Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قصہ بہتان کے اہم نکات

  علی محمد الصلابی

ا: الافک کا لغوی معنی و مفہوم:

’’الافک‘‘ ایسا اسم ہے جو خالص جھوٹ پر بولا جاتا ہے۔ جس کے جھوٹ ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہ ہو۔

یہ وہ بہتان ہوتا ہے جو اچانک لوگوں پر تھوپ دیا جاتا ہے۔ پھر غالب استعمال کی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائے گئے بہتان کا اسم علم بن گیا۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت کا اعلان اپنی آخری کتاب میں کیا۔

(تفسیر الرازی: جلد 23 صفحہ 337۔ الحریر و التنویر لابن عاشور: جلد 18 صفحہ 169، 170)

وجہ تسمیہ: اس حادثہ کو واقعہ افک کیوں کہا جاتا ہے؟ جیسا کہ رازی نے لکھا: ’’اللہ تعالیٰ نے اس جھوٹ کو افک اس لیے کہا کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سیرت و کردار اس کے بالکل برعکس تھا۔‘‘

فتح البیان کے مصنف نے لکھا: ’’اللہ تعالیٰ نے اس کا نام افک اس لیے رکھا، کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کردار اس کے بالکل برعکس تھا۔‘‘

نیز علامہ واحدی سے قول منقول ہے کہ ’’اس واقعہ کو ’’افک‘‘ حقیقت بدلنے کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی شرافت، عفت و عصمت، حصانت و حفاظت، عقل و دیانت، علو نسب، غیرت و آبرو میں بے مثال تھیں۔ وہ تو مدح و ثنا کی مستحق تھیں جب ان کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی سازش کی گئی تو گویا تمام حقائق کو بدل دیا گیا۔ یعنی یہ قبیح بہتان اور علانیہ جھوٹ تھا۔‘‘

ابو سعود(محمد بن محمد بن مصطفی ابو سعود عمادی حنفی اپنے وقت کا امام اور علامہ مشہور تھا۔ 898 ہجری میں پیدا ہوا قسطنطنیہ کا قاضی مقرر ہوا۔ وہاں کا مفتی بھی رہا۔ اس کی مشہور تصنیفات ’’ارشاد العقل السلیم الی مزایا الکتاب الکریم‘‘ اور ’’تحفۃ الطلاب‘‘ ہیں۔ 982 ہجری میں وفات پائی۔ (شذرات الذہب لابن العماد: جلد 8 صفحہ 395۔ الاعلام للزرکلی: جلد 7 صفحہ 59۔)

نے لکھا:’’ یہ الزام حقائق کو بدل کر لگایا گیا تھا۔

بالکل اسی طرح ہی مفسر زمخشری (محمود بن عمر بن محمد خوارزمی زمخشری ہے۔ معتزلہ کا مرکزی قائد تھا۔ نحو، لغت، علم کلام اور علوم تفسیر کا ماہر تھا۔ 467 ہجری میں پیدا ہوا۔ فصاحت و بلاغت اور بیان و ادب کا امام مانا جاتا تھا۔ اس کی تصنیفات سے ’’الکشاف‘‘ اور ’’الفائق‘‘ ہیں ۔ 538 میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 20 صفحہ 151۔ طبقات المفسرین للادنہوی: صفحہ 172۔)

اور بیضاوی (عبداللہ بن عمر بن محمد ابو سعید شیرازی ناصر الدین بیضاوی شافعی المذہب تھا۔ علامہ، مفسر، رئیس القضاۃ، صالح، عابد، زاہد کے القاب سے پہچانا جاتا تھا۔ شیراز کا کچھ عرصہ تک قاضی رہا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’انوار التنزیل‘‘ و ’’شرح المصابیح‘‘ مشہور ہیں۔ 685 ہجری یا 691 ہجری میں فوت ہوا۔ (شذرات الذہب لابن العماد: جلد 5 صفحہ 391۔) وغیرہ نے کہا ہے۔

(الحصون المنیعۃ لمحمد عارف الحسینی: صفحہ 19)