پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 6

پھر ان کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، پھر یہ حادثہ پیش آیا جسے ان لوگوں نے پروان چڑھایا جو دنیا کے طلب گار تھے۔ اس شخص سے ان کے حسد کے نتیجے میں یہ کارروائی عمل میں لائی گئی جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا تھا اور اس فضیلت کے ساتھ انھیں حسد تھا جسے اللہ تعالیٰ نے عطا کرکے احسان کیا تھا۔ انھوں نے اسلام اور دیگر معاملات کو پیچھے کی طرف لوٹانے کی کوشش کی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلوں کو نافذ کرتا ہے۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! توجہ سے سنو! میں کل واپس جا رہا ہوں تم بھی واپس چل پڑو اور جن لوگوں نے سیدنا عثمان کے قتل میں کسی قسم کی معاونت کی وہ میرے ساتھ نہ آئیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب یہ جملہ کہا تو ان لوگوں کے سرغنوں نے سر جوڑ لیے جیسے اشتر نخعی، شریح بن اوفی، عبداللہ بن سبا المعروف بابن السوداء وغیرہم جو تقریباً پچیس سو افراد کے قریب تھے اور ان میں ایک بھی صحابی نہ تھا۔ و للّٰہ الحمد۔

وہ کہنے لگے: یہ کیسی رائے ہے؟ اللہ کی قسم! جو لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل ڈھونڈ رہے ہیں ان سب سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ بہتر جانتا ہے اور وہی عمل کرنے کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ اس نے جو کچھ کہا تم نے سن لیا، صبح سب لوگ تمہارا گھیراؤ کریں گے اور سب لوگ تمھیں پکڑنے کی کوشش کریں گے تو تمہارا کیا حال ہو گا جبکہ تم ان کی اکثریت کے مقابلے میں قلیل ہو؟ تو اشتر نے کہا: ہمیں شروع دن سے طلحہ اور زبیر کی رائے معلوم تھی، لیکن علی رضی اللہ عنہ کی رائے آج سے پہلے ہم نہیں جانتے تھے۔ اس نے اگر ان سے صلح کر لی ہے تو ہمارے خونوں پر صلح کی ہے۔ اگر معاملہ یہی ہے تو ہم علی کو بھی عثمان کے ساتھ ملا دیں گے تو لوگ ہماری ہاں میں ہاں ملائیں گے۔

ابن سوداء نے کہا: تیری رائے بہت بری ہے، اگر ہم اسے قتل کریں گے تو خود بھی قتل کر دئیے جائیں گے۔ کیونکہ ہم اے عثمان کے قاتلو! پچیس سو ہیں اور طلحہ و زبیر اور ان کے ساتھی پانچ ہزار ہیں اور ہمارا ان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں۔ حالانکہ وہ سب صرف تمھیں ہی تلاش کر رہے ہیں۔

علباء بن ہیثم نے کہا: تم انھیں چھوڑو اور ہم مختلف علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ اپنا دفاع کریں گے۔ ابن سوداء نے کہا: تو نے بہت نامناسب بات کی ہے

اس طرح تو اللہ کی قسم! لوگ تمھیں اچک لیں گے۔ پھر ابن سوداء نے کہا: اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دے، اے لوگو! تمہارا غلبہ لوگوں میں مل جل کر رہنے میں پنہاں ہے۔ جب لوگ اکٹھے ہوں تم ہلہ بول دو اور ان کو تحقیق کی مہلت مت دو، تم جس کے ساتھ ہو گے وہ ضرور تمہارا دفاع کرے گا اور تم جس چیز کو ناپسند کرتے ہو اللہ تعالیٰ طلحہ، زبیر اور ان کے ساتھیوں کو اسی میں پھنسا دے گا۔ سب لوگوں نے یہ رائے پسند کی اور اسی پر مجلس برخاست ہوئی۔

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 450 )

ابن کثیر رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر لکھا:

’’وہ رات صحابہؓ کے لیے سب سے پرسکون رات تھی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کے لیے وہ رات سب سے زیادہ تلاطم خیز تھی۔ وہ متفق ہو گئے کہ جنگ کے شعلے سحری کے وقت (الغلس:رات کا آخری اندھیرا جس میں صبح کی روشنی بھی مل چکی ہو۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 377)بھڑکائیں گے۔ وہ صبح صادق کے طلوع ہونے سے پہلے اٹھ کھڑے ہوئے جو تقریباً دو ہزار کے قریب تھے۔ ان میں سے ہر جماعت اپنے پڑوس والوں پر تلواروں سے حملہ آور ہو گئی۔ جذبہ انتقام لیے ہوئے سب لوگ اپنے اپنے فریق کا دفاع کرنے لگے۔ لوگ نیند کی حالت میں ہی اپنے اپنے ہتھیاروں کی طرف بڑھے اورکہنے لگے: یہ کیا ہے؟ بصرہ والے کہنے لگے: اہل کوفہ نے ہم پر رات کے وقت ہلہ بول دیا اور ہم پر شب خون مار کر ہم سے دھوکا کیا اور وہ گمان کرنے لگے کہ اصحاب علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سازش کی گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک جب یہ خبر پہنچی تو انھوں نے کہا: لوگوں کو کیا ہوا ہے۔ ان کے ساتھیوں نے کہا اہل بصرہ نے ہم پر شب خون مارا ہے۔ ان میں سے ہر جماعت اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکی اور زرہ سمیت دیگر ہتھیار لے لیے۔‘‘

(اللامۃ: زرہ اور ایک قول کے مطابق ہتھیار مراد ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 220)

وہ گھوڑوں پر سوار ہو گئے اور کسی کو حقیقت معاملہ کا صحیح ادراک نہ تھا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو چکا تھا۔ جنگ کے الاؤ روشن ہو گئے اور دونوں لشکر ایک دوسرے کے بالمقابل ڈٹ گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیس ہزار جنگجو تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تقریباً تیس ہزار تھے۔

جنگ زوروں پر تھی اور شہسوار ایک دوسرے کو کاٹ رہے تھے اور پیادہ شجاع صفوں کے اندر گھس چکے تھے۔ پس ۔انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ جنگ کی آگ بھڑکانے والا اصل گروہ سبائی تھی جو ابن سوداء کے ہم نوا تھے۔ اللہ ان پر لعنت کرے جو قتل سے ذرا نہیں ہچکچاتے۔ اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے اعلان کرنے والا اعلان کرنے لگتا ہے کہ لوگو! رک جاؤ! لوگو! رک جاؤ! لیکن کوئی بھی نہیں سنتا۔ اسی اثنا میں قاضی بصرہ کعب آیا اور اس نے کہا: اے ام المؤمنینؓ! آپ لوگوں کو نصیحت کریں، امید ہے اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے لوگوں کے درمیان صلح کروا دے۔ تو وہ اپنے اونٹ پر پالکی میں بیٹھیں ماتحتوں نے پالکی کو زرہوں سے ڈھانپ دیا۔ وہ آگے بڑھیں اور وہاں ٹھہر گئیں جہاں وہ سب لوگوں کو ان کے مقتل میں دیکھ سکیں۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 455 )

تو یہ لوگ اصل میں جنگ کی آگ لگانے والے اور اس کے الاؤ کو بھڑکانے والے تھے جنھوں نے مومنوں کے دو گروہوں کے درمیان فساد پھیلایا اور لوگوں کو انتقام پر ابھار کر انھیں باہمی قتال پر مجبور کیا۔ وہ خوش دلی کے ساتھ مقتل میں نہیں آئے بلکہ وہ ان کے باہمی اجتہادی اختلاف کا کڑوا پھل تھا اور وہ سب مخلص تھے اور ان میں سے کوئی ایک بھی اپنے دوسرے بھائی کو معمولی سی تکلیف بھی نہیں پہنچا سکتا تھا ان سب سے زیادہ مخلص ہماری امی جان سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما تھے۔

صفحہ 3 از 6