جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید - دفاعِ اہلِ…

جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

’’ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے عبداللہ بن قیس اشعری کے نام، تم پر سلامتی ہو۔ میں تمہاری طرف اللہ کی حمد کرتی ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

بعد ازیں! قتلِ عثمان کا واقعہ آپ کے علم میں ہے۔ میں لوگوں کے درمیان اصلاح احوال کے لیے یہاں آئی ہوں۔ آپ اپنے ماتحتوں کے گھروں تک یہ اقرار نامہ پہنچا دیں اور خوش دلی کے ساتھ ان کی رضامندی حاصل کریں، تاکہ وہ مسلمانوں کے معاملات کی اصلاح کے لیے وہی کچھ کریں جو وہ چاہتے ہیں، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں نے جماعت کو بکھیر دیا اور اپنے لیے ہلاکت تجویز کر لی۔‘‘

(الثقات لابن حبان: جلد 2 صفحہ 282)

3۔ یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صلح نامے پر دستخط کیے۔ چنانچہ سیرت کی کتابوں میں درج ہے:

’’اس دن طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کچھ دیر تک لڑائی جاری رہی۔ لوگ پیچھے ہٹنے لگے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صلح پر دستخط کر رہی تھیں۔‘‘

( الفتنۃ و وقعۃ الجمل لسیف ابن عمر: صفحہ 168۔ تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 52۔)

4۔ جب جنگ جمل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو غلبہ حاصل ہوا تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ کی بھی۔ میں تو صرف اصلاح کی نیت سے آئی تھی۔‘‘

(شذرات الذہب لابن العماد: جلد 1 صفحہ 42)

گزشتہ نکات کا خلاصہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف قتال یا ان کے ساتھ خلافت کے تنازع کے لیے نہیں آئیں بلکہ وہ محض لوگوں کے درمیان اصلاح کے لیے آئی تھیں۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا:

’’وہ نہ تو لڑیں اور نہ لڑنے کے لیے آئیں، بلکہ وہ مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی نیت سے آئیں اور ان کو یہ گمان تھا کہ ان کے آنے میں مسلمانوں کی مصلحت پنہاں ہے، پھر بعد میں انھیں یقین ہو گیا کہ سفر نہ کرنا ان کے لیے زیادہ بہتر تھا۔ وہ جب بھی اپنی روانگیِ سفر کو یاد کرتیں اتنا روتیں کہ ان کی اوڑھنی آنسوؤں سے بھیگ جاتی۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 316)

امام ابن حزم رحمہ اللہ نے لکھا:

’’ام المؤمنین اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے۔ ان میں سے کسی نے کبھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت کو باطل نہ کہا اور نہ ہی ان کی امامت پر کوئی عیب لگایا اور نہ ہی ان کی ذات پر کوئی ایسا الزام لگایا جو انھیں امامت کے منصب سے گرانے کا باعث ہو اور نہ ہی انھوں نے کسی اور کو امام بنایا اور نہ ہی کسی اور کی بیعت لی۔ ایسا کہنے کی کسی کو کسی بھی طرح مجال نہیں۔ بلکہ ہر صاحب علم کو یقین ہے کہ ایسا قطعاً نہیں ہوا۔ اگر کسی کو ان تمام باتوں میں کوئی شک نہیں تو اس سچ کا صحیح ہونا بھی یقینی ہے کہ وہ لوگ مدینہ سے بصرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کے لیے نہیں گئے تھے اور نہ ہی اس کی مخالفت ان کا مقصد تھی اور اگر ان کا ایسا کوئی ارادہ ہوتا تو وہ اس کی بیعت کے بعد نئے سرے کسی اور کی بیعت کرتے۔ لیکن انھوں نے ایسا کچھ نہ کیا۔ اس میں بھی کسی کو کوئی شک نہیں اور نہ ہی اس سے کسی کو انکار ہے تو پھر یہ سچ ہے کہ وہ بصرہ اس لیے گئے تاکہ اسلام میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت سے جو زخم لگ چکا تھا وہ اس پر مرہم رکھیں۔‘‘

(الفصل فی الملل و النحل لابن حزم: جلد 4 صفحہ 123 )

ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ان کا مقصد قتال نہ تھا، لیکن جب جنگ نے اپنے خونخوار پنجے گاڑ دیئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھیوں کے لیے قتال کے بغیر کوئی چارہ نہ رہا اور ان کے ساتھیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کی خلافت میں کوئی نزاع پیدا کیا اور نہ ہی انھوں نے کسی کو خلافت کا منصب سنبھالنے کی دعوت دی۔ بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس رویے کا انکار کیا جو انھوں نے قاتلین عثمان سے قصاص نہ لے کر ظاہر کیا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ورثاء سے یہ امید کرتے تھے کہ وہ اس کے پاس یہ مقدمہ لے کر آئیں، تو جب کسی شخص معین کے بارے میں ثابت ہو جائے گا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں شریک ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھیوں کا اس طریقہ کار سے اختلاف تھا۔ جن لوگوں پر قتلِ عثمان کا الزام تھا وہ اس بات سے ڈر گئے کہ اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علیؓ کے درمیان صلح ہو گئی تو انھیں قتل کر دیا جائے گا۔ لہٰذا انھوں نے سب مسلمانوں کو جنگ میں الجھا دیا۔ بالآخر جو نتیجہ نکلا سو نکلا۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 56)

اہل تشیع یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ’’جاننے کے باوجود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کر کے کفر کا ارتکاب کیا۔‘‘چنانچہ حدیث میں ہے:

’’اے علی! میری جنگ تمہاری جنگ ہے اور میرا امن تمہارا امن ہے۔‘‘

اور دوسری حدیث ہے:

لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا، یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

ترجمہ: ’’میرے بعد تم دوبارہ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جاؤ۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 121۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 65۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں)

پہلی حدیث کا جواب:

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’محدثین کی معروف کتابوں میں اس طرح کی کوئی حدیث نہیں اور نہ ہی اس کی اسناد معروف ہیں اور اگر بالفرض نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا بھی ہو تب بھی یہ لازم نہیں آتا کہ ان سب نے اسے سنا ہو۔ کیونکہ تمام صحابہ کرامؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام فرامین نہیں سن سکتے۔ تو پھر جب معاملہ اس طرح ہو کہ معلوم ہی نہیں کہ یہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی معروف سند ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہے کہ محدثین کے اتفاق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے یہ جھوٹ وضع کیا گیا تو کیسے اسے دلیل بنایا جا سکتا ہے۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 496)

دوسری جگہ لکھتے ہیں:

صفحہ 2 از 4