پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 6

امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’اس دن بے شمار لوگ شہید ہوئے حتیٰ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: اے میرے بیٹے! کاش تیرا باپ آج سے بیس سال پہلے مر جاتا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اے ابا جان! میں آپ کو اس سے روکتا تھا۔‘‘

قیس بن عباد سے روایت ہے:

’’جنگ جمل والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: اے حسن! کاش تیرا باپ! بیس برس قبل مر جاتا۔ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اے ابا جان! میں آپ کو اس کام سے روکتا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بیٹے! میں سمجھتا تھا کہ معاملہ اس حد تک نہیں پہنچے گا۔‘‘

مبارک بن فضالہ نے بواسطہ حسن ابوبکرہ سے روایت کی:

’’جنگ جمل کے دن جب جنگ میں شدت آئی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھوپڑیاں اڑتی (تندر: نَدَرَ یَنْدُرُ جب کوئی چیز گر پڑے۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 5 صفحہ 199) ہوئی دیکھیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسن کو پکڑا اور انھیں اپنے سینے سے لپٹا لیا۔ پھر کہا: اے حسن! بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں، آج کے بعد کسی بھلائی کی امید کی جائے گی؟ رضی اللہ عنہما ‘‘

(العزلۃ للخطابی: صفحہ 14۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 456۔ معمولی رد و بدل کے ساتھ۔)

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حالت بھی اس سے مختلف نہ تھی۔ وہ دونوں طرف سے شہید ہونے والے مسلمانوں کے متعلق فرداً فرداً پوچھتی جاتیں اور شہداء کے لیے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتی جاتیں اور ساتھ ساتھ اپنی ندامت کا اظہار بھی کرتی جاتیں۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 10 صفحہ 471) 

علامہ ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے خاتمے کے بعد خالد بن واشمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ان کا کیا بنا، یعنی طلحہ رضی اللہ عنہ کا؟ اس نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ شہید ہو گئے۔ وہ کہنے لگیں : انا للّٰہ و انا الیہ راجعون،اللہ ان پر رحم کرے۔ فلاں نے کیا کیا؟ اس نے بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر انا للہ پڑھا اور کہا، اللہ ان پر رحم کرے اور زید اور زید کے ساتھیوں پر بھی ہم انا للہ پڑھتے ہیں۔ یعنی زید بن صوحان۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا اور زید بھی شہید ہو گیا۔ بقول خالد میں نے کہا: ہاں! انھوں نے کہا: انا للّٰہ و انا الیہ راجعون، اللہ اس پر رحم کرے۔ بقول خالد! میں نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ اس لشکر میں تھا اور وہ دوسرے لشکر میں تھا۔ آپ سب پر رحم کی دعا کر رہی ہیں؟ اللہ کی قسم! وہ کبھی بھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمھیں معلوم نہیں اللہ کی رحمت بہت زیادہ وسیع ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 289)

ام المؤمنین، عفیفۂ کائنات اپنی روانگی پر بے حد نادم تھیں اور کہتی تھیں کہ میرے لیے بہتر تھا کہ میں وہاں نہ جاتی۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا نے بصرہ کی طرف اپنی روانگی پر ندامت کا اظہار کیا اور وہ جب بھی اس سفر کو یاد کرتیں تو اتنا روتیں کہ ان کی اوڑھنی آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 6 صفحہ 208)

ابو عبداللہ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

’’یہ بات کہی جاتی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے سفر بصرہ پر مکمل طور پر نادم ہوئیں اور خصوصاً جنگ جمل میں اپنی موجودگی پر اظہار افسوس کرتیں اور وہ فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے نہیں سوچا تھا کہ معاملہ اس حد تک بگڑ جائے گا۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 177)

ہماری امی جان اس واقعہ کو یاد کرتیں اور کف افسوس ملتیں اور کہتیں میں چاہتی ہوں کاش میں گیلی ٹہنی ہوتی اور اپنے اس سفر پر کبھی روانہ نہ ہوتی۔

(مصنف ابن أبی شیبۃ: حدیث نمبر: 38973)

سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’اگر میں اپنے اس سفر پر روانگی کے بجائے بیٹھی رہتی تو یہ مجھے اس چیز سے زیادہ محبوب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے دس بیٹے ہوتے جیسے حارث بن ہشام کی اولاد ہے۔‘‘

(مصنف ابن ابی شیبۃ، حدیث نمبر: 38966)

سیدہ صدیقہ فرماتی ہیں: ’’مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوا تم مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیویوں کے ساتھ دفن کرنا۔ اس لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کو قبرستان بقیع میں دفن کیا گیا۔‘‘

امام ذہبیؒ ان کی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’میں کہتا ہوں واقعہ یا گناہ سے مراد ان کا جنگ جمل کی طرف جانا ہے بے شک انھوں نے اس پر کھل کر اپنی ندامت کا اظہار کیا اور اس سے توبہ کر لی۔ اگرچہ انھوں نے یہ کام نیک نیتی سے کیا تھا اور اپنی روانگی کا معقول عذر تراشا تھا، جیسا کہ طلحہ بن عبیداللہ اور زبیر بن عوام اور کبار صحابہؓ کی ایک جماعت نے اجتہاد کیا۔ اللہ ان سب سے راضی ہو جائے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 193)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اس بات کا شکوہ کیا کہ اس نے انھیں سفر بصرہ پر روانگی سے روکا نہیں۔ چنانچہ ابن ابی عتیق بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سامنے آئے تو تم مجھے بتلانا۔ جب وہ سامنے آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتلایا گیا کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابو عبدالرحمٰن آپ کو کس چیز نے روکا کہ آپ مجھے روانگی سے منع کریں؟ انھوں نے عرض کیا: میں نے دیکھا کہ ایک آدمی آپ پر غالب ہے اور میں یہ سمجھا کہ آپ اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔ اس سے ان کی مراد ابن زبیر رضی اللہ عنہما تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تم مجھے روکتے تو میں ضرور رک جاتی۔ یعنی جنگ جمل والے دن جائے فتنہ کی طرف نہ جاتی۔‘‘

(تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 4 صفحہ 246)

صفحہ 4 از 6