جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید - دفاعِ اہلِ…

جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

’’ان ذلیلوں پر سب سے بڑی مصیبت کے نازل ہونے پر کوئی تعجب نہ کرے کہ وہ اتنا بڑا اصول ایسی حدیث سے ثابت کر رہے ہیں جو حدیث کے معتمد علیہ مجموعوں میں سے کسی میں موجود نہیں، نہ تو وہ صحاح میں ہے نہ سنن میں، نہ مسانید میں اور نہ ہی فوائد میں اور نہ ہی محدثین کی روایت کردہ کسی اور کتاب میں جو علماء حدیث کے درمیان متداول ہو۔ ان کے نزدیک نہ یہ حدیث صحیح ہے، نہ حسن ہے نہ ضعیف ہے۔ بلکہ وہ اس سے بھی گئی گزری ہے اور وہ جھوٹ کے لحاظ سے واضح ترین موضوع روایت ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت متواترہ معلومہ کے خلاف ہے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں گروہوں کو مسلمان کہا ہے۔

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 8 صفحہ 533)

دوسری حدیث کی وضاحت:

اس حدیث میں وارد کفر کو صرف خوارج ہی کفر اکبر کہتے ہیں جو ملت اسلامیہ سے خارج کرنے کا باعث ہوتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک کبیرہ گناہ کا مرتکب مسلمان کافر ہو جاتا ہے اور یہ بخوبی معلوم ہے کہ یہ رائے واضح گمراہی ہے اور بے شمار نصوص قرآن و حدیث سے متصادم ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏ ۞ (سورة النساء آیت 48)

ترجمہ: بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے وہ ایسا بہتان باندھتا ہے جو بڑا زبردست گناہ ہے۔

اس آیت میں توبہ کے بغیر مرنے والے کا ذکر ہے کیونکہ نص قرآنی اور مسلمانوں کے اجماع کے

مطابق توبہ کرنے والے کے لیے مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌۞ (سورۃ الحجرات آیت 9)

ترجمہ: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی باہمی لڑائی کے باوجود انھیں مومن کہا ہے، پھر اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَ اَخَوَيۡكُمۡ ‌وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞ (سورۃ الحجرات آیت 10)

ترجمہ: حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔ 

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اخوت کی نفی نہیں کی اور خوارج اور ان کی طرح جو یہ تاویل باطل کرتے ہیں ان کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ جہنمی کتے ہیں اور قرآن ان کے گلوں سے آگے نہیں جاتا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3610۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1064)

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایسی متعدد صحیح احادیث موجود ہیں اور جس حدیث سے وہ استدلال کرتے ہیں وہ اپنے موضوع پر تنہا نہیں بلکہ اس طرح کے فرامین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت موجود ہیں۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَ قِتَالُہٗ کُفْرٌ۔

ترجمہ: ’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 48۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 64)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اِثْنَتَانِ فِی النَّاسِ ہُمَا بِہِمْ کُفْرٌ ، اَلطَّعْنُ فِی النَّسَبِ وَالنَّیَاحَۃِ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 67)

ترجمہ: ’’لوگوں میں دو عادات ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ کافر ہو جاتے ہیں؛ حسب و نسب میں طعن و تشنیع اور نوحہ (بین) کرنا۔‘‘

ان احادیث کی صحیح تاویل حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یوں کی ہے، وہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔‘‘ اس حدیث میں خوارج کی کوئی دلیل نہیں، کیونکہ اس کے ظاہری الفاظ کے حقیقی معانی مراد نہیں۔ لیکن جب لڑائی گالی سے زیادہ سخت تھی چونکہ اس کے ذریعے جانوں کا ضیاع ہوتا ہے تو اس کے نتیجے کو ظاہر کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فسق سے بھی بڑا لفظ بولا اور وہ کفر ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد حقیقی کفر نہیں جس کے بعد ایک مسلمان امت مسلمہ سے خارج ہو جاتا ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احتیاط میں مبالغے کے لیے کفر کا استعمال کیا ہے اور مقرر قواعد پر اعتماد کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ اس طرح کے افعال ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتے جیسے حدیث شفاعت ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌۞ (سورة النساء آیت 48)

ترجمہ: بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے۔ معاف کر دیتا ہے۔

یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فعل پر کفر کا اطلاق اس لیے فرمایا کہ یہ اس کے مشابہ ہے کیونکہ مومن کے ساتھ صرف کافر ہی لڑتا ہے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 1 صفحہ 112)

اس مقام پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حدیث کی تاویل کی کچھ اور وجوہ بھی ذکر کی ہیں اور یہ حکم اس لیے ہے جو عمداً بلکہ بغیر کسی محرک کے ظلم و زیادتی کرے لیکن جو اجتہاد کرے اور وہ اجتہاد کی اہلیت بھی رکھتا ہو، پھر اس سے اجتہاد میں غلطی ہو جائے تو وہ اصولی طور پر اس وعید میں داخل ہی نہیں بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مفہوم میں داخل ہے:

اذا اجتہد الحاکم فاصاب فلہ اجران، و اذا اجتہد فاخطا فلہ اجر

ترجمہ: ’’جب حاکم اجتہاد کرے اور اس کا اجتہاد صحیح ہو تو اسے دو اجر ملیں گے اورجب وہ اجتہاد میں غلطی کرے تو اسے ایک اجر ملے گا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 7352۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1716)

صفحہ 3 از 4