سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور حرمت متعہ - ردِ رافضیت |…

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور حرمت متعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 2

الجواب: یہ غلط ہے غور سے سن لینا پھر انصاف سے کام لینا جن لوگوں کو حرمتِ متعہ کی اطلاع نہیں ہوئی تھی اور ان سے یہ فعل صادر ہو گیا تو ان سے حدِ شرعی رجم و کواڑہ ساقط تھا بوجہ شبہ کے "الحدود تندری بالشبهات" حدود شبہ سے دور ہو جاتی ہیں۔ چونکہ اباحت نکاحِ مؤقت کاعلم ہوا نہ حرمت کا اور جن لوگوں کو حرمتِ متعہ کا علم ہوچکا تھا کہ رسول خداﷺ نے اس کوحرام قرار دے دیا ہے تو پھر یہ حکمِ صریح زناء میں داخل ہے لہٰذا ایسے افراد پر ضروری حد ہوتی گو علامہ باجی نے منتقی شرح موطاء میں کچھ اختلاف نقل کیا ہے مگر یہ موقع اس کے بیان کا نہیں کہ کتاب لمبی ہو جائے گی۔ باقی متعہ حج جو سیدنا عمر فاروقؓ کے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اس سے بھی اجتہادًا منع فرمایا تھا یہ بھی خطا ہے متعہ ایک خاص قِسم کا حج تھا جس سے رسولِ خداﷺ نے خود منع فرمایا تھا اس سے سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے بھی منع فرمایا تھا کہ رسول اللہﷺ منع فرما گئے تھے۔

(تفسیر کبیر: صفحہ 159 جلد 2 اور تفسیر مظہری صفحہ 219 سورة بقره)۔ 

وههنا نوع اخر من التمتع مكروه وهو الذی خدر عنه عمر رضی الله عنه وقال متعتان كانتا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا انهى عنهما واعاتب عليهما متعة النساء ومتعة الحج والمراد من هذه المتعه ان يجمع بين الاحرامين ثم يفسخ الحج الى العمرة و يتمتع بها الى الحج وروى عن رسول اللهﷺ اذن لاصحابه فی ذالك ثم نسخ وروى عن ابی ذرؓ انه قال ما كانت متعة الحج لنا خاصة باقی قولِ عمر کہ انا احرمها بینی اظهر حرمتها التی ثبت عندى من رسول اللهﷺ والمراد بالمتعة فی قول عمرؓ و عثمانؓ امنا هو نسخ الحج بالعمرة دون التمتع بالعمرة الى الگج الذی نطق به الكتاب بحيث لا مرد له وانققد عليه الاجماع۔ (تفسير مظہری سورة البقرہ: صفحہ 219)۔

اس جگہ میں متعتہ حج کی ایک اور قسم ہے جو مکروہ ہے جس سے سیدنا عمرؓ نے منع فرمایا تھا کہ دو متعتے زمانہ رسول میں تھے۔ ایک متعہ عورتوں کا دوسرا متعہ حج کا اور میں ان دونوں سے منع کرتا ہوں اور کرنے والے کو سزا دوں گا اور مراد اس متعہ سے یہ ہے کہ دو احرام ایک وقت باندھے پھر حج کا احرام کھول کر عمرہ کی طرف جوڑ دے پھر اس عمرہ کو حج کے ساتھ جوڑ کر نفع اٹھائے اور نبی کریمﷺ نے اجازت دی تھی اس متعہ حج کی پھر منسوخ ہو گیا اور سیدنا ابی ذرغفاریؓ فرماتے ہیں کہ یہ متعہ حج صرف ہم اصحابِ رسولﷺ کے لیے خاص تھی۔ باقی قولِ عمر "احرامها" اس کا معنیٰ یہ ہے کہ میں حرمت کو ظاہر کرتا ہوں جو رسول خداﷺ سے ثابت ہو چکی ہے میرے نزدیک سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کے قول میں متعہ سے مراد توڑنا حج کو عمرہ کی طرف ہی نہ وہ متعہ حج جس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور اس سے چارہ ہی نہیں اور اس پر اجماع ہو چکا ہے۔

فائدہ: معلوم ہوا کہ متعہ جس سے سیدنا عمر فاروقؓ نے منع کیا تھا وہ قولِ رسولﷺ سے منسوخ ہوچکا تھا۔ اور وہ متعہ حج یہ ہےکہ احرام حج توڑ کر عمرہ بنا دینا پھر اس عمرہ کو حج کے ساتھ ملا دینا اول حج عمرہ کا حرام یکجا باندھنا پھر حج کا توڑ دینا پھر اس عمرہ کو حج کے ساتھ ملا لینا یہ ناجائز تھا کیوں شیعہ علی نقی! اب تو جناب کی بھی آنکھ کھل گئی ہو گی کہ سیدنا عمرؓ نے دونوں کے ناجائز ہونے کو قولِ رسولﷺ سے ثابت کیا تھا نہ ذاتی رائے سے۔


صفحہ 2 از 2