پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 6

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دیتیں کہ جو کچھ ہوا اللہ تبارک و تعالیٰ کی تقدیر کا حصہ تھا اور جب ان سے اس کی روانگی کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ فرماتیں: ’’تقدیر یہی تھی۔‘‘

(الزہد للامام احمد: حدیث نمبر: 165)

یہ کردار ہو بہو آدم علیہ السلام کے کردار جیسا تھا کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کو (جنت میں ممنوعہ پھل کھانے پر) ملامت کی تو آدم علیہ السلام نے تقدیر کا سہارا لیا۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی حجت بتلائی اور انھیں لاجواب کر دیا۔ گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روانگیٔ بصرہ کی تاویل نبی علیہ السلام کی اس تنبیہ پر عمل تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَاِنْ اَصَابَکَ شَیْئٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ اَنِّی فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَکَذَا وَلٰکِنْ قُلْ قَدَرُ اللّٰہِ وَمَا شَآئَ فَعَلَ فَاِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ۔

ترجمہ: ’’اور اگر تمھیں کوئی مصیبت یا صدمہ وغیرہ پہنچے تو تم یہ نہ کہو: اگر میں ایسا کرتا تو یہ یہ نتیجہ نکلتا لیکن تم یہ کہو: اللہ نے تقدیر بنائی اور جو چاہا اس نے کیا: کیونکہ ’’لَوْ‘‘ (اگر) شیطان کے عمل کی راہیں کشادہ کرتا ہے۔‘‘

(مسلم: حدیث نمبر، 2664۔ سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 79 مسند احمد: حدیث نمبر: 8573)

سیدہ رضی اللہ عنہا کی جنگ جمل میں شرکت کی حقیقی منظرکشی ہے کہ جسے منافقوں نے بدلنا چاہا۔ اس کے ذریعے وہ ہماری امی جان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں جس سے وہ بری الذمہ ہیں۔ حالانکہ وہ سفر بصرہ پر روانگی کے وقت اجتہاد کے نتیجہ میں نکلیں اور ان کے پاس ایک قدرے معقول عذر تھا۔ اگرچہ انھوں نے اجتہادی غلطی کی تاہم انھیں ایک اجر ملے گا اور ان کی خطا معاف ہو چکی ہے۔ بلکہ اجتہاد کی وجہ سے وہ ماجور ہیں۔ تاہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں علم تھا اور وہ ان کے مقام و مرتبہ کی قدر کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل پیرا تھے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ بَیْنَکَ وَ بَیْنَ عَائِشَۃَ اَمْرٌ

’’بے شک مستقبل میں تمہارے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ایک معاملہ کھڑا کر دیا جائے گا۔‘‘

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تعجب سے کہا:

اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟

’’اے اللہ کے رسول! کیا میں وہ شخص ہوں؟‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

نَعَمْ ....’’ہاں!‘‘ 

پھر انھوں نے دوبارہ کہا:

اَنَا؟ ....’’کیا میں وہ بدنصیب ہوں؟‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

نَعَمْ....’’ہاں!‘‘ 

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:

فَاَنَا اَشْقَاہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!

’’اے اللہ کے رسول! گویا میں ان سب میں سے بدبخت ترین ہوں۔"‘

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لَا،وَ لٰکِنْ اِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَارْدُدْہَا اِلٰی مَاْمَنِہَا

’نہیں۔ ایسا نہیں ہے لیکن جب یہ معاملہ پیش آئے گا تو تم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کے اصل مستقر تک پہنچا دینا۔‘‘

(مسند احمد: حدیث نمبر: 27242 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو فتح الباری: جلد 13 صفحہ 59 پر حسن کہا۔

ابو الفداء ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین نے بصرہ سے واپسی کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس اپنا قاصد بھیجا کہ جس جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے مجھے بتا دیں۔ چاہے سواری ہو، زاد راہ ہو یا کوئی اضافی سامان وغیرہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جو ان کے ساتھ آئے تھے۔ ہاں! اگر وہ خوش دلی کے ساتھ یہاں رہنا چاہیں تو اس کی بھی انھیں اجازت ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل بصرہ کے معروف گھرانوں کی چالیس خواتین بھی ان کے ہمراہ کر دیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حقیقی بھائی محمد بن ابی بکرؓ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ جس دن عائشہ رضی اللہ عنہا کا قافلہ روانہ ہونا تھا؛ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر سے پالکی میں سوار ہو کر نکلیں تو انھوں نے لوگوں کو الوداعی کلمات کہے اور ان کے لیے دعا کی۔ انھوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! کوئی ایک دوسرے کو ملامت نہ کرے۔ اللہ کی قسم! پہلے پہلے میرے اور علی کے درمیان صرف اسی قدر معاملات تھے جیسے کسی بھی عورت اور اس کے سسرالیوں کے درمیان ہوتے ہیں اور بے شک وہ مجھے ملامت کرنے کا زیادہ حق دار و خود مختار ہے۔ ‘‘

تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! انھوں نے سچی بات کی میرے اور ان کے درمیان معاملہ صرف اتنا ہی تھا، جس قدر انھوں نے بتایا اور بے شک دنیا و آخرت میں یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔

انھیں الوداع کرنے کی نیت سے اور ان کی حمایت پانے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قافلے کے ساتھ میلوں تک چلتے رہے اور اس پورے دن تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں بیٹوں کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کر دیا۔ یہ الوداعی سفر 36 ہجری رجب کے آغاز میں تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سفر میں مکہ جانے کی نیت کر لی۔ وہ مکہ میں ہی ٹھہری رہیں یہاں تک کہ اس سال حج کیا۔ پھر وہ مدینہ لوٹ آئیں۔ رضی اللہ عنہم۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 472)

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ جمل میں شمولیت کا خلاصہ یہ ہے:

صفحہ 5 از 6