Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور متعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور متعہ

شیعہ علی نقی نے اسلام اور متعہ کے صفحہ نمبر 189 پر علامہ قاضی ثناء اللہ صاحب کی تفسیر مظہری سے ایک حدیث نقل کی ہے۔

روى النسائی والطحاوی عن اسماءؓ بنت ابى بكر رضى الله عنه قالت فعلناها علی عہد رسول الله صلى الله عليه وسلم۔ 

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بنتِ ابی ابوبکرؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے کیا تھا زمانہ رسولﷺ میں۔ 

جواب اول: تو "فعلناھا" میں ہا ضمیر کے مرجع کا علم نہیں نہ مذکور ہے متعہ حج مراد ہے اور نہ متعہ یعنی نکاحِ مؤقت پھر خود ہی متعتہ النساء بنا لینا غلطی ہے۔

دوم: نسائی کتاب صحاحِ ستہ متداول کتاب ہے اس میں یہ الفاظ یعنی مائی کا قول ہرگز ہرگز نہیں دکھا سکتے قاضی صاحب سے نقل میں سبق قلم ہوا ہے یا سہو کاتب ہے۔

سوم: طحاوی میں مائیؓ کے دو قول مذکور ہیں متعتہ النساء اور متعہ حج مگر متعتہ النساء میں یہ الفاظ موجود نہیں اور نہ ہی کوئی پیش کر سکتا ہے۔ شیعہ علی نقی تو چونکہ بڑے محقق ہیں اُن کے لئے نقل میں چوری جائز ہے بلکہ خیانت و بددیانتی تک حلال ہے سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا کہ سیدنا ابنِ زبیرؓ مائی صاحبہؓ سے دریافت کرے متعہ کے متعلق۔

فقال ابنِ عباسؓ يسئال الله ان كان صادقا فسألها فقالت صدق ابن عباسؓ قد كان ذلك۔ (فتاوىٰ: صفحہ 14 جلد 2)

پس کہا سیدنا ابنِ عباسؓ نے سوال کرے سیدنا ابنِ زبیرؓ اپنی مائیؓ سے اگر سچا ہے تو پس سوال کیا حضرت ابنِ زبیرؓ نے والدہ سے فرمایا مائیؓ نے تحقیق تھا یہ کسی وقت۔

فائدہ: مائیؓ سے نکاحِ مؤقت کا مسئلہ پوچھا گیا تھا۔ مائیؓ نے مسئلہ بتایا کہ یہ کسی وقت ہوا تھا کیا کوئی کسی فعل کا حکم بتائے تو کیا وہ اس فعل کا مرتکب ہو جاتا ہے مائیؓ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے کیا تھا اس فعل کی طرف سب بے حیائی ہے بالفرض کسی کی کتاب میں "فعلتها على عهد رسول اللهﷺ" کے الفاظ بھی موجود ہوں اور متعہ سے مراد متعہ نساء لیا جائے جیسا طیالسی میں ہے اول تو متکلم مع الغیر کا صیغہ نہیں چاہتا کہ اس فعل کی نسبت ہر ہر فرد کی طرف کی جائے جس فعل کو قوم کے چند افراد نے کیا ہو اس فعل کی نسبت تمام کی طرف جائز ہوتی ہے قرآن کریم جا بجا آباؤ اجداد کے افعال کی نسبت اولاد کی طرف کر دیتا ہے چونکہ ان میں وہ فعل مسلم ہوتا ہے یہاں بھی اسی طرح ہے چونکہ نکاحِ مؤقت جو افراد متعہ سے ہے مسلم تھا کس وقت ہوا تھا بوجہ مسلم ہونے کے مائی نے تمام مسلمانوں کی طرف نسبت کر دی تھی۔ یہ عام محاورہ ہے کہ غیر مسلم کہے تو مسلمان یوں کرتے ہو یا مسلمان کہے ہم مسلمان یوں کرتے ہیں تو اس سے تمام مراد نہیں ہوتے۔

حدثنا شعبه عن مسلم القرشی قال دخلنا على اسماء بنتِ ابی بكرؓ فساءلناها عن المتعة۔

 (جيسا لسان الميزان صفحہ 718جز 6 پر) قال مسلم قرشی والد عبد الله بن مسلم روى عنه ابنه فقط۔ 

شعبہ بیان کرتا ہے کہ مسلم قرشی سے حالانکہ مسلم قرشی سے سوائے اس کے بیٹے کے کوئی راوی ملتا ہی نہیں مسلم قرشی جو عبداللہ کا والد اور عبداللہ بن مسلم قریشی کا بیٹا ہے بغیر اس عبداللہ کے مسلم قرشی سے کوئی روایت نہیں کرتا فقط کی قید سے صاف ظاہر ہے۔

میزان الاعتدال صفحہ 168: مسلم قرشی والد عبد الله بن مسلم روى عنه ابنہ فقط۔

یہ مسلم قرشی عبداللہ کا والد سوائے عبداللہ کے مسلم قرشی سے کوئی دوسرا راوی بیان نہیں کرتا۔ 

فائدہ: اسماءالرجال سے ثابت ہوا کہ مسلم قریشی سے سوائے اس کے بیٹے کے دوسرا کوئی راوی نہیں ملتا۔ اور یہ روایت عبداللہ سے مروی نہیں لہٰذا مردود ہوئی۔ قابل حجت نہیں شیعہ علی نقی اسلام اور متعہ کے صفحہ 190 پر یوں گوہر افشانی فرماتے ہیں جس جگہ زبیر سے قرین قیاس یہ ہے کہ متعہ کرنے والے یہی حضرت زبیرؓ ہوں اور انہی عارضی تعلقات میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی ولادت ہوئی ہو۔

الجواب: شیعہ علی نقی میں آپ کو اعلان کرتا ہوں بلکہ ہر حیادار آدمی کا فرض ہوتا ہے جس کام کا دعویٰ کرے اس کا ثبوت بہم پہنچائے آپ کا فرض تھا کہ سیدہ اسماءؓ اور سیدنا زبیرؓ کا نکاحِ صحیح سے اول متعہ ثابت کرتے اور اس کے بعد ماضی تعلق کا ذکر کرتے اور تین دن قیاس کا تذکرہ ہوتا اگر قیاس کا تذکرہ ہے تو ہر انسان اس انسان کو کہہ سکتا ہے کہ تم متعہ سے پیدا ہوئے وہ جواب طلب کرے تو جواب دیا جائے قرین قیاس ہے۔

کیا شیعہ علی نقی یا کوئی شیعہ عالم حضرت اسماءؓ کا متعہ حضرت زبیرؓ سے یا کسی سے بحوالہ کتاب صحیح سند سے پیش کر سکتا ہے جب یہ نہیں کر سکتا تو ہر انسان کو شرم کرنا چاہیے کہ کسی بزرگ پر حملہ کرتے ہوئے سوچے اگر یہی حملہ میری ذات پر ہوا ہوتا تو کتنا درد انگیز ہوگا آپ غلط روایات غلط مطلب بیان کر کے خواہ مخواہ مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کرتے ہیں کس قدر ظلم ہے؟۔

شیعہ علی نقی کہتا ہے کہاں ہیں زنا کو ناپاک اور حرام کاری جیسے ناپاک الفاظ سے یاد کرنے والے؟۔

الجواب: کہاں ہیں وہ جھوٹی مکذوبہ طریقہ سے متعہ کی نسبت مائی صاحبہؓ کی طرف کرنے والے ان کو حیاء چاہیے کہاں ہے نسائی میں؟ اور کہاں ہیں یہ الفاظ طحاوی میں وہ ذرا پیش کریں غلط روایات کو پیش کرنے والوں کو آنکھیں کھولنی چاہئیں بہرحال نسائی اور طحاوی میں یہ الفاظ نہیں طحاوی صفحہ 373 میں مائی صاحبہؓ کا قول مذکور ہے جس میں آپؓ نے متعتہ الحج بیان کرتی ہیں متعہ النساء کا وہاں بھی ذکر نہیں جس کا جی چاہے طحاوی دیکھ لے۔

پھر شیعہ علی نقی صفحہ 190پر فرماتے ہیں کہ مائیؓ نے نسخ متعہ کا ذکر نہیں کیا معلوم ہوا کہ متعہ کے جواز کے قائل تھے۔ سبحان اللہ محقق صاحب کیونکر ذکر کرتیں حرمتِ متعہ جب بچہ بچہ جانتا تھا تو ذکر کی کیا حاجت سیدنا ابنِ عباسؓ وغیرہ اگر خنزیر کے گوشت کی طرح مباح کہتے تھے۔ تو انہی دنوں میں حضرت ابنِ عباسؓ رضی اللہ عنہ نے رجوع بھی کر لیا اور جو دن اباحت کا قائل رہا تو ذاتی رائے کی وجہ سے نہ دلیل کی وجہ سے۔