ممانعت متعہ کی احادیث
مولانا اللہ یار خانؒممانعت متعہ کی احادیث
شیعہ علی نقی نے متعہ اور اسلام کے صفحہ 173 پر جا کر حرمتِ متعہ کی احادیث کا انکار کر دیا ہے اور کیوں کیا اور ایسا کیوں ہوا؟ چونکہ ان صحیح اور مشہور احادیث کا جواب تو اس غریب سے بن نہ آیا تو آخر انکار تو مشکل ہی نہ تھا وہ تو آسان ہے ہر جاہل بھی کر سکتا ہے مگر اتنا میں ضرور دریافت کروں گا۔ کہ شیعہ علی نقی نے جوازِ متعہ کی احادیث کا انکار کیونکر نہیں کیا اس کی کیا وجہ ہے مگر حرمتِ متعہ کی احادیث کا فوری انکار کر دیا اور فرما دیا اور ہمارے لیے آسان ہے کہ ہم کہہ دیں کہ یہ حدیثیں غلط و بے بنیاد حقیقت سے علیحدہ ہیں خوب مگر افسوس ہے ایسے محقق پر جو فرمانِ رسول اللہﷺ کو اور فرمانِ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اور سیدنا جعفر صادقؒ کو اور اجماعِ امت کو پس پشت ڈال رہے ہیں شیعہ علی نقی کو ایسی تحقیق کا ماتم کرنا چاہیئے متعہ جو بے بنیاد چیز ہے اس کو تو بنیادی فرماتے ہیں اور اس کی حرمت جو بنیادی حکم ہے اس کو بے بنیاد فرماتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں کہ احادیث حرمتِ متعہ میں اختلاف ہے کسی میں آتا ہے کہ خیبر کے دن حرام ہوا کسی میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے دن حرام ہوا کسی میں آتا ہے عام اوطاس میں حرام ہو کسی میں آتا ہے کہ عمرۃ القضاء کے دن حرام ہوا۔ اور کسی میں تبوک کا دن ہے۔ شیعہ علی نقی اگر ان احادیث کی سمجھ نہ آئی تھی تو کسی سنی محدث سے دریافت کر لیا ہوتا۔
شیعہ علی نقی اب ذرا خدا کے لئے سمجھنے کی کوشش کرنا حرمتِ متعہ میں کسی کو اختلاف نہیں تمام امت کا اجماع ہے کہ متعہ حرام ہو چکا ہے اور قیامت تک حرام ہی رہے گا۔ جو اختلاف ہوا ہے وقت کی تعیین میں پیدا ہوا ہے نہ کہ حرمتِ متعہ پر تو تمام کا اتفاق ہے صرف اختلاف اس میں ہوا ہے کہ کس دن ہوا اور وقت کا اختلاف حرمتِ متعہ میں اختلاف نہیں پیدا کر سکتا سوچ لیں خیبر کے دن متعہ حرام ہوا، فتح مکہ کے دن قیامت تک کے لئے نکاحِ مؤقت جو متعہ کی قسم ہے من وجہ وہ حرام ہوا جب حضور انورﷺ نے قیامت تک کی قید لگا دی تو اب فتح مکہ کے بعد اباحت کا امکان بھی اٹھ گیا اور احتمال نسخ کا بھی ختم ہو گیا قیامت تک کی قید سے تو اب جو روایت بعد فتح مکہ کے متعہ کی اباحت بیان کرے گی وہ یقیناً معلول ہوگی ضعیف ہو گی غیر مقبول ہوگی۔
فتح الباری: صفحہ 133 جلد 9:
ولبعيد ان یقع الاذن فی غزوة اوطاس بعد أن يقع التصريح قبلها فی غزوة الفتح انها حرمت إلى يوم القيامة واذا تقرر ذلك فلا يصح من الروايا بغير علة الاغزوة الفتح۔ (فتح البارى: صفحہ 135جلد 9) فلم يبقى من المواطن كما قلنا صحيحا صريحيا سوى غزوة خيبر و غزوة الفتح۔ اور یہ بات بہت بعید ہے کہ غزوہ اوطاس میں متعہ کی اجازت ہوئی ہو جبکہ اس سے پہلے غزوہ فتح مکہ میں قیامت تک کے لئے رسول اللہﷺ نے حرمتِ متعہ کا اعلان فرما دیا تھا جب یہ بات مقرر ہوگئی تو پس اب کوئی روایت بھی صحیح نہ ہوگی سوائے فتح مکہ کے پس کوئی موضع نہ رہا جیسا ہم نے کہا ہے صحیح اور صاف صاف سوائے خیر اور فتح مکہ کے۔
فائدہ: معلوم ہوا کہ عام اوطاس اور عام مکہ سے فتح مکہ مراد ہوتی ہے بعد فتح مکہ متعہ کی اباحت کا اعلان نہیں ہوا۔ دونوں چونکہ ایک سال واقع ہوئے ہیں فتح مکہ پر اوطاس بول دیا جاتا ہے باقی روایت عمرہ قضاء کی یہ سخت ضعیف ہے قابلِ حجت نہیں۔
شیعہ علی نقی جو حدیث اہلِ سنت کے محدثین سے پیش کریں تو دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ محدثین کے مقرر کردہ اصول کے مطابق پیش کریں اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ کو اختلاف کی حدیثیں نظر آجاتی ہیں مگر ان پر جو محدثین نے جو جرح کی ہے وہ نظر نہیں آتی اور ان میں جو تطبیق محدثین نے دی ہے وہ بھی آپ کو نظر نہیں آتی۔ کیا آپ کے مذہب میں اسی کو اجتہاد اور تحقیق کہتے ہیں۔
فتح الباری: صفحہ 134 جلد 9:
و اما عمرة القضاء فلا يصح الاثر فيها لكونه مرسل الحسن ومراسيلة ضعيفة لانه ياخذ عن كل احد۔
باقی عمرہ قضاء کی حدیث پس یہ صحیح نہیں چونکہ یہ مرسل ہے امام حسن بصریؒ کی اور ان کی مراسیل ضعیف ہوتے ہیں وہ ہر ایک آدمی سے لے لیتے ہیں۔
باقی حجتہ الوداع کی روایت دونوں قسم کی بسرہ سے آتی ہیں فتح مکہ کے دن کی اور حجتہ الوداع کے دن کی مگر زیادہ مشہور فتح مکہ ہے لہٰذا عمل اسی پر ہوگا نہ حجتہ الوداع والی پر۔
فتح الباری: صفحہ 135:
واما حجة الوداع فهو اختلاف على الربيع بن بسرة والرواية عنه والنهى عنه بأنها فی الفتح اصح و اشهر۔
حجتہ الوداع کی روایت میں ربیع بن بسرہ سے اختلاف ہے دونوں کا راوی ہی ایک آدمی ہے روایت بھی اسی سے ہے اور منع متعہ بھی اسی سے ہے مگر فتح مکہ کی روایت حجتہ الوداع سے زیادہ صحیح اور مشہور ہے لہٰذا اسی پر عمل ہوگا۔
باقی رہی تبوک کے دن متعہ کی اباحت ہرگز نہیں یہ روایت حضرت ابو ہریرہؓ سے آتی ہے اس روایت میں راوی ضعیف ہیں۔
علوان فی حديث ابى هريرةؓ مقالا فانه من الرواية موصل بن اسماعيل عن عكرمة بن عمار وفی كل منها فقال واما حديث جابرؓ فلا يصح فانه من طريق عباد بن كثير وهو متروك۔ (فتح الباری: صفحہ 135 جلد 9) علاوہ ازیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پر اعتراض ہے چونکہ یہ روایت موصل بن اسماعیل سے ہے وہ سیدنا عکرمہ بن عمارؓ سے بیان کرتا ہے مگر یہ دونوں ضعیف ہیں باقی حدیثِ سیدنا جابرؓ کی پس وہ بھی ضعیف ہے اس میں عباد بن کثیر اور کثیر ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔
فائدہ: شیعہ علی نقی اختلافِ احادیث جو متعہ کے متعلق تھیں وہ تو آپ کو نظر آئیں اس کی کیا وجہ ہے کہ جرح اور اختلاف کو ختم کرنے والی باتیں تم کو نظر نہ آئیں کیا اسی کا نام دیانتداری اور تحقیق ہے؟ مبارک باد۔