہ رائے پسند کی اور اسی پر مجلس برخاست ہوئی۔
(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 450 )
ابن کثیر رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر لکھا:
’’وہ رات صحابہؓ کے لیے سب سے پرسکون رات تھی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کے لیے وہ رات سب سے زیادہ تلاطم خیز تھی۔ وہ متفق ہو گئے کہ جنگ کے شعلے سحری کے وقت (الغلس:رات کا آخری اندھیرا جس میں صبح کی روشنی بھی مل چکی ہو۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 377)بھڑکائیں گے۔ وہ صبح صادق کے طلوع ہونے سے پہلے اٹھ کھڑے ہوئے جو تقریباً دو ہزار کے قریب تھے۔ ان میں سے ہر جماعت اپنے پڑوس والوں پر تلواروں سے حملہ آور ہو گئی۔ جذبہ انتقام لیے ہوئے سب لوگ اپنے اپنے فریق کا دفاع کرنے لگے۔ لوگ نیند کی حالت میں ہی اپنے اپنے ہتھیاروں کی طرف بڑھے اورکہنے لگے: یہ کیا ہے؟ بصرہ والے کہنے لگے: اہل کوفہ نے ہم پر رات کے وقت ہلہ بول دیا اور ہم پر شب خون مار کر ہم سے دھوکا کیا اور وہ گمان کرنے لگے کہ اصحاب علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سازش کی گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک جب یہ خبر پہنچی تو انھوں نے کہا: لوگوں کو کیا ہوا ہے۔ ان کے ساتھیوں نے کہا اہل بصرہ نے ہم پر شب خون مارا ہے۔ ان میں سے ہر جماعت اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکی اور زرہ سمیت دیگر ہتھیار لے لیے۔‘‘
(اللامۃ: زرہ اور ایک قول کے مطابق ہتھیار مراد ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 220)
وہ گھوڑوں پر سوار ہو گئے اور کسی کو حقیقت معاملہ کا صحیح ادراک نہ تھا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو چکا تھا۔ جنگ کے الاؤ روشن ہو گئے اور دونوں لشکر ایک دوسرے کے بالمقابل ڈٹ گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیس ہزار جنگجو تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تقریباً تیس ہزار تھے۔
جنگ زوروں پر تھی اور شہسوار ایک دوسرے کو کاٹ رہے تھے اور پیادہ شجاع صفوں کے اندر گھس چکے تھے۔ پس ۔انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ جنگ کی آگ بھڑکانے والا اصل گروہ سبائی تھی جو ابن سوداء کے ہم نوا تھے۔ اللہ ان پر لعنت کرے جو قتل سے ذرا نہیں ہچکچاتے۔ اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے اعلان کرنے والا اعلان کرنے لگتا ہے کہ لوگو! رک جاؤ! لوگو! رک جاؤ! لیکن کوئی بھی نہیں سنتا۔ اسی اثنا میں قاضی بصرہ کعب آیا اور اس نے کہا: اے ام المؤمنینؓ! آپ لوگوں کو نصیحت کریں، امید ہے اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے لوگوں کے درمیان صلح کروا دے۔ تو وہ اپنے اونٹ پر پالکی میں بیٹھیں ماتحتوں نے پالکی کو زرہوں سے ڈھانپ دیا۔ وہ آگے بڑھیں اور وہاں ٹھہر گئیں جہاں وہ سب لوگوں کو ان کے مقتل میں دیکھ سکیں۔‘‘
(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 455 )
تو یہ لوگ اصل میں جنگ کی آگ لگانے والے اور اس کے الاؤ کو بھڑکانے والے تھے جنھوں نے مومنوں کے دو گروہوں کے درمیان فساد پھیلایا اور لوگوں کو انتقام پر ابھار کر انھیں باہمی قتال پر مجبور کیا۔ وہ خوش دلی کے ساتھ مقتل میں نہیں آئے بلکہ وہ ان کے باہمی اجتہادی اختلاف کا کڑوا پھل تھا اور وہ سب مخلص تھے اور ان میں سے کوئی ایک بھی اپنے دوسرے بھائی کو معمولی سی تکلیف بھی نہیں پہنچا سکتا تھا ان سب سے زیادہ مخلص ہماری امی جان سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما تھے۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اس دن بے شمار لوگ شہید ہوئے حتیٰ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: اے میرے بیٹے! کاش تیرا باپ آج سے بیس سال پہلے مر جاتا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اے ابا جان! میں آپ کو اس سے روکتا تھا۔‘‘
قیس بن عباد سے روایت ہے:
’’جنگ جمل والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: اے حسن! کاش تیرا باپ! بیس برس قبل مر جاتا۔ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اے ابا جان! میں آپ کو اس کام سے روکتا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بیٹے! میں سمجھتا تھا کہ معاملہ اس حد تک نہیں پہنچے گا۔‘‘
مبارک بن فضالہ نے بواسطہ حسن ابوبکرہ سے روایت کی:
’’جنگ جمل کے دن جب جنگ میں شدت آئی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھوپڑیاں اڑتی (تندر: نَدَرَ یَنْدُرُ جب کوئی چیز گر پڑے۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 5 صفحہ 199) ہوئی دیکھیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسن کو پکڑا اور انھیں اپنے سینے سے لپٹا لیا۔ پھر کہا: اے حسن! بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں، آج کے بعد کسی بھلائی کی امید کی جائے گی؟ رضی اللہ عنہما ‘‘
(العزلۃ للخطابی: صفحہ 14۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 456۔ معمولی رد و بدل کے ساتھ۔)
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حالت بھی اس سے مختلف نہ تھی۔ وہ دونوں طرف سے شہید ہونے والے مسلمانوں کے متعلق فرداً فرداً پوچھتی جاتیں اور شہداء کے لیے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتی جاتیں اور ساتھ ساتھ اپنی ندامت کا اظہار بھی کرتی جاتیں۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 10 صفحہ 471)
علامہ ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے خاتمے کے بعد خالد بن واشمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ان کا کیا بنا، یعنی طلحہ رضی اللہ عنہ کا؟ اس نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ شہید ہو گئے۔ وہ کہنے لگیں : انا للّٰہ و انا الیہ راجعون،اللہ ان پر رحم کرے۔ فلاں نے کیا کیا؟ اس نے بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر انا للہ پڑھا اور کہا، اللہ ان پر رحم کرے اور زید اور زید کے ساتھیوں پر بھی ہم انا للہ پڑھتے ہیں۔ یعنی زید بن صوحان۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا اور زید بھی شہید ہو گیا۔ بقول خالد میں نے کہا: ہاں! انھوں نے کہا: انا للّٰہ و انا الیہ راجعون، اللہ اس پر رحم کرے۔ بقول خالد! میں نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ اس لشکر میں تھا اور وہ دوسرے لشکر میں تھا۔ آپ سب پر رحم کی دعا کر رہی ہیں؟ اللہ کی قسم! وہ کبھی بھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمھیں معلوم نہیں اللہ کی رحمت بہت زیادہ وسیع ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 289)
ام المؤمنین، عفیفۂ کائنات اپنی روانگی پر بے حد نادم تھیں اور کہتی تھیں کہ میرے لیے بہتر تھا کہ میں وہاں نہ جاتی۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا نے بصرہ کی طرف اپنی روانگی پر ندامت کا اظہار کیا اور وہ جب بھی اس سفر کو یاد کرتیں تو اتنا روتیں کہ ان کی اوڑھنی آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 6 صفحہ 208)
ابو عبداللہ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
’’یہ بات کہی جاتی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے سفر بصرہ پر مکمل طور پر نادم ہوئیں اور خصوصاً جنگ جمل میں اپنی موجودگی پر اظہار افسوس کرتیں اور وہ فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے نہیں سوچا تھا کہ معاملہ اس حد تک بگڑ جائے گا۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 177)
ہماری امی جان اس واقعہ کو یاد کرتیں اور کف افسوس ملتیں اور کہتیں میں چاہتی ہوں کاش میں گیلی ٹہنی ہوتی اور اپنے اس سفر پر کبھی روانہ نہ ہوتی۔
(مصنف ابن أبی شیبۃ: حدیث نمبر: 38973)
سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’اگر میں اپنے اس سفر پر روانگی کے بجائے بیٹھی رہتی تو یہ مجھے اس چیز سے زیادہ محبوب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے دس بیٹے ہوتے جیسے حارث بن ہشام کی اولاد ہے۔‘‘
(مصنف ابن ابی شیبۃ، حدیث نمبر: 38966)
سیدہ صدیقہ فرماتی ہیں: ’’مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوا تم مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیویوں کے ساتھ دفن کرنا۔ اس لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کو قبرستان بقیع میں دفن کیا گیا۔‘‘
امام ذہبیؒ ان کی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’میں کہتا ہوں واقعہ یا گناہ سے مراد ان کا جنگ جمل کی طرف جانا ہے بے شک انھوں نے اس پر کھل کر اپنی ندامت کا اظہار کیا اور اس سے توبہ کر لی۔ اگرچہ انھوں نے یہ کام نیک نیتی سے کیا تھا اور اپنی روانگی کا معقول عذر تراشا تھا، جیسا کہ طلحہ بن عبیداللہ اور زبیر بن عوام اور کبار صحابہؓ کی ایک جماعت نے اجتہاد کیا۔ اللہ ان سب سے راضی ہو جائے۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 193)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اس بات کا شکوہ کیا کہ اس نے انھیں سفر بصرہ پر روانگی سے روکا نہیں۔ چنانچہ ابن ابی عتیق بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سامنے آئے تو تم مجھے بتلانا۔ جب وہ سامنے آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتلایا گیا کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابو عبدالرحمٰن آپ کو کس چیز نے روکا کہ آپ مجھے روانگی سے منع کریں؟ انھوں نے عرض کیا: میں نے دیکھا کہ ایک آدمی آپ پر غالب ہے اور میں یہ سمجھا کہ آپ اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔ اس سے ان کی مراد ابن زبیر رضی اللہ عنہما تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تم مجھے روکتے تو میں ضرور رک جاتی۔ یعنی جنگ جمل والے دن جائے فتنہ کی طرف نہ جاتی۔‘‘
(تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 4 صفحہ 246)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دیتیں کہ جو کچھ ہوا اللہ تبارک و تعالیٰ کی تقدیر کا حصہ تھا اور جب ان سے اس کی روانگی کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ فرماتیں: ’’تقدیر یہی تھی۔‘‘
(الزہد للامام احمد: حدیث نمبر: 165)
یہ کردار ہو بہو آدم علیہ السلام کے کردار جیسا تھا کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کو (جنت میں ممنوعہ پھل کھانے پر) ملامت کی تو آدم علیہ السلام نے تقدیر کا سہارا لیا۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی حجت بتلائی اور انھیں لاجواب کر دیا۔ گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روانگیٔ بصرہ کی تاویل نبی علیہ السلام کی اس تنبیہ پر عمل تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَاِنْ اَصَابَکَ شَیْئٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ اَنِّی فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَکَذَا وَلٰکِنْ قُلْ قَدَرُ اللّٰہِ وَمَا شَآئَ فَعَلَ فَاِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ۔
ترجمہ: ’’اور اگر تمھیں کوئی مصیبت یا صدمہ وغیرہ پہنچے تو تم یہ نہ کہو: اگر میں ایسا کرتا تو یہ یہ نتیجہ نکلتا لیکن تم یہ کہو: اللہ نے تقدیر بنائی اور جو چاہا اس نے کیا: کیونکہ ’’لَوْ‘‘ (اگر) شیطان کے عمل کی راہیں کشادہ کرتا ہے۔‘‘
(مسلم: حدیث نمبر، 2664۔ سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 79 مسند احمد: حدیث نمبر: 8573)
سیدہ رضی اللہ عنہا کی جنگ جمل میں شرکت کی حقیقی منظرکشی ہے کہ جسے منافقوں نے بدلنا چاہا۔ اس کے ذریعے وہ ہماری امی جان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں جس سے وہ بری الذمہ ہیں۔ حالانکہ وہ سفر بصرہ پر روانگی کے وقت اجتہاد کے نتیجہ میں نکلیں اور ان کے پاس ایک قدرے معقول عذر تھا۔ اگرچہ انھوں نے اجتہادی غلطی کی تاہم انھیں ایک اجر ملے گا اور ان کی خطا معاف ہو چکی ہے۔ بلکہ اجتہاد کی وجہ سے وہ ماجور ہیں۔ تاہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں علم تھا اور وہ ان کے مقام و مرتبہ کی قدر کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل پیرا تھے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ بَیْنَکَ وَ بَیْنَ عَائِشَۃَ اَمْرٌ
’’بے شک مستقبل میں تمہارے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ایک معاملہ کھڑا کر دیا جائے گا۔‘‘
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تعجب سے کہا:
اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟
’’اے اللہ کے رسول! کیا میں وہ شخص ہوں؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نَعَمْ ....’’ہاں!‘‘
پھر انھوں نے دوبارہ کہا:
اَنَا؟ ....’’کیا میں وہ بدنصیب ہوں؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
نَعَمْ....’’ہاں!‘‘
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:
فَاَنَا اَشْقَاہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!
’’اے اللہ کے رسول! گویا میں ان سب میں سے بدبخت ترین ہوں۔"‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لَا،وَ لٰکِنْ اِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَارْدُدْہَا اِلٰی مَاْمَنِہَا
’نہیں۔ ایسا نہیں ہے لیکن جب یہ معاملہ پیش آئے گا تو تم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کے اصل مستقر تک پہنچا دینا۔‘‘
(مسند احمد: حدیث نمبر: 27242 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو فتح الباری: جلد 13 صفحہ 59 پر حسن کہا۔
ابو الفداء ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین نے بصرہ سے واپسی کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس اپنا قاصد بھیجا کہ جس جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے مجھے بتا دیں۔ چاہے سواری ہو، زاد راہ ہو یا کوئی اضافی سامان وغیرہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جو ان کے ساتھ آئے تھے۔ ہاں! اگر وہ خوش دلی کے ساتھ یہاں رہنا چاہیں تو اس کی بھی انھیں اجازت ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل بصرہ کے معروف گھرانوں کی چالیس خواتین بھی ان کے ہمراہ کر دیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حقیقی بھائی محمد بن ابی بکرؓ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ جس دن عائشہ رضی اللہ عنہا کا قافلہ روانہ ہونا تھا؛ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر سے پالکی میں سوار ہو کر نکلیں تو انھوں نے لوگوں کو الوداعی کلمات کہے اور ان کے لیے دعا کی۔ انھوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! کوئی ایک دوسرے کو ملامت نہ کرے۔ اللہ کی قسم! پہلے پہلے میرے اور علی کے درمیان صرف اسی قدر معاملات تھے جیسے کسی بھی عورت اور اس کے سسرالیوں کے درمیان ہوتے ہیں اور بے شک وہ مجھے ملامت کرنے کا زیادہ حق دار و خود مختار ہے۔ ‘‘
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! انھوں نے سچی بات کی میرے اور ان کے درمیان معاملہ صرف اتنا ہی تھا، جس قدر انھوں نے بتایا اور بے شک دنیا و آخرت میں یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔
انھیں الوداع کرنے کی نیت سے اور ان کی حمایت پانے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قافلے کے ساتھ میلوں تک چلتے رہے اور اس پورے دن تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں بیٹوں کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کر دیا۔ یہ الوداعی سفر 36 ہجری رجب کے آغاز میں تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سفر میں مکہ جانے کی نیت کر لی۔ وہ مکہ میں ہی ٹھہری رہیں یہاں تک کہ اس سال حج کیا۔ پھر وہ مدینہ لوٹ آئیں۔ رضی اللہ عنہم۔‘‘
(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 472)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ جمل میں شمولیت کا خلاصہ یہ ہے:
وہ مسلمانوں کے درمیان صلح کے لیے گئی تھیں اور اپنے بلند مقام و مرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے لوگوں کے درمیان اصلاح کے لیے گئیں۔ تاکہ ان سب کے دل مل جائیں۔ سب متحد و متفق ہو جائیں۔ ہر پاک صاف و پرخلوص مومن، صاحب تقویٰ جس کا سینہ کینے سے خالی ہو، اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ ایسے لوگوں کے سربراہ علی رضی اللہ عنہ ہیں کہ جنھوں نے واقعہ افک کے حوالے سے منافقوں کے پروپیگنڈے سے متاثر لوگوں کو نئے سرے سے قوم کی شکل میں کھڑا کیا اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں جو اپنی امی کی قدر و منزلت اور جس بزرگی و شرافت کی وہ حق دار تھیں کو پہچانتے تھے۔ ویسا ہی ان کے ساتھ معاملہ کیا اور ان کے ساتھ بہترین حسن اخلاق سے بھرپور کردار نبھایا۔