Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اس فتنہ کا بانی مبانی ماسٹر مائنڈ کون تھا

  علی محمد الصلابی

ج: اس فتنہ کا بانی مبانی (ماسٹر مائنڈ) کون تھا؟

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں’’جو اس واقعہ کا ذمہ دار ہے وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4749)

ابن جریر نے لکھا:

’’علماء و سیرت نگاروں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ سب سے پہلے جس نے بہتان لگایا اور اپنے گھر والوں کو اکٹھا کر کے اس کے بارے میں افواہیں پھیلاتا تھا وہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہے اور جیسا کہ میں نے لکھا اس معاملے کے گھناؤنے پن کی وجہ سے اسے اس فعل کا موجد کہا جاتا ہے۔‘‘

(تفسیر الطبری: جلد 17 صفحہ 196)

اس وضاحت سے ہمارا مقصد فرقہ ناصبیہ کی اس تہمت سے پردہ اٹھانا ہے جس کے تحت وہ مشہور کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ کے بارے میں جو افواہیں گردش کر رہی تھیں وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایجاد کرتے تھے اور قرآن کے مطابق وہی وہ شخص ہے جسے اس کے تکبر نے اس پر آمادہ کیا۔ اس تہمت کا پردہ امام، فاضل ابن شہاب زہریؒ نے چاک کیا۔

یہ اس طرح ہوا کہ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک (ولید بن عبدالملک بن مروان ابو العباس اموی خلیفہ تھا۔ مملکت آبیہ میں اہل روم سے متعدد غزوات میں شرکت کی اور اندلس کے دروازے پر فتح کے جھنڈے گاڑ دیے۔ نیز ترکی کے علاقے بھی شامل کر لیے۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توسیع کروائی اور دمشق میں جامع مسجد بنوائی۔ مزید مسجد نبوی کی تزئین و آرائش و زیبائش کروائی۔ البتہ وہ عیش وعشرت کا دلدادہ تھا۔ تعلیم یافتہ نہ تھا۔ 96 ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 348۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 1 صفحہ 105۔) 

یہ سمجھتا تھا کہ یہ گھناؤنی سازش تیار کرنے والے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔

وہ کہتے ہیں: میں ایک رات ولید بن عبدالملک کے پاس تھا اور وہ لیٹے ہوئے سورۂ نور کی تلاوت کر رہا تھا۔ جب وہ اس آیت پر پہنچا:

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ‌ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞(سورۃ النور آیت 11)

ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک کے حصے میں اپنے کیے کا گناہ آیا ہے۔ اور ان میں سے جس شخص نے اس (بہتان) کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ہے اس کے لیے تو زبردست عذاب ہے۔

تو اٹھ کر بیٹھ گیا۔ پھر کہنے لگا: اے ابوبکر! ان میں سے کس نے مرکزی کردار ادا کیا؟ کیا وہ علی بن ابی طالب نہیں؟

بقول زہری میں نے دل میں سوچا: اب میں کیا کہوں؟ اگر میں اس کی تردید کروں اور ناں کہہ دوں تو مجھے اس سے اذیت پہنچنے کا اندیشہ ہے اور اگر میں اس کی تائید کرتے ہوئے ہاں کہہ دوں تو یقیناً مجھ سے بڑا بہتان تراش کوئی نہیں۔ میں نے اپنے دل میں سوچا بے شک اللہ تعالیٰ نے سچ کہنے کے نتیجے میں میرے ساتھ بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ میں نے کہہ دیا: ایسا نہیں جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔

بقول زہری ولید نے اپنی لاٹھی یا درّہ اپنے بستر پر زور سے مارا، پھر چیخ چیخ کر کہنے لگا۔ تو پھر کون؟ پھر کون ہے؟ اور یہ بات اس نے کئی مرتبہ دہرائی۔ میں نے کہا: ’’وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔‘‘

(طبرانی نے اسے روایت کیا: جلد 22 صفحہ 97، حدیث نمبر: 145۔

حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصفہانی: جلد 3 صفحہ 369۔

فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 437)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا: ’’شاید جن نواصب میں کوئی بھلائی نہ تھی ان میں سے کسی نے اس جھوٹ کے ذریعے بنو امیہ کا تقرب حاصل کیا۔ تو انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کی غلط تاویل کر لی۔ کیونکہ انھیں علم تھا کہ بنو امیہ علی رضی اللہ عنہ کو پسند نہیں کرتے، اس لیے انھوں نے بھی اس قول کو صحیح سمجھا تاآنکہ امام زہری رحمہ اللہ نے ولید کے سامنے حقیقت حاصل واضح کی کہ حق تمہارے گمان کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس کا نیک اجر عطا فرمائے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 437)