سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور حرمت متعہ - ردِ رافضیت |…

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور حرمت متعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 2

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور حرمت متعہ

شیعہ علی نقی نے اپنی کتاب اسلام اور متعہ صفحہ 215 اور 216 پر اپنی تحقیق کے گل کھلاۓ ہیں بھلا کیوں نہ ہو آخر آپ محقق و مجتہد جو تھے۔ فرماتے ہیں متعہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اگر حرام نہ فرماتے تو پوری دنیا میں کوئی زنا نہ کرتا شقی بدبخت ہی کرتا پھر اسی میں مضمون کی ایک حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ڈھال لی گئی پھر وہی روایت اہلِ سنت کی کتابوں میں درج ہو گئی جو اصل میں شیعہ راویوں کی دستِ کرم کا نتیجہ تھی۔

فروعِ کافی صفحہ 190 جلد 2:

كان على عليه السلام يقول لولا سبقني به ابن الخطابؓ ما زنا الاشقی۔

سیدنا علیؓ وجہ فرماتے ہیں اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہم پر سبقت نہ کی ہوتی متعہ کو حرام کرنے میں تو سوائے شقی اور بدبخت کے کوئی زنا نہ کرتا۔

اور شیعہ علی نقی نے حضرت فاروق اعظمؓ کی ممانعت از متعہ کو سیاسی اور انتظامی امور میں داخل فرمایا ہے کہ یہ ممانعت محض انتظامِ حکومت کے لیے تھی نہ ارزوۓ شریعت کے لیے حرام قرار دیا تھا شرعاً حضرت عمر فاروقؓ بھی اباحت کے قائل تھے نعوذ باللہ من ذالک

الجواب: شیعہ رلی نقی اگر کذب بیانی و بہتان تراشی سے ثواب حاصل کرنا تھا تو یہ کسی اور پر باندھ کر حاصل کر لیا کریں سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ پر باندھنے سے اسلام کا نقصان ہوتا ہے ان کو معاف فرمائیے گا دوم سیدنا علیؓ کی طرف حلت متعہ کی نسبت کر کے "لولا سبقتی به ابن الخطابؓ ما زناء الاشقی"

ترجمہ اگر سیدنا ابنِ خطابؓ متعہ کو حرام نہ کرتا تو بغیر شقی اور بدبخت کے کوئی زنا نہ کرتا خود نسبت کرنے والا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف ہی بدبخت اور شقی ہے بھلا یہ بھی ہو سکتا ہے جب خود سیدنا علیؓ کی طرف سے حرمت متعہ کی صحیح حدیث موجود ہو تو پھر اباحت متعہ کی روایت کیا عقل باور کر سکتا ہے جس متعہ کو خود حضرت علی المرتضیٰؓ حرام فرمائے پھر سیدنا عمرؓ حرام بتائیں تو پھر ان پر طعن کریں ہرگز ہرگز نہیں غلط ہے دوم بالفرض سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے دونوں روایتیں حرمتِ متعہ اور اباحتِ متعہ سے ہی مان لی جائیں تو پھر بھی حرمت حلت جب جمع ہو جائیں تو عمل حرمت پر ہوگا حلت مردود ہوگی

باقی شیعہ علی نقی کا یہ کہنا کہ سیدنا عمرؓ کا متعہ سے منع فرمانا انتظامیہ امور سے تھا غلط ہے خلفائے راشدینؓ کے انتظامیہ امور سیاسی امور تمام کے تمام قانونِ شرعی کے ماتحت تھے ان کی سیاست شرعی تھی ان کا انتظام شرعی تھا شریعت و سیاست کوئی جدا جدا چیزیں نہ تھیں سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا متعہ سے منع کرنا قولِ رسولﷺ سے تھا سیدنا فاروقِ اعظمؓ تو قولِ رسول سنا رہے تھے حرام تو رسول اکرمﷺ نے فرما دیا تھا۔

  •   ابن ماجه باب النهی عن نكاح المتعة: عن ابنِ عمرؓ قال لما ولى عمر بن الخطابؓ خطب الناس فقال ان رسول اللهﷺ اذن لنا فی المتعة ثلاثة ایام ثم حرمها۔

سیدنا ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں جب سیدنا عمر بن خطابؓ والی بنائیں گئے تو لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کی بات ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہم کو متعہ کی تین دن کے لیے اجازت دی پھر بعد میں حرام فرما دیا۔

فائدہ شیعہ علی نقی آپ کو یہ مرفوع حدیث نظر نہیں آئی تحقیقی طریق سے دیکھتے تو نظر آ جاتی ہے سیدنا فاروقِ اعظمؓ پر بہتان نہ باندھتے۔

  •  اخرج ابن المنذر والبيهقی من طريق سالم بن عبد الله بن عمرؓ عن ابيه قال صعد عمرؓ المنبر فحمد الله واثنى عليه ثم قال ما بال رجال ينكحون هذه المتعه بعد نهى رسول اللهﷺ عنها۔

(فتح المہلم: صفحہ 442 جلد 3)۔ 

ابن مندر اور علامہ بیہقی نے بطریق سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمرؓ اخراج کیا فرمایا کہ سیدنا ابنِ عمرؓ نے کے سیدنا عمرؓ منبر پر گئے خدا تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان فرمائی اور فرمایا ان مردوں کا کیا حال ہے جو نکاحِ مؤقت جس کو متعہ کہتے ہیں کرتے ہیں بعد حرام فرمانے رسول اللہﷺ کے متعہ کو۔

فائدہ: شیعہ علی نقی یہ قول و فرمان کس کا ہے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا یا رسولِ خداﷺ کا یہ حدیث بھی شیعہ کو نظر نہیں آتی خدا جانے کیا وجہ ہے دوم متعہ نہ تھا نکاح مؤقت تھا۔

  •  كان عمر بن الخطاب رضی الله عنه يقول من تمتع وهو محصن رجمته بالحجارة الا ان ياتي باربعة يشهدون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احلها بعد ما حرمها كشف۔ 

(صفحہ 63 جلد 2)

سیدنا عمر بن خطابؓ فرماتے تھے کہ جس شخص نے ہی نفع حاصل کیا عورتوں سے اور وہ محصن ہوا تو میں اسے سنگسار کروں گا مگر یہ کہ اس پر چار گواہ پیش کر دے کہ رسول اللہﷺ نے حرام کرنے کے بعد متعہ کو حلال فرما دیا تھا۔

  •  ومن ثم قال الطحاوى خطب عمرؓ فنهى عن المتعة ونقل ذالك عن النبیﷺ فلم ينكر عليه منكر وفی هذا دليل على متابعتهم له ما نهى عنه۔

 (فتح الباری: صفحہ 138جلد 1)۔

امام ابوجعفر طحاویؒ نے فرمایا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے خطبہ دیا لوگوں کو اور اس میں فرمایا تھا کہ متعہ حرام ہے اور اس حرمتِ متعہ کو رسول اللہﷺ سے نقل فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے متعہ کو حرام فرمایا تھا اور کسی صحابی نے انکار نہ کیا سب مان گئے اس سے معلوم ہوا کہ حرمتِ متعہ پر سیدنا فاروقِ اعظمؓ سےصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین متفق تھے کوئی مخالف نہ تھا۔

  •   فنهى عمرؓ موافق لنهيه صلى الله عليه وسلم۔ 

(فتح الباری: صفحہ 134 جلد 9)۔

پس منع کرنا سیدنا عمرؓ کا متعہ سے موافق تھا نبی کریمﷺ کے۔

ان عمر لم بينه عنها اجتهادا او انما نفي عنها مستند الى على رسول الله صلى الله علیه وسلم۔

(فتح الباری: صفحہ 137 جلد 9)۔

تحقیق سیدنا عمرؓ نے متعہ سے اپنے اجتہاد سے منع نہ فرمایا تھا سوائے اس بات کے نہیں کہ سیدنا عمرؓ نے متعہ سے منع کیا تھا قولِ رسولِ خداﷺ کو سند بنا کر چونکہ رسولِ خداﷺ نے منع فرمایا تھا متعہ سے۔

باقی تفسیرِ کبیر اور تفسیر غرائب القرآن سے نقل کر کے یہ اعتراض کرنا کہ سیدنا عمرؓ کا متمتع کے لئے رجم کا دینا یہ سیاست پر محمول ہے اس سے یہ نتیجہ نکلنا کہ حرمتِ متعہ بھی امورِ سیاسیہ میں داخل ہے۔

صفحہ 1 از 2