امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی فضیلت میں ایک روایت بھی صحیح…

امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی فضیلت میں ایک روایت بھی صحیح نہیں۔ (فتح الباری اللالی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ منہاج السنہ، فوائد المجموعہ فی بیان احادیث الموضوعہ، شرح السفر السعادت مشکوۃ فارسی، تنزیہ الشرعیہ المرفوعہ، کتاب الموضوعات، کشف الخفاء، منہاج السنہ، ضیاء النور، احیاء السنہ)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 1 از 2

امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی فضیلت میں ایک روایت بھی صحیح نہیں۔

(فتح الباری اللالی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ منہاج السنہ، فوائد المجموعہ فی بیان احادیث الموضوعہ، شرح السفر السعادت مشکوۃ فارسی، تنزیہ الشرعیہ المرفوعہ، کتاب الموضوعات، کشف الخفاء، منہاج السنہ، ضیاء النور، احیاء السنہ) 

 الجواب اہلسنّت 

بعض اہل علم کی طرف سے کتابوں میں یہ قول دستیاب ہوتا ہے کہ لم يصح في فضائل معاویه شیئی اور عدم فضیلت کے طعن کا مدار اس نوع کے اقوال پر ہے۔ یہ قول بعض اہل علم کا ہے نہ فرمان نبوی ﷺ ہے نہ صحابہ کا فرمان ہے نہ تابعی کا نہ جمہور علمائے امت کا یہ بیان ہے بلکہ یہ اس عالم کا اپنا ذاتی خیال ہے۔

اس وضاحت کے بعد اب اس مسئلہ کے متعلق علماء کرام نے جو چیزیں ذکر کی ہیں ذیل میں ایک ترتیب سے ذکر کی جاتی ہیں۔

اگر عدم صحت روایت سے مراد یہ ہے کہ ان کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں تو یہ قول درست نہیں کیونکہ متعدد روایات جو درجہ حسن میں ہیں وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں موجود اور ثابت ہیں اگرچہ ان کا اسناد اصطلاحی صحت کے درجہ سے کم ہے اور جو روایات درجہ حسن میں ہوں وہ محدثین کے نزدیک مقبول ہیں اور ان سے شرعی احکام ثابت ہوتے ہیں یہ قاعده عند العلماء تسلیم شدہ ہے۔

فلہذا حسن روایات کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں پایا جانا عدم صحت روایت کے قول کے جواب میں مکتفی ہے۔

چنانچہ مولانا عبدالعزیز پرہاروی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ

فان ارید بعدم الصحة عدم الثبوت فهو مردود لما مربين المحدثین فلاضير فان فسحتها فيقته و عامة الاحكام و الفضائل انما تثبت بالاحاديث الحسان لعزة الصحاح ولا ينحط ما في المسند و السنن عن درجة الحسن۔

اور کبار علماء نے متعدد روایات حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں درج کی ہیں جن کو درجہ حسن میں شمار کیا جاتا ہے۔

مثلاً 

1: بقول (عرباض بن ساریتہ السلمی) سمعت رسولﷺ يقول اللهم علم معاوية الكتاب و الحساب وقه العذاب

عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے سردار دو جہاںﷺ سے سنا آنجنابﷺ معاویہ بن ابی سفیان کے حق  میں فرماتے تھے کہ اے اللہ! اس کو حساب و کتاب کا علم عنایت فرما اور عذاب سے محفوظ فرما۔

1۔ فضائل الصحابہ لامام احمد صفحہ 913

، 914 جلد 2 تحت فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ، 

2۔ المسند امام احمد صفحہ 127) جلد 4 جلد رابع تحت مسندات العرباض بن ساریہ السلمی، 

3۔ الصحيح لابن حبان صفحہ 129-170جلد 9  تحت ذکر معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ،

4۔ موارد الظمان لنور الدین الہیثمی 566 باب فی معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ،

5۔ كتاب العرفتہ والتاريخ للفسوی صفحہ 345/جلد 2 6۔ مجمع الزوائد للہیثمی صفحہ 356/ جلد 9 باب ما جاء فی معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ) 

2:  عبد الرحمن بن عميرة المزني يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول في معاوية بن ابی سفیان اللهم اجعله ھاديا مهديا واهده و اهد به. (قال الترمذی حدیث حسن غریب)

1۔ التاريخ الکبیر للبخاری  صفحہ 327 جلد 4 القسم الاول تحت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ،

2۔  کتاب فضائل الصحابه الامام احمد صفحہ 913، 914 ،جلد 2 تحت فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ،

3۔  موارد الظمان لنور الدین الہیثمی صفحہ  566 باب فی معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ، 

4۔ مشکوة شریف صفحہ 579 بحوالہ ترمذی شریف باب جامع المناقب الفصل الثانی

5۔ ترمذی شریف صفحہ 547، ابواب المناقب،تحت مناقب معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ) 

 یعنی عبد الرحمن بن عمیرہ المزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حق میں ارشاد فرماتے سنا- 

اے اللہ ! معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہادی اور ہدایت یافتہ فرما۔ ان کو ہدایت دے اور ان کے ذریعے دوسروں کو ہدایت فرما۔

3: عن ابی ادريس الخولاني عن عمیر بن سعد قال لا تذكروا معاوية الأبخير فانی سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول اللهم اهدہ.

(1۔ التاريخ الکبیر للبخاری صفحہ 328/ جلد 4 القسم الاول تحت تذکرہ معاویہ بن ابی سفیان طبع حیدر آباد دکن، 

2۔ صفحہ 547 ابواب المناقب تحت مناقب معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ، 

3۔  تاریخ بلدة دمشق صفحہ 687/ جلد 16 تحت ترجمہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ (عکسی قلمی))

یعنی عمیر بن سعد الخولانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ خیر خواہی کے بغیر مت کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا۔ اے اللہ! انہیں ہدایت عطا فرما۔

یہ چند ایک روایات ہم نے پیش کی ہیں جو علماء کے نزدیک درجہ حسن سے کم نہیں اور علماء کرام اس طرح بھی فرماتے ہیں کہ یہ روایات حسن لغیرہ کے درجہ کی ہیں۔

امام ترمذی رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن عمیرہ سے مروی روایت کو حسن غریب سے تعبیر کیا ہے۔

یہ قاعده عند العلماء تسلیم ہے کہ درجہ حسن کی روایات کو قبول کیا جاتا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ لکھتے ہیں: الحسن كالصحيح في الاحتجاج به۔ (شرح نخبتہ الفکر) حسن حدیث مسائل کی دلیل ہونا ہی صحیح کے درجے میں ہے۔ اور اس سے احکام شرعی ثابت ہوتے ہیں جیسا کہ گزشتہ سطور میں بیان کیا گیا ہے۔ فلہذا مذکورہ بالا روایات کی موجودگی میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فضیلت کے متعلق صحت روایت کے فقدان کا قول کرنا درست نہیں۔

تائیدات 

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے تاریخ بلدة دمشق میں تحت ترجمہ معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان روایت فضیلت کی عدم صحت کا جواب ذکر کرتے ہوئے درج ذیل قول کیا ہے:

1:  واصح ماروی في فضل معاوية حديث ابی حمزة عن ابن عباس انه كان كاتب النبي صلى الله عليه وسلم فقدا خرجه مسلم في صحيحه و بعده حديث العرباض "اللهم علمه الكتاب و الحساب و بعده حدیث ابن ابي عميرة اللهم اجعله هاديا مهدیا۔

(تاریخ بلدة دمشق لابن عساکر جلد سادس عشر محفوظ عکس شدہ صفحہ 697 ) جلد 16 تحت ترجمہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ )

صفحہ 1 از 2