جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید - دفاعِ اہلِ…

جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

پہلا شبہ

اہل تشیع کا یہ کہنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑائی کے لیے نکلنا ظلم و زیادتی تھا۔

وہ ایک حدیث سے استدلال کرتے ہیں جسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرتے ہیں: ’’تم علی سے قتال کرو گی اور تم اس پر ظلم کرو گی۔‘‘

اسی طرح وہ ایک اور روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں جسے مجلسی نے ’’بحار الانوار‘‘ میں صادق علیہ السلام سے وہ اپنے آباء سے پرندہ کھانے والی حدیث میں روایت کرتا ہے کہ علی علیہ السلام دو بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئے لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے دروازے سے واپس کر دیا جب وہ تیسری بار آئے اور انھوں نے ساری بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمیرا! مجھے یہ معاملہ صرف اسی طرح قبول تھا۔ تمھیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انھوں نے کہا: اے رسول اللہ! میری خواہش تھی کہ میرے ابا جان یہ پرندہ کھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ’’تمہارے اور علی کے درمیان یہ کوئی پہلی کینہ پروری نہیں۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے تمہارے دل میں علی کے متعلق کیا ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو تم علی کے ساتھ ضرور قتال کرو گی۔ اس نے کہا: اے رسول اللہ! عورتیں بھی کبھی مردوں سے قتال کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ’’اے عائشہ! تم علی سے ضرور قتال کرو گی اور اس فعل کی دعوت تمھیں میرے اہل بیت اور میرے اصحاب کا ایک گروہ دے گا اور وہ تمھیں اس فعل پر مجبور کر دیں گے اور تمہارے اس قتال میں ایک ایسا معاملہ پیش آئے گا جس کی حکایت اگلے اور پچھلے بیان کریں گے۔ ‘‘

(دیکھیں: بحار الانوار للمجلسی: جلد 32 صفحہ 93۔ الاحتجاج للطبری: جلد 1 صفحہ 293۔ مدینہ المعاجز لہاشم البحرانی: جلد 1 صفحہ 390، 391)

شبہ کا ازالہ:

اول: یہ روایات شیعوں کی وضع کردہ باطل اور جھوٹ کا پلندہ ہیں، ایسی جتنی بھی روایات ہیں اور وہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرتے ہیں محض جھوٹ پر مبنی ہیں، معتبر علمی کتابوں میں ایسی کوئی روایت نہیں اور نہ ہی ان کی اسناد معروف ہیں۔ وہ صحیح احادیث کی نسبت موضوعات سے زیادہ مشابہت رکھتی ہیں، بلکہ وہ جھوٹ ہیں۔

 (الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 212، 213۔)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا:

اور وہ حدیث جو اس نے نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم ظالمانہ طور پر علی سے قتال کرو گی۔ یہ روایت کسی معتبر علمی کتاب میں نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی معروف سند ہے اور یہ صحیح احادیث کی نسبت موضوع اور مکذوب سے زیادہ مشابہ ہے بلکہ یہ سرے سے ہی جھوٹ ہے۔

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 316)

دوم: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معروف و مشہور موقف یہی ہے کہ وہ صحابہ کرامؓ کے جلو میں لوگوں کے درمیان صلح کے لیے روانہ ہوئیں، ان کی نیت قتال کی نہ تھی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا:

’’بے شک سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نہیں قتال کیا اور نہ وہ قتال کے ارادے سے روانہ ہوئیں۔ بلکہ وہ تو مسلمانوں کے درمیان صلح اور اصلاح احوال کے لیے گئیں اور وہ سوچ رہی تھیں کہ ان کی روانگی میں مسلمانوں کی مصلحت پنہاں ہے اور جنگ جمل والے دن کسی صحابی کا قتال کا ارادہ نہ تھا۔ لیکن ان پر قتال ان کے ارادے کے بغیر مسلط کر دیا گیا۔ کیونکہ جب علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے درمیان مراسلت ہوئی تو سب اصلاح کے لیے متفق ہو گئے اور یہ کہ جب انھیں حالات پر کنٹرول حاصل ہو گیا تب اہل فتنہ سے عثمان کے قاتلوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ کریں گے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتلِ عثمان پر خوش نہ تھے اور نہ ہی انھوں نے اس میں معاونت کی تھی۔ جیسا کہ وہ حلفاً کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی میں نے قتل عثمان میں معاونت کی۔

چنانچہ وہ اپنی قسم میں سچے اور محسن ہیں، تب قاتل اس اتفاق سے لرز اٹھے اور انھوں نے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کے خیموں پر حملہ کر دیا۔ سیدنا طلحہ اور زبیر نے سمجھا کہ سیدنا علیؓ نے ان پر حملہ کیا ہے تو انھوں نے اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھا لیے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ سوچا کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے ان پر حملہ کر دیا تو انھوں نے بھی اپنے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھا لیے۔ تو ان کے اختیار کے بغیر فتنہ برپا ہو گیا۔ جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے اونٹ پر پالکی میں سوار تھیں نہ تو وہ قتال میں شریک ہوئیں اور نہ انھوں نے قتال کا حکم دیا۔ اکثر مورخین و سیرت نگاروں نے ایسے ہی لکھا ہے۔

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ:  جلد 4 صفحہ 316۔ شبہات حول الصحابۃ و ام المؤمنین عائشۃ لمحمد مال اللہ: صفحہ 14)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اصلاح کے لیے روانہ ہوئیں۔ یہ سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات پر غور کرنا ضرورت ہے:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بزبان خود فرما رہی ہیں کہ وہ اصلاح کے لیے جا رہی ہیں۔ چنانچہ طبری نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

’’قعقاع (علی رضی اللہ عنہ کا نمائندہ) بصرہ پہنچا اور سب سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے امی جان! آپ خصوصاً اس شہر میں کیوں تشریف لائی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بیٹے! لوگوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے۔‘‘

(الفتنۃ و وقعۃ الجمل لسیف ابن عمر: صفحہ 145۔ تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 488۔ الکامل فی التاریخ لابن اثیر: جلد 2 صفحہ 591)

2۔ یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تحریر کیا کہ وہ لوگوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے سفر پر روانہ ہوئی ہے۔ چنانچہ ابن حبان نے اپنی کتاب ’’الثقات‘‘ میں روایت کی:

’’زید بن صوحان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے دو خط لے کر آیا۔ ایک حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام اور ایک اہل کوفہ کی طرف تھا دونوں مکتوبات کا ایک جیسا متن تھا:

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

صفحہ 1 از 4