جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید
علی محمد الصلابیپہلا شبہ
اہل تشیع کا یہ کہنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑائی کے لیے نکلنا ظلم و زیادتی تھا۔
وہ ایک حدیث سے استدلال کرتے ہیں جسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرتے ہیں: ’’تم علی سے قتال کرو گی اور تم اس پر ظلم کرو گی۔‘‘
اسی طرح وہ ایک اور روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں جسے مجلسی نے ’’بحار الانوار‘‘ میں صادق علیہ السلام سے وہ اپنے آباء سے پرندہ کھانے والی حدیث میں روایت کرتا ہے کہ علی علیہ السلام دو بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئے لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے دروازے سے واپس کر دیا جب وہ تیسری بار آئے اور انھوں نے ساری بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمیرا! مجھے یہ معاملہ صرف اسی طرح قبول تھا۔ تمھیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انھوں نے کہا: اے رسول اللہ! میری خواہش تھی کہ میرے ابا جان یہ پرندہ کھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ’’تمہارے اور علی کے درمیان یہ کوئی پہلی کینہ پروری نہیں۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے تمہارے دل میں علی کے متعلق کیا ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو تم علی کے ساتھ ضرور قتال کرو گی۔ اس نے کہا: اے رسول اللہ! عورتیں بھی کبھی مردوں سے قتال کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ’’اے عائشہ! تم علی سے ضرور قتال کرو گی اور اس فعل کی دعوت تمھیں میرے اہل بیت اور میرے اصحاب کا ایک گروہ دے گا اور وہ تمھیں اس فعل پر مجبور کر دیں گے اور تمہارے اس قتال میں ایک ایسا معاملہ پیش آئے گا جس کی حکایت اگلے اور پچھلے بیان کریں گے۔ ‘‘
(دیکھیں: بحار الانوار للمجلسی: جلد 32 صفحہ 93۔ الاحتجاج للطبری: جلد 1 صفحہ 293۔ مدینہ المعاجز لہاشم البحرانی: جلد 1 صفحہ 390، 391)
شبہ کا ازالہ:
اول: یہ روایات شیعوں کی وضع کردہ باطل اور جھوٹ کا پلندہ ہیں، ایسی جتنی بھی روایات ہیں اور وہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرتے ہیں محض جھوٹ پر مبنی ہیں، معتبر علمی کتابوں میں ایسی کوئی روایت نہیں اور نہ ہی ان کی اسناد معروف ہیں۔ وہ صحیح احادیث کی نسبت موضوعات سے زیادہ مشابہت رکھتی ہیں، بلکہ وہ جھوٹ ہیں۔
(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 212، 213۔)
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا:
اور وہ حدیث جو اس نے نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم ظالمانہ طور پر علی سے قتال کرو گی۔ یہ روایت کسی معتبر علمی کتاب میں نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی معروف سند ہے اور یہ صحیح احادیث کی نسبت موضوع اور مکذوب سے زیادہ مشابہ ہے بلکہ یہ سرے سے ہی جھوٹ ہے۔
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 316)
دوم: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معروف و مشہور موقف یہی ہے کہ وہ صحابہ کرامؓ کے جلو میں لوگوں کے درمیان صلح کے لیے روانہ ہوئیں، ان کی نیت قتال کی نہ تھی۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا:
’’بے شک سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نہیں قتال کیا اور نہ وہ قتال کے ارادے سے روانہ ہوئیں۔ بلکہ وہ تو مسلمانوں کے درمیان صلح اور اصلاح احوال کے لیے گئیں اور وہ سوچ رہی تھیں کہ ان کی روانگی میں مسلمانوں کی مصلحت پنہاں ہے اور جنگ جمل والے دن کسی صحابی کا قتال کا ارادہ نہ تھا۔ لیکن ان پر قتال ان کے ارادے کے بغیر مسلط کر دیا گیا۔ کیونکہ جب علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے درمیان مراسلت ہوئی تو سب اصلاح کے لیے متفق ہو گئے اور یہ کہ جب انھیں حالات پر کنٹرول حاصل ہو گیا تب اہل فتنہ سے عثمان کے قاتلوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ کریں گے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتلِ عثمان پر خوش نہ تھے اور نہ ہی انھوں نے اس میں معاونت کی تھی۔ جیسا کہ وہ حلفاً کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی میں نے قتل عثمان میں معاونت کی۔
چنانچہ وہ اپنی قسم میں سچے اور محسن ہیں، تب قاتل اس اتفاق سے لرز اٹھے اور انھوں نے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کے خیموں پر حملہ کر دیا۔ سیدنا طلحہ اور زبیر نے سمجھا کہ سیدنا علیؓ نے ان پر حملہ کیا ہے تو انھوں نے اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھا لیے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ سوچا کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے ان پر حملہ کر دیا تو انھوں نے بھی اپنے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھا لیے۔ تو ان کے اختیار کے بغیر فتنہ برپا ہو گیا۔ جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے اونٹ پر پالکی میں سوار تھیں نہ تو وہ قتال میں شریک ہوئیں اور نہ انھوں نے قتال کا حکم دیا۔ اکثر مورخین و سیرت نگاروں نے ایسے ہی لکھا ہے۔
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 316۔ شبہات حول الصحابۃ و ام المؤمنین عائشۃ لمحمد مال اللہ: صفحہ 14)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اصلاح کے لیے روانہ ہوئیں۔ یہ سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات پر غور کرنا ضرورت ہے:
1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بزبان خود فرما رہی ہیں کہ وہ اصلاح کے لیے جا رہی ہیں۔ چنانچہ طبری نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے:
’’قعقاع (علی رضی اللہ عنہ کا نمائندہ) بصرہ پہنچا اور سب سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے امی جان! آپ خصوصاً اس شہر میں کیوں تشریف لائی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بیٹے! لوگوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے۔‘‘
(الفتنۃ و وقعۃ الجمل لسیف ابن عمر: صفحہ 145۔ تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 488۔ الکامل فی التاریخ لابن اثیر: جلد 2 صفحہ 591)
2۔ یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تحریر کیا کہ وہ لوگوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے سفر پر روانہ ہوئی ہے۔ چنانچہ ابن حبان نے اپنی کتاب ’’الثقات‘‘ میں روایت کی:
’’زید بن صوحان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے دو خط لے کر آیا۔ ایک حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام اور ایک اہل کوفہ کی طرف تھا دونوں مکتوبات کا ایک جیسا متن تھا:
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
’’ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے عبداللہ بن قیس اشعری کے نام، تم پر سلامتی ہو۔ میں تمہاری طرف اللہ کی حمد کرتی ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
بعد ازیں! قتلِ عثمان کا واقعہ آپ کے علم میں ہے۔ میں لوگوں کے درمیان اصلاح احوال کے لیے یہاں آئی ہوں۔ آپ اپنے ماتحتوں کے گھروں تک یہ اقرار نامہ پہنچا دیں اور خوش دلی کے ساتھ ان کی رضامندی حاصل کریں، تاکہ وہ مسلمانوں کے معاملات کی اصلاح کے لیے وہی کچھ کریں جو وہ چاہتے ہیں، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں نے جماعت کو بکھیر دیا اور اپنے لیے ہلاکت تجویز کر لی۔‘‘
(الثقات لابن حبان: جلد 2 صفحہ 282)
3۔ یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صلح نامے پر دستخط کیے۔ چنانچہ سیرت کی کتابوں میں درج ہے:
’’اس دن طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کچھ دیر تک لڑائی جاری رہی۔ لوگ پیچھے ہٹنے لگے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صلح پر دستخط کر رہی تھیں۔‘‘
( الفتنۃ و وقعۃ الجمل لسیف ابن عمر: صفحہ 168۔ تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 52۔)
4۔ جب جنگ جمل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو غلبہ حاصل ہوا تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ کی بھی۔ میں تو صرف اصلاح کی نیت سے آئی تھی۔‘‘
(شذرات الذہب لابن العماد: جلد 1 صفحہ 42)
گزشتہ نکات کا خلاصہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف قتال یا ان کے ساتھ خلافت کے تنازع کے لیے نہیں آئیں بلکہ وہ محض لوگوں کے درمیان اصلاح کے لیے آئی تھیں۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا:
’’وہ نہ تو لڑیں اور نہ لڑنے کے لیے آئیں، بلکہ وہ مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی نیت سے آئیں اور ان کو یہ گمان تھا کہ ان کے آنے میں مسلمانوں کی مصلحت پنہاں ہے، پھر بعد میں انھیں یقین ہو گیا کہ سفر نہ کرنا ان کے لیے زیادہ بہتر تھا۔ وہ جب بھی اپنی روانگیِ سفر کو یاد کرتیں اتنا روتیں کہ ان کی اوڑھنی آنسوؤں سے بھیگ جاتی۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 316)
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے لکھا:
’’ام المؤمنین اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے۔ ان میں سے کسی نے کبھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت کو باطل نہ کہا اور نہ ہی ان کی امامت پر کوئی عیب لگایا اور نہ ہی ان کی ذات پر کوئی ایسا الزام لگایا جو انھیں امامت کے منصب سے گرانے کا باعث ہو اور نہ ہی انھوں نے کسی اور کو امام بنایا اور نہ ہی کسی اور کی بیعت لی۔ ایسا کہنے کی کسی کو کسی بھی طرح مجال نہیں۔ بلکہ ہر صاحب علم کو یقین ہے کہ ایسا قطعاً نہیں ہوا۔ اگر کسی کو ان تمام باتوں میں کوئی شک نہیں تو اس سچ کا صحیح ہونا بھی یقینی ہے کہ وہ لوگ مدینہ سے بصرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کے لیے نہیں گئے تھے اور نہ ہی اس کی مخالفت ان کا مقصد تھی اور اگر ان کا ایسا کوئی ارادہ ہوتا تو وہ اس کی بیعت کے بعد نئے سرے کسی اور کی بیعت کرتے۔ لیکن انھوں نے ایسا کچھ نہ کیا۔ اس میں بھی کسی کو کوئی شک نہیں اور نہ ہی اس سے کسی کو انکار ہے تو پھر یہ سچ ہے کہ وہ بصرہ اس لیے گئے تاکہ اسلام میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت سے جو زخم لگ چکا تھا وہ اس پر مرہم رکھیں۔‘‘
(الفصل فی الملل و النحل لابن حزم: جلد 4 صفحہ 123 )
ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’ان کا مقصد قتال نہ تھا، لیکن جب جنگ نے اپنے خونخوار پنجے گاڑ دیئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھیوں کے لیے قتال کے بغیر کوئی چارہ نہ رہا اور ان کے ساتھیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کی خلافت میں کوئی نزاع پیدا کیا اور نہ ہی انھوں نے کسی کو خلافت کا منصب سنبھالنے کی دعوت دی۔ بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس رویے کا انکار کیا جو انھوں نے قاتلین عثمان سے قصاص نہ لے کر ظاہر کیا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ورثاء سے یہ امید کرتے تھے کہ وہ اس کے پاس یہ مقدمہ لے کر آئیں، تو جب کسی شخص معین کے بارے میں ثابت ہو جائے گا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں شریک ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھیوں کا اس طریقہ کار سے اختلاف تھا۔ جن لوگوں پر قتلِ عثمان کا الزام تھا وہ اس بات سے ڈر گئے کہ اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علیؓ کے درمیان صلح ہو گئی تو انھیں قتل کر دیا جائے گا۔ لہٰذا انھوں نے سب مسلمانوں کو جنگ میں الجھا دیا۔ بالآخر جو نتیجہ نکلا سو نکلا۔‘‘
(فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 56)
اہل تشیع یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ’’جاننے کے باوجود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کر کے کفر کا ارتکاب کیا۔‘‘چنانچہ حدیث میں ہے:
’’اے علی! میری جنگ تمہاری جنگ ہے اور میرا امن تمہارا امن ہے۔‘‘
اور دوسری حدیث ہے:
لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا، یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
ترجمہ: ’’میرے بعد تم دوبارہ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جاؤ۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 121۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 65۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں)
پہلی حدیث کا جواب:
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’محدثین کی معروف کتابوں میں اس طرح کی کوئی حدیث نہیں اور نہ ہی اس کی اسناد معروف ہیں اور اگر بالفرض نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا بھی ہو تب بھی یہ لازم نہیں آتا کہ ان سب نے اسے سنا ہو۔ کیونکہ تمام صحابہ کرامؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام فرامین نہیں سن سکتے۔ تو پھر جب معاملہ اس طرح ہو کہ معلوم ہی نہیں کہ یہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی معروف سند ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہے کہ محدثین کے اتفاق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے یہ جھوٹ وضع کیا گیا تو کیسے اسے دلیل بنایا جا سکتا ہے۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 496)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’ان ذلیلوں پر سب سے بڑی مصیبت کے نازل ہونے پر کوئی تعجب نہ کرے کہ وہ اتنا بڑا اصول ایسی حدیث سے ثابت کر رہے ہیں جو حدیث کے معتمد علیہ مجموعوں میں سے کسی میں موجود نہیں، نہ تو وہ صحاح میں ہے نہ سنن میں، نہ مسانید میں اور نہ ہی فوائد میں اور نہ ہی محدثین کی روایت کردہ کسی اور کتاب میں جو علماء حدیث کے درمیان متداول ہو۔ ان کے نزدیک نہ یہ حدیث صحیح ہے، نہ حسن ہے نہ ضعیف ہے۔ بلکہ وہ اس سے بھی گئی گزری ہے اور وہ جھوٹ کے لحاظ سے واضح ترین موضوع روایت ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت متواترہ معلومہ کے خلاف ہے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں گروہوں کو مسلمان کہا ہے۔
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 8 صفحہ 533)
دوسری حدیث کی وضاحت:
اس حدیث میں وارد کفر کو صرف خوارج ہی کفر اکبر کہتے ہیں جو ملت اسلامیہ سے خارج کرنے کا باعث ہوتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک کبیرہ گناہ کا مرتکب مسلمان کافر ہو جاتا ہے اور یہ بخوبی معلوم ہے کہ یہ رائے واضح گمراہی ہے اور بے شمار نصوص قرآن و حدیث سے متصادم ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا ۞ (سورة النساء آیت 48)
ترجمہ: بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے وہ ایسا بہتان باندھتا ہے جو بڑا زبردست گناہ ہے۔
اس آیت میں توبہ کے بغیر مرنے والے کا ذکر ہے کیونکہ نص قرآنی اور مسلمانوں کے اجماع کے
مطابق توبہ کرنے والے کے لیے مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا۞ (سورۃ الحجرات آیت 9)
ترجمہ: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی باہمی لڑائی کے باوجود انھیں مومن کہا ہے، پھر اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَ اَخَوَيۡكُمۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞ (سورۃ الحجرات آیت 10)
ترجمہ: حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اخوت کی نفی نہیں کی اور خوارج اور ان کی طرح جو یہ تاویل باطل کرتے ہیں ان کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ جہنمی کتے ہیں اور قرآن ان کے گلوں سے آگے نہیں جاتا۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3610۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1064)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایسی متعدد صحیح احادیث موجود ہیں اور جس حدیث سے وہ استدلال کرتے ہیں وہ اپنے موضوع پر تنہا نہیں بلکہ اس طرح کے فرامین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت موجود ہیں۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَ قِتَالُہٗ کُفْرٌ۔
ترجمہ: ’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 48۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 64)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اِثْنَتَانِ فِی النَّاسِ ہُمَا بِہِمْ کُفْرٌ ، اَلطَّعْنُ فِی النَّسَبِ وَالنَّیَاحَۃِ۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 67)
ترجمہ: ’’لوگوں میں دو عادات ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ کافر ہو جاتے ہیں؛ حسب و نسب میں طعن و تشنیع اور نوحہ (بین) کرنا۔‘‘
ان احادیث کی صحیح تاویل حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یوں کی ہے، وہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔‘‘ اس حدیث میں خوارج کی کوئی دلیل نہیں، کیونکہ اس کے ظاہری الفاظ کے حقیقی معانی مراد نہیں۔ لیکن جب لڑائی گالی سے زیادہ سخت تھی چونکہ اس کے ذریعے جانوں کا ضیاع ہوتا ہے تو اس کے نتیجے کو ظاہر کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فسق سے بھی بڑا لفظ بولا اور وہ کفر ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد حقیقی کفر نہیں جس کے بعد ایک مسلمان امت مسلمہ سے خارج ہو جاتا ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احتیاط میں مبالغے کے لیے کفر کا استعمال کیا ہے اور مقرر قواعد پر اعتماد کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ اس طرح کے افعال ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتے جیسے حدیث شفاعت ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ۞ (سورة النساء آیت 48)
ترجمہ: بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے۔ معاف کر دیتا ہے۔
یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فعل پر کفر کا اطلاق اس لیے فرمایا کہ یہ اس کے مشابہ ہے کیونکہ مومن کے ساتھ صرف کافر ہی لڑتا ہے۔‘‘
(فتح الباری لابن حجر: جلد 1 صفحہ 112)
اس مقام پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حدیث کی تاویل کی کچھ اور وجوہ بھی ذکر کی ہیں اور یہ حکم اس لیے ہے جو عمداً بلکہ بغیر کسی محرک کے ظلم و زیادتی کرے لیکن جو اجتہاد کرے اور وہ اجتہاد کی اہلیت بھی رکھتا ہو، پھر اس سے اجتہاد میں غلطی ہو جائے تو وہ اصولی طور پر اس وعید میں داخل ہی نہیں بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مفہوم میں داخل ہے:
اذا اجتہد الحاکم فاصاب فلہ اجران، و اذا اجتہد فاخطا فلہ اجر
ترجمہ: ’’جب حاکم اجتہاد کرے اور اس کا اجتہاد صحیح ہو تو اسے دو اجر ملیں گے اورجب وہ اجتہاد میں غلطی کرے تو اسے ایک اجر ملے گا۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 7352۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1716)
پھر یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جن خوارج نے قتال کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کافر نہیں کہا۔ بلکہ خوارج کے اجماع کے مطابق وہ کافر ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کی پہچان نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر کروائی ہے کہ وہ یہ حدیث عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس کا متن یہ ہے ’’جب حاکم فیصلہ اجتہاد سے کرے اگر اس کا فیصلہ صحیح ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب وہ اجتہاد کے ذریعے فیصلہ کرے اور غلطی کرے تو اسے ایک اجر ملے گا۔‘‘
جہنمی کتے ہیں۔
طارق بن شہاب (طارق بن شہاب بن عبد شمس ابو عبداللہ البجلی۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سن نہ سکے۔ 82 ہجری کے لگ بھگ وفات پائی۔ (الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 510۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 3 صفحہ 6)سے روایت ہے:
’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اہل نہروان (خوارج) کے قتال سے فارغ ہوئے تو میں ان کے پاس تھا۔ اس سے پوچھا گیا کیا وہ مشرک ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ شرک سے تو بھاگے ہیں۔ پھر کہا گیا تو وہ منافقین ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: منافقین اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔ پوچھا گیا، تو پھر وہ کون ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں نے ہم سے بغاوت کی تو ہم نے ان سے قتال کیا۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 5 صفحہ 242۔ محمد بن نصر کی روایت سے اسے نقل کیا۔)
یہ بالکل صریح روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں کافر نہیں کہا۔ حالانکہ ان (خوارج) کی تاویل غیر مناسب تھی لیکن ان کے لیے شبہ کی موجودگی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو انھیں کافر کہنے سے روک دیا۔ تو پھر جو لوگ اجتہاد کی اہلیت رکھتے ہوں اور انھوں نے اجتہاد کیا، لیکن انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کفر کی تہمت بالکل نہیں لگائی، بلکہ جیسا کہ ہم تحریر کر چکے ہیں کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قتال کا ارادہ بھی نہیں کیا (تو وہ کافر کیسے ہو گئے؟)