Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عمل بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و متعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

عمل بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و متعہ

شیعہ علی نقی نے متعہ اور سلام کے صفحہ 181 پر چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعینؒ سے ثابت کیا ہے کہ یہ وفاتِ رسولﷺ کے بعد بھی قائلِ متعہ تھے۔ ان میں سے

  1. سیدنا ابنِ جریحؓ ہے
  2. سیدنا جابر بن عبداللهؓ انصاری
  3. سیدنا ابی سعیدؓ 
  4. سیدنا سلمہ بن امیہؓ
  5. سیدنا امیرِ معاویہؓ 
  6. سیدنا ابنِ حریثؓ
  7. ان رجلا قوم نام معلوم نہیں 
  8. سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ 
  9. تابعین سے سیدنا طاؤسؒ 
  10. سیدنا سعید بن جبیرؓ 
  11. سیدنا عطاءؒ 
  12. سیدنا ابنِ عباسؓ

باقی محقق دیانتدار نے سیدنا حصین بن عمرانؓ و سیدنا ابی کعبؓ کو اسی فہرست میں شمار کر دیا ہے حالانکہ ان سے ثبوت بہم نہ پہنچا سکا۔

الجواب: پہلے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ متعہ جس کو شیعہ رواج دینا چاہتے ہیں اس میں اور زنا میں کوئی فرق نہیں ہے اس کا وجود اسلام میں نظر نہیں آتا کسی وقت میں اسلام نے اس بات کی اجازت نہیں دی قرآن کریم کی مکی و مدنی آیات اس کی حرمت پر دال ہیں اس کی حلت کا عقیدہ رکھنے والوں پر فرض ہے کہ اس عقیدے کو دلائلِ قطعیہ سے ثابت کریں کسی خاص شخص کے عارضی فعل سے عقیدہ ثابت نہیں ہوتا اور جس آیت کو متعہ کے متعلق پیش کیا جاتا ہے اس کو متعہ سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے اور جناب کا اپنی کتاب کے صفحہ 170 پر لکھنا کہ یہ آیت بعد فتح کے نازل ہوئی اور متعہ فتح مکہ کے دن حرام قرار دیتے ہیں۔ اور قرآن اس حمت کے بعد نازل ہوا ہے۔

الجواب: شیعہ علی نقی یہ دلیل ہماری ہے نہ تمہاری میں یہ ثابت کر آیا ہوں کہ آیت کو متعہ سے کوئی تعلق نہیں پھر نزول سے استدلال کیا ہم تو کہتے ہیں نکاحِ مؤقت حدیثِ رسولﷺ ہی سے جائز ہوا اور حدیثِ رسولﷺ ہی سے منسوخ و حرام ہوا۔

شیعہ علی نقی جس دن رسول اللہﷺ نے جس دن دنیا سے انتقال فرمایا تھا اس دن بقول ڈاکٹر اسپرننگر سمیت چار لاکھ افراد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے چھوڑ کر گئے تھے جو تمام کے تمام حرمتِ متعہ اور نکاحِ مؤقت کے قائل تھے ان چار لاکھ میں سے 10 بارہ آدمی بڑی عرق ریزی سے شیعہ نے ثبوتِ متعہ مبارک کے لیے پیش کیے جن میں بڑی ہستی سیدنا ابنِ عباسؓ کی تھی جن کا حال اوپر گزر چکا ہے باقی ان کا حال دو پہلو رکھتا ہے جیسا اول بیان ہو چکا ہے یا تو ان دس آدمیوں نے عمداً رسول اللہﷺ کی مخالفت کی تھی یا بوجہ عدم بلوغ حدیث حرمتِ متعہ کے مخالف تھے انصاف شیعہ پر ہے اگر شقِ اول لی جائے تو اس کا اقرار تو شیعہ بھی نہیں کرتے اور پھر جب خبر حرمتِ متعہ کی ان کو ہوئی تو فوری رجوع کر لیا حلتِ متعہ سے اور حرام کے قائل ہو گئے اگر عمداً مخالفت خواہش کی وجہ سے کی تو پھر بعد بلوغ خبر حرمتِ متعہ بھی مخالف رہتے معلوم ہوا عدم بلوغ خبر کی وجہ سے معذور تھے پھر جب مرفوع صحیح حدیث صحیح و مشہور سے حرمتِ متعہ ثابت ہو چکی ہے کیا ان چند آدمیوں کا فرمان و عمل دین سمجھا جائے گا شیعہ علی نقی ان دس آدمیوں کا عمل تم کو اتنا مرغوب ہے مگر قولِ رسولﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نہیں اس کی کیا وجہ ہے؟۔

اب ذرا ایک ایک کا رجوع سن لیں۔ 

فتح الباری: صفحہ 138 جلد 9 تفسیر مظہری و فتح الملہم صفحہ 444 جلد 3:

  •  "وقد نقل ابو عوانة فی صحيحه من ابن جريحؓ انه رجع عنها بعد ان روی بالبصرة فی اباحتها۔

ابوعوانہ نے اپنی صحیح میں سیدنا ابنِ جریحؓ سے نقل کیا ہے کہ سیدنا ابنِ جریحؓ نے متعہ کی اباحت سے رجوع کر لیا تھا بعد اس کے کہ بصرہ میں فتویٰ جواز دیا تھا۔

  • سیدنا ابی بن کعبؓ کا نام محض دیانت داری سے لیا اور بتایا کہ میں محقق دیانت دار ہوں اور اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى الخ کی قید ہماری معتبر کتب میں موجود بھی نہیں علاوہ ازیں قراة شاذه سے ہے نہ قرآن وحدیث سے۔
  • سیدنا عمران بن حصینؓ سے متعہ ثابت کیا حالانکہ بخاری باب تمتع حج صفحہ 213 اور امام نودیؒ شرح مسلم صفحہ 402 جلد 1 میں یہ قول سیدنا عمران بن حصینؓ کا متعہ حج میں بیان کیا مگر دیانتدار نے متعتہ النساء میں داخل کر دیا۔
  • رجوع ابى سعيدؓ واما ابو سعيدؓ فاخرج عبد الرزاق من ابن جريحؓ ان عطاءؒ قال اخبرنی من شئ من ابى سعيدؓ قال لقد كان احدنا يتمتع بحل القدح سويقا۔

(فتح الباری: صفحہ 138 جلد 9)

اخراج کیا عبدالرزاقؒ نےسیدنا ابنِ جریحؓ سے کہ عطاءؒ نے خبر دی اس مرد سے جس کو تو چاہتا ہے سیدنا ابوسعیدؓ سے کہ اس نے کہا کہ متعہ کرتا تاہم سے ایک آدمی کچھ ستو یا ایک پیمانہ پر۔

فائدہ: اس میں زمانہ رسول اللہﷺ کی اطلاع ہے نہ اپنے فعل کی خبر پھر راوی بھی اس میں مجہول ہے مگر دیانت دار کو یہ جائز ہے۔