پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 6

امام ابن بطال (علی بن خلف بن عبدالملک ابو الحسن قرطبی، علامہ، مالکی مسلک کے بڑے علماء میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ علم و معرفت کے دریا تھے۔ حدیث سے خصوصی شغف تھا۔ اندلس میں قاضی رہے۔ ان کی تصنیف ’’شرح البخاری‘‘ مشہور ہے۔ 449 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 18 صفحہ 47۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 282۔)رحمہ اللہ نے کہا: وہ اس حدیث ’’وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جنھوں نے اپنا معاملہ عورت کے سپرد کیا۔‘‘ کے بارے میں سیدنا ابوبکرہ ( نفیع بن حارث بن کلدہ، ابوبکرہ ثقفی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ تھے۔ جنگ جمل میں یہ دونوں فریقوں سے علیحدہ ہو گئے اور کسی کی طرف سے قتال میں حصہ نہ لیا۔ 52 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 484۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 467) رضی اللہ عنہ کے مؤقف پر تبصرہ کر رہے تھے: جہاں تک ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ حدیث سے استدلال کا موقف ہے تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کے نزدیک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے میدان جہاد میں نکلنے کی رائے ضعیف تھی۔ مہلب کہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ ابوبکرہؓ کے بارے میں مشہور یہی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے پر تھے اور میدان جہاد میں جاتے وقت ان کے ساتھ تھے۔ جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قتال کی نیت سے میدان عمل میں نہیں جا رہی تھیں، بلکہ انھیں یہ کہہ کر آمادہ کیا گیا تھا کہ آپ میدان جہاد میں آگے بڑھیں تاکہ لوگوں کے درمیان صلح کروا سکیں۔ کیونکہ آپ ان کی ماں ہیں اور وہ قتال کر کے آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے۔ اس لیے وہ نکل پڑیں اور ان کے ہمراہ بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ جو گروہ بغاوت پر اڑ گیا تو وہ بغاوت کرنے والوں سے قتال کریں گے۔ ان میں ابوبکرہ بھی شامل تھے۔ اس رائے سے انھوں نے کبھی رجوع نہ کیا۔ پھر ابن بطال رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کوئی مسلمان یہ نہیں کہتا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ساتھ کسی کے امیر ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ ہی وہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی مخالف تھیں اور نہ امارت چھیننے کے لیے انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا۔ انھوں نے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہ لینے کی وجہ سے مخالفت کی اور ان (کے قاتلوں ) پر حدود اللہ قائم کیے بغیر ان کو کھلا چھوڑنے پر ان کی مخالفت کی، اس کے علاوہ ان کا کوئی مطالبہ نہ تھا۔

( شرح صحیح البخاری لابن بطال: جلد 10 صفحہ 51)

اس نیک عزم اور اس مبارک نیت کے ساتھ جب ان کا قافلہ عَیْن (چشمہ) حَوْأَب (الحوأب: مکہ اور بصرہ کے درمیان پڑاؤ کا ایک مقام ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 456۔)  پہنچا تو انھوں نے امن و سلامتی کے لیے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور واپسی کا ارادہ کیا۔ تاکہ وہ سارے معاملے سے یک بارگی علیحدہ ہو جائیں اور اس اندیشے سے کہ کہیں کوئی انہونی پیش نہ آ جائے۔

مسند احمد اور مستدرک حاکم میں روایت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب بنو عامر کے چشموں کے پاس رات کو پہنچیں تو کتوں کے بھونکنے کی آواز آئی۔ انھوں نے پوچھا، یہ کون سا چشمہ ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ عین حوأب ہے۔ آپ نے فرمایا: مجھے یقین ہے کہ میں واپس چلی جاؤں گی۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے فرمایا تھا: تم میں سے کسی ایک کا کیا حال ہو گا جب اس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے؟ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے انھیں کہا: آپ واپس جانا چاہتی ہیں؟ ممکن ہے اللہ عزوجل آپ کے ہاتھوں سے لوگوں کے درمیان صلح کرا دے۔

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 52، حدیث نمبر: 24299۔ مسند ابی یعلیٰ: جلد 8 صفحہ 282، حدیث نمبر: 4868۔ صحیح ابن حبان: جلد 15 صفحہ 126، حدیث نمبر: 6732 ۔ مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 129۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 177 پر صحیح کہا اور البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 217 پر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا۔ اس کی سند صحیحین کی شرط پر ہے اور مجمع الزوائد: جلد 7 صفحہ 237 میں ہیثمی رحمہ اللہ نے لکھا: مسند احمد کی روایت کے سب راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 847 پر لکھا ہے کہ اس کی سند بہت ہی صحیح ہے۔ اس کے تمام راوی کتب ستہ کے ثقہ اور ثبت ہیں۔)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ اصل معاملے کی حقیقت واضح کرتے ہوئے اور ہمارے لیے حقیقت امر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا:

’’تمام لوگ صلح پر متفق ہو گئے۔ جس نے اس اتفاق کو ناپسند کیا اس نے ناپسند کیا اور جو اس پر راضی ہوا وہ راضی ہوا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف یہ خبر بتانے کے لیے قاصد بھیجا کہ وہ صلح کے لیے آئی ہیں۔ دونوں گروہوں کے لوگ خوش ہو گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو جاہلیت کے زمانہ، اس کی شقاوتوں اور اس کے اعمالِ بد کا تذکرہ کیا، پھر اسلام کا تذکرہ کیا اور اہل اسلام کی باہمی الفت و اجتماعیت کی تعریف کی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب لوگوں کو خلافت ابی بکر رضی اللہ عنہ پر جمع کیا۔

صفحہ 2 از 6