Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف

  علی محمد الصلابی

اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا موقف تھا؟

بلاشک و شبہ کہا جائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا کے متعلق دیگر لوگوں سے زیادہ جانتے تھے اور یہ کہ بہتان و الزام تراشوں کے بہتان سے وہ یقیناً بری ہیں۔ اس لیے جو کچھ کہا گیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید اذیت پہنچائی۔ جب بدکلامی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و آبرو کی شان میں ہو اور اس ذات کے متعلق ہو جو سب لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ غیرت مند تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعد رضی اللہ عنہ کی غیرت والے جملے پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا:

أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَیْرَۃِ سَعْدٍ لَأَنَا أَغْیَرُ مِنْہُ وَاللّٰہُ أَغْیَرُ مِنِّی۔

ترجمہ: ’’لوگو! کیا تمھیں سعد کی غیرت پر تعجب ہو رہا ہے۔ اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بڑھ کر غیور ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 7416۔ صحیح مسلم:  حدیث نمبر: 1499۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔)

جب ان سرکش بہتان تراشوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو صدمہ اور پریشانی لاحق ہوئی اس کے آثار آپﷺ کے چہرۂ مبارک اور آپﷺ کے معمولات پر بھی نمایاں دیکھے جا سکتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ اور آپ کے اہل بیتؓ یہ بات بخوبی پہچانتے تھے، تاہم یہ اور بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدق و صبر کے ہر امتحان میں کامیاب ہوئے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رب تبارک و تعالیٰ پر پورا یقین تھا کہ وہ آپ کی مدد کرے گا اور نہ صرف آپ کی حمایت و نصرت فرمائے گا بلکہ آپ کی طرف سے ظالموں سے انتقام بھی لے گا اور رب العالمین کا ہر کام حکمت سے بھرپور ہوتا ہے۔ چنانچہ اس رب ذوالجلال نے ایک ماہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی روک لی۔ جبکہ لوگ افواہوں میں بہک رہے تھے۔ ہر کسی کے منہ میں جو آتا کہہ دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر حال میں صبر کا عظیم مظاہرہ کیا اور اللہ کی رضا کے لیے اسے بہت اچھی طرح نبھایا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کے لیے یہ صدمہ جانکاہ تھا۔ لوگوں کی افواہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتی تھیں اور آپ کے لیے دوسری جو سب سے بڑی اذیت تھی وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی پریشانی بہت کھلتی تھی، کیونکہ وہ جب بھی پریشان ہوتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سہارا دیتے اور آپ اپنے عمدہ اخلاق اور بھرپور شفقت کا سایہ ان پر کیے رہتے۔ یہ بہتان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت مشقت آمیز ہو گیا۔ حتیٰ کہ ہماری امی جان عفیفۂ کائنات رضی اللہ عنہا کی پریشانی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات تک نہیں کر سکتے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی برأت اور پاک دامنی کا پورا یقین تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بیماری کو بھی سمجھتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف انہی دو الفاظ پر اکتفا کرتے: کَیْفَ تِیْکُمْ ’’تم کیسی ہو؟ اور آخر میں کہتے، تم پر اللہ کی رحمت و سلامتی ہو۔‘‘

جب معاملہ کی حقیقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہی تھی تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ اصحاب اور جیسے علی اور اسامہ رضی اللہ عنہما اور اپنے اہل بیت جیسے ام المؤمنین زینب اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کی خاص خادمہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے کیوں پوچھ گچھ کی؟ کیا ضلالتوں کے پجاریوں کے کہنے کے مطابق یہ سوالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شک کی بنیاد پر کیے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جواب شک کی تائید و تاکید میں تھا؟

(جیسا کہ ایک مجرمانہ کتاب بعنوان ’’خیانۃ عائشۃ بین الحقیقۃ و الاستحالۃ‘‘ کے مجرم مصنف محمد جمیل حمود العاملی نے (صفحہ 25) پر لکھا ہے اور اس کتاب میں نہایت گھٹیا اور فحش مواد ہے اور ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا پر سب سے زیادہ خبیثانہ اور فاحشانہ طریقے سے دشنام طرازی کی گئی ہے۔ جس کا تصور اس امت کی طرف منسوب کوئی مسلمان نہیں کر سکتا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلب گار ہیں اور جس جس نے ان کی عزت پر بٹہ لگانے کی کوشش کی اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

درج بالا شکوک و شبہات کا ازالہ:

1۔ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیوی کی پاک دامنی پر پورا یقین تھا۔ اس کے باوجود افواہ سازوں کی افواہوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر عظیم کا مظاہر کیا۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند کیا کہ آپ دوسروں سے یہ پوچھ کر اور ان سے یہ جواب سن کر دلی سکون حاصل کریں اور یہ تجربے کی بات ہے کہ پریشان حال اور صدمے سے دوچار شخص کو دوسروں کی تسلی دلانے اور ان کی حوصلہ افزائی سے زیادہ حوصلہ ملتا ہے اور اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مکمل طور پر محفوظ و معصوم ہیں کہ وہ اپنے سب سے زیادہ قریبی اور سب لوگوں سے زیادہ اپنی محبوب بیوی کے بارے میں شک کریں۔

2۔ اس گمراہ کن بہتان میں پھنسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موکد و مغلظ قسم اٹھا کر کہا کہ ’’عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان کے بہتان تراشوں سے بری الذمہ ہیں۔‘‘ وحی کے نزول سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی فرمان سے بہتان تراشوں کی زبانیں گنگ ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے یہ گواہی دیتے ہوئے فرمایا:

وَاللّٰہِ مَا عَلِمْتُ عَلٰی أَہْلِی إِلَّا خَیْرًا۔

ترجمہ: ’’اللہ کی قسم! میں اپنی بیوی کے متعلق نیکی اور بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔‘‘

(صحیح بخاری: 2771۔ صحیح مسلم: 277)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قسمیہ انداز یہ کہنے والوں کی زبانیں بند کر دینے کے لیے کافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شک کی بنا پر مختلف لوگوں سے پوچھ تاچھ کی۔

کیا ان لوگوں کو ہماری امی جان رضی اللہ عنہا کے بارے میں اتنا کچھ معلوم ہو گیا جو رب العالمین کی طرف سے وحی کیے جانے والا معصوم نبی بھی اس کے بارے میں نہ جانتا تھا۔ یا یہ کہ یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی کو جھٹلانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کی عزت پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں یہ بات صریح الدّلالہ ہے جو ہماری امی رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا یقین دلا رہی ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قسم کا شک و شبہ نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگوں کے منہ سے جوابات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان ہو جائے۔

علامہ ابن قیم الجوزی رحمہ اللہ نے اس سوال و جواب کے متعلق نہایت عمدہ کلام کیا ہے: ’’اس اذیت ناکی کا اصل نشانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی پر بہتان لگایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شایان شان یہ بات نہ تھی کہ آپ اپنی بیوی کی پاک دامنی کی گواہی دیں۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے یا یقین رکھتے تھے کہ وہ پاک دامن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق کبھی برا نہ سوچا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو اللہ اس سوچ سے اپنی پناہ میں رکھے۔ اسی لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتان تراشوں کے الزامات کے ضمن میں یہ فرمایا:

مَنْ یَعْذِرُنِی مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِی عَنْہُ أَذَاہُ فِی أَہْلِی وَاللّٰہِ مَا عَلِمْتُ عَلٰی أَہْلِیْ إِلَّا خَیْرًا وَلَقَدْ ذَکَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَیْہِ إِلَّا خَیْرًا وَمَا یَدْخُلُ عَلٰی أَہْلِی إِلَّا مَعِی

ترجمہ: ’’ایسے آدمی سے مجھے کون راحت پہنچائے گا جس کی اذیت ناکی سے میری اہلیہ کو نشانہ بنایا گیا؟ اللہ کی قسم! مجھے اپنی بیوی کے متعلق بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں معلوم اور انھوں نے جس آدمی کو ملوث کرنا چاہا مجھے اس کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کسی چیز کا علم نہیں اور وہ میری بیوی کے پاس اسی وقت جاتا تھا جب میں اس کے ساتھ ہوتا تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2661۔ صحیح مسلم:  حدیث نمبر: 2770)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاک دامنی کے قرائن دیگر اہل ایمان کی نسبت بہت زیادہ موجود تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کمال صبر، عزم مصمم، اپنی روایتی نرمی اور اپنے رب کے متعلق حسن ظن اور اس پر کامل بھروسہ اتنا زیادہ تھا کہ اس مقام صبر و ثبات اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کماحقہ حسن ظن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمے رہے۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ وحی آ گئی جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں آپ کو دلی مسرت حاصل ہوئی اور نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رب کے ہاں مزید بلند ہو گئی بلکہ اُمت کو بھی یقین ہو گیا کہ آپ کے رب کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کس قدر بلند ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

 (زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 235 )

اسی لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جواب نے بہتان تراشوں کا منہ بند کر دیا اور اس جواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی ختم ہو گئی اور وہ غم دُور ہو گیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بنا ہوا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جواب میں دو عظیم فائدے پنہاں تھے:

پہلا فائدہ: جب پریشانی کی جڑ کٹ جائے گی تو پریشانی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ چونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے علیحدگی کا اشارہ دیا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی تنگی نہیں کی، اس کے علاوہ بھی بے شمار عورتیں ہیں تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دلی سکون حاصل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس کو راحت مل گئی اور آپ کو قرار آ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ تمام اہل ایمان کے نزدیک کسی اور کی راحت کی نسبت آپ کی راحت مقدم ہے، تو صحابہ کرامؓ نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ کے علاوہ کوئی انسان چاہے کتنا ہی عظیم المرتبت ہو آپ سب سے بڑھ کر قدر و منزلت کے مستحق ہیں اور ہمارے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ عظیم الشان ہیں۔ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کسی وجہ سے آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہو اور کسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوں، بلکہ ہم آپ پر اپنے ماں باپ قربان کرتے ہیں۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا: ’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ جو افواہ پھیلی ہوئی ہے مشکوک ہے تو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ آپ شک و شبہ چھوڑیں اور یقین پر اعتماد کریں۔ تاکہ لوگوں کی افواہوں سے جو ہم و غم آپ کو لاحق ہو گیا ہے ،اس سے نجات ملے۔ تو انھوں نے بیماری کو جڑ سے کاٹنے کا اشارہ دیا۔‘‘

(زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 233)

سفیان ثوری نے کہا: ’’سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے اس مشورے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مصلحت بھانپ لی۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 468 )

یہی شان سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تھی۔ وہ اپنے آپ پر، اپنے گھر والوں پر، بلکہ سب لوگوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجیح دیتے تھے اور جب کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معمولی سی پریشانی یا کوئی صدمہ پہنچتا تو وہ سب اکٹھے ہو کر رونے لگ جاتے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5191۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی تمام بیویوں سے علیحدہ ہونے والے واقعہ پرغور کریں)

یہاں جو مؤقف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنایا اس کا سبب یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشوں کے بہتان لگانے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حزن و ملال طاری ہو گیا تھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس غم کے سبب کو جڑ سے اکھیڑنے کی طرف اشارہ کیا اور اس کے اسباب سے علیحدہ ہونے کا مشورہ دیا اگرچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی محبوب بیوی سے علیحدہ ہونا ہو، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ کی سب بیویوں سے زیادہ عالی قدر تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کا مرتبہ سب سے عظیم تھا۔ یہ بعینہٖ وہی موقف ہے جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس وقت اپنایا تھا جب لوگوں میں مشہور ہو چکا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک کمرے میں ان سب سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خادم رباح کے سامنے خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ بقول عمر رضی اللہ عنہ میں نے بلند آواز سے رباح سے کہا:

یَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِی عِنْدَکَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فَإِنِّی أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ظَنَّ أَنِّی جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَۃَ وَاللّٰہِ لَئِنْ أَمَرَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بِضَرْبِ عُنُقِہَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَہَا

ترجمہ: ’’اے رباح تو میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت حاصل کر۔ کیونکہ میرا گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوچ رہے ہیں کہ شاید میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے معاملے پر بات کرنے آیا ہوں۔ اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی گردن کاٹنے کا حکم دیں تو میں ضرور اس کی گردن کاٹ دوں گا۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1479)

سیدہ حفصہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی وہی بیٹی ہیں جن کی محبت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فطرت تھی۔ لیکن وہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میری پیاری بیٹی کو قتل کرنے کا حکم دیں تو میں اسے ضرور قتل کر ڈالوں۔

جی ہاں! اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل فضل کا مقام و مرتبہ اچھی طرح پہچانتے تھے، لیکن ان میں سے جب کوئی دیکھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ادنیٰ سا حزن و ملال پہنچا ہے تو ان تمام کے صبر کے پیمانے چھلک پڑتے۔ وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے دوڑ پڑتے اور چاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غم پہنچانے کا سبب کوئی بندہ بھی ہو انھیں کسی قسم کی پروا یا خوف نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو جائے۔ یہی مؤقف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنایا جو مؤقف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تھا، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنی بیٹی سے نفرت کرنے کا کوئی فرد تصور ہی نہیں کر سکتا۔

اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ سوچنا بھی محال ہے کہ وہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نفرت کرتے تھے جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلوص دل سے مشورہ دیا بلکہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کی عظیم قدر و منزلت سب سے مقدم اور سب سے بڑھ کر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ جو بھی جس قدر بھی مقام و مرتبہ کا مالک تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھا۔

دوسرا فائدہ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خادمہ سے پوچھ لیں وہ آپ کو سچ بتائے گی، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضل کا یقین تھا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زہر آلود حزن سے بچانے کے لیے اس خادمہ کے بیانات لینے کا مشورہ دیا جو اکثر اوقات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ ہوتی تھی، آپ کی خادمہ خاص تھی اور وہ ان کے پوشیدہ رازوں سے واقف تھی اور امور خانہ داری میں ان کا ہاتھ بٹاتی۔

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بدگمان ہوتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علیحدہ کرنے کا مشورہ دے کر خاموش رہتے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وسعت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محدود تو نہیں کیا بلکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مشورے کو بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہراتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف خوب اکساتے اور اس کے معاون دیگر اسباب بھی اکٹھا کرتے اور آپ سے اپنی بات منوانے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی منت سماجت کرتے۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس طرح کی پراگندگی کو ترک کر کے دوسرا مشورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ جب خادمہ آئی تو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نیکی کی گواہی دی اور ہماری امی جان جس مدح و ثنا کی مستحق اور اہل تھیں، خادمہ نے وہی مدح و ثنا بیان کر ڈالی۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا تکدر ختم ہو گیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مشورہ نہایت خوشگوار ثابت ہوا۔ گویا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو مشورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا وہ ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیب جوئی نہ تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس الزام سے بری الذمہ ہیں، لہٰذا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کو رافضی اپنی افتراء بازیوں کی دلیل نہیں بنا سکتے۔

اب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤقف نکتہ وار بیان کریں گے:

1۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مہینہ تک وحی رک گئی۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی وحی نہ آئی، ان لمحات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی علیحدگی کے متعلق مشورہ طلب کیا۔

2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ خاص سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں پوچھا تو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر کسی شک و شبہ کے متعلق کچھ نہ کہا۔ البتہ اتنا کہا کہ وہ کم عمری کی وجہ سے اہل خانہ کے گوندھے ہوئے آٹے سے غافل ہو جاتی ہیں۔

(ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا: اگر یہ کہا جائے کہ کیا بات ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں پہلے توقف کیوں کیا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں تحقیق شروع کر دی اور صحابہ کرامؓ سے مشورہ طلب کیا اور ان کی خادمہ سے ان کے بارے میں پوچھا۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال کو سب سے زیادہ جانتے تھے اور اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں قدر و منزلت کا علم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخوبی تھا اور وہ کس سلوک کی مستحق تھیں، یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا۔ کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند جلیل القدر صحابہ کی طرح کہہ دیتے: بے شک اللہ سبحانہ ہر عیب سے پاک ہے اور یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ (سورة النور آیت 12) تو اس شبہ کا یہ جواب دیا جائے گا کہ یہ تمام ظاہر و باہر حکمتیں ہی اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے سبب بنائیں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا امتحان لیا اور اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کی۔ حتیٰ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ماہ تک وحی نازل نہ ہوئی۔ اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کچھ بھی نازل نہیں کیا گیا۔ تاکہ اس کی وہ حکمتیں پوری ہو جائیں جو اس نے اس معاملے میں مقدر کی تھیں اور جن کا فیصلہ وہ کر چکا تھا اور وہ کمال کے انتہائی درجے پر پہنچ کر لوگوں کے سامنے آئیں اور سچے مومن اپنے ایمان، عدل و صدق پر اپنے رسوخ اور اللہ، اس کے رسول، اہل بیت اور سچے اہل ایمان کے متعلق اپنے یقین کو مزید پختہ کر لیں۔ ان کے برعکس جو لوگ منافق تھے وہ بہتان اور منافقت میں مزید بڑھ جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے لیے ان کی منافقت اور ان کی سازشیں خوب واضح ہو جائیں۔ (زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 234۔)

3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا اور ان سے اللہ کے دشمن عبداللہ بن ابی بن سلول کی سازش سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اذیت سہنی پڑی کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے لوگوں سے مدد طلب کی۔

4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے والدین کے گھر گئے اور انھیں نصیحت کی اور بتایا کہ اگر وہ پاک دامن ہوئیں تو اللہ ضرور ان کی پاک دامنی بیان کرے گا۔

5 ۔ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہی تھے کہ وحی نازل ہونا شروع ہو گئی۔ پھر وحی والی کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔ آپ نے سب سے پہلے جو بات کی وہ یہ تھی: ’’اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نے تمھیں پاک دامن قرار دیا ہے۔‘‘