امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی فضیلت میں ایک روایت بھی صحیح…

امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی فضیلت میں ایک روایت بھی صحیح نہیں۔ (فتح الباری اللالی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ منہاج السنہ، فوائد المجموعہ فی بیان احادیث الموضوعہ، شرح السفر السعادت مشکوۃ فارسی، تنزیہ الشرعیہ المرفوعہ، کتاب الموضوعات، کشف الخفاء، منہاج السنہ، ضیاء النور، احیاء السنہ)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 2

اور علامہ السیوطی رحمہ اللہ نے بھی مندرجہ بالا قول نقل کیا ہے جو حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ کے قول کی من وعن تائید ہے۔

2: و قال السيوطي الشافعی اصح ماورد في فضل معاوية حديث ابن عباس انه كاتب النبي صلى الله عليه وسلم فقد اخرجه مسلم في صحيحه و بعده حديث العرباض رضي الله عنه اللهم علمه الكتابة و بعده حديث ابن أبي عميرة اللهم اجعله هاديا مهدیا۔

1۔ تنزیہ الشريعتہ لا بن عراق الکنانی صفحہ 8/ جلد 2، تحت باب في طائفتہ من الصحابتہ  الفصل الاول ،

2۔ ذیل اللالی  للسیوطی صفحہ 75 ( کتاب المناقب) مطبع علوی لکھنؤ طبع قدیم)

 مندرجہ بالا تائیدات کی روشنی میں یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب نبویﷺ ہونے کی فضیلت کو جو امام مسلم رحمہ اللہ نے ذکر کی ہے علماء کرام اصح چیز فرما رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ علماء کے نزدیک فضیلت کتابت نبویﷺ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں صحیح تر فضیلت ہے اور صحیح حدیث سے ثابت ہے فلہذا ان کی فضیلت کی عدم صحت کا قول کرنا اپنی جگہ پر درست نہیں۔

 اور جو روایات اس سے کم درجہ کی ہیں ان کے حق میں اکابر علماء حسن ہونے کا حکم درجہ بدرجہ لگا رہے ہیں فلہذا یہ بھی اپنے مقام میں مقبول اور لائق اعتماد ہیں اور قابل حجت ہیں۔ اور مردود نہیں۔

اور قاعدہ یہ ہے کہ حسن روایات سے شرعی مسائل اور فقہی احکام ثابت ہوتے ہیں فلہذا ان سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا اثبات بلاشبہ درست ہے۔

 مزید تائید 

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے متعلق جہاں دیگر چیزیں دستیاب ہیں وہاں ایک اور بہترین فضیلت صحیح روایات میں پائی جاتی ہے

وہ اس طرح ہے کہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  نے بحر میں پہلے غزوہ کرنے والے جیش کے متعلق جنت کی خوشخبری ذکر فرمائی اور اس جیش کے امیر اور سپہ سالار خود حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔

چنانچہ اس پیشن گوئی کا مختصر واقعہ بخاری میں اس طرح ہے

ان عمر بن اسود العنسي حدثه أنه اتى عبادة بن الصامت و هو نازل في ساحل حمص و هو في بناء له معه ام حرام قال عمير فحدثتنا ام حرام انها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول اول جیش من امتی یغزون البحر قد أوجبوا قالت ام حرام قلت يا رسول الله انا فيهم قال انت فيهم قالت ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم أول جيش من امتی یغزون مدينة القيصر مغفور لهم فقلت : انا فيهم يا رسول الله قال لا 

 اس کا مطلب یہ ہے کہ عمیر بن اسود العنسی کہتے ہیں کہ حمص کے ساحل پر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے مقام پر فروکش تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ ام حرام رضی اللہ عنہ بنت ملحان بھی رفیقہ سفر تھیں اس موقع پر جناب ام حرام رضی اللہ عنہا نے واقعہ بیان کیا (نبی اقدس صلی اللہ علیہ  مدینہ طیبہ میں میرے  مکان پر تشریف فرما تھے خواب سے بیدار ہوئے ) تو ارشاد فرمایا کہ میری امت میں سے پہلا جیش جو بحر میں جہاد اور غزوہ کرے گا اس نے اپنے لئے جنت واجب کر لی ہے (یعنی انہوں نے ایسا عمل کیا ہے جس سے ان کو جنت ملے گی) ام حرام رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللهﷺ دعا فرما دیں کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں تو جناب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم ان میں داخل ہو، پھر دوسری بار جناب نے ارشاد فرمایا کہ میری امت سے اول جیش جو مدینہ قیصر پر غزا اور جہاد کرے گا ان کے لئے مغفرت ہے تو پھر میں نے دوبارہ عرض کیا یا رسول اللہ میں ان میں داخل ہوں؟ فرمایا کہ نہیں (بلکہ تم پہلے جیش میں بو)

(بخاری شریف جلد اول صفر 409، 410 کتاب الجہاد تحت باب ما قيل في قتال الروم)

محدثین کے نزدیک یہ ایک مسلم امر ہے کہ پہلی بار غزوہ بحر جو 27ھ میں پیش آیا تھا اور جس کو غزوہ قبرص کہتے ہیں اس میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ محترمہ ام حرام رضی اللہ عنہ شامل تھیں۔ اس بحری غزوہ کے امیر جیش حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  تھے اور ان کی زوجہ محترمہ فاختہ بنت قرضتہ نامی ان کے ہمراہ تھیں۔ اس جیش کے حق میں زبان نبوت سے مژدہ جنت ثابت ھے. 

فلہذا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے اور اس عالم فانی میں جنت کی خوشخبری اور وہ زبان نبوت سے یہ ایک نہایت سعادت مندی کی بات ہے پس حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں عدم فضیلت کا قول کسی طرح درست نہیں۔

مذکورہ بالا فضیلت کی صحت میں کوئی اشتباہ نہیں محدثین کے نزدیک یہ بالکل صحیح ہے۔ اور کوئی شخص اگر تعصب کی بنا پر اس کی صحت کا انکار کر دے تو اس کا کوئی علاج نہیں ۔ لیکن یہ بات یاد رکھئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے تحاسد اور تعاند کرنا آخرت میں نقصان دہ ثابت ہو گا ۔ ارشاد نبوی ہے

لا تحاسدوا و لا تباغضوا ولا تدابروا و كونوا عباد الله اخوانا - (الحديث )

یعنی اے ایماندارو! آپس میں حسد مت رکھو! باهم بغض مت کرو! ایک دوسرے سے روگردانی مت کرو! اے اللہ کے بندو بھائی بھائی ہو کر رہو۔


صفحہ 2 از 2