جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید - دفاعِ اہلِ…

جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

پھر یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جن خوارج نے قتال کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کافر نہیں کہا۔ بلکہ خوارج کے اجماع کے مطابق وہ کافر ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کی پہچان نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر کروائی ہے کہ وہ یہ حدیث عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس کا متن یہ ہے ’’جب حاکم فیصلہ اجتہاد سے کرے اگر اس کا فیصلہ صحیح ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب وہ اجتہاد کے ذریعے فیصلہ کرے اور غلطی کرے تو اسے ایک اجر ملے گا۔‘‘

جہنمی کتے ہیں۔

طارق بن شہاب (طارق بن شہاب بن عبد شمس ابو عبداللہ البجلی۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سن نہ سکے۔ 82 ہجری کے لگ بھگ وفات پائی۔ (الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 510۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 3 صفحہ 6)سے روایت ہے:

’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اہل نہروان (خوارج) کے قتال سے فارغ ہوئے تو میں ان کے پاس تھا۔ اس سے پوچھا گیا کیا وہ مشرک ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ شرک سے تو بھاگے ہیں۔ پھر کہا گیا تو وہ منافقین ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: منافقین اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔ پوچھا گیا، تو پھر وہ کون ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں نے ہم سے بغاوت کی تو ہم نے ان سے قتال کیا۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 5 صفحہ 242۔ محمد بن نصر کی روایت سے اسے نقل کیا۔)

یہ بالکل صریح روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں کافر نہیں کہا۔ حالانکہ ان (خوارج) کی تاویل غیر مناسب تھی لیکن ان کے لیے شبہ کی موجودگی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو انھیں کافر کہنے سے روک دیا۔ تو پھر جو لوگ اجتہاد کی اہلیت رکھتے ہوں اور انھوں نے اجتہاد کیا، لیکن انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کفر کی تہمت بالکل نہیں لگائی، بلکہ جیسا کہ ہم تحریر کر چکے ہیں کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قتال کا ارادہ بھی نہیں کیا (تو وہ کافر کیسے ہو گئے؟)


صفحہ 4 از 4