اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ…

اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا موقف تھا؟

بلاشک و شبہ کہا جائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا کے متعلق دیگر لوگوں سے زیادہ جانتے تھے اور یہ کہ بہتان و الزام تراشوں کے بہتان سے وہ یقیناً بری ہیں۔ اس لیے جو کچھ کہا گیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید اذیت پہنچائی۔ جب بدکلامی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و آبرو کی شان میں ہو اور اس ذات کے متعلق ہو جو سب لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ غیرت مند تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعد رضی اللہ عنہ کی غیرت والے جملے پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا:

أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَیْرَۃِ سَعْدٍ لَأَنَا أَغْیَرُ مِنْہُ وَاللّٰہُ أَغْیَرُ مِنِّی۔

ترجمہ: ’’لوگو! کیا تمھیں سعد کی غیرت پر تعجب ہو رہا ہے۔ اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بڑھ کر غیور ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 7416۔ صحیح مسلم:  حدیث نمبر: 1499۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔)

جب ان سرکش بہتان تراشوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو صدمہ اور پریشانی لاحق ہوئی اس کے آثار آپﷺ کے چہرۂ مبارک اور آپﷺ کے معمولات پر بھی نمایاں دیکھے جا سکتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ اور آپ کے اہل بیتؓ یہ بات بخوبی پہچانتے تھے، تاہم یہ اور بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدق و صبر کے ہر امتحان میں کامیاب ہوئے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رب تبارک و تعالیٰ پر پورا یقین تھا کہ وہ آپ کی مدد کرے گا اور نہ صرف آپ کی حمایت و نصرت فرمائے گا بلکہ آپ کی طرف سے ظالموں سے انتقام بھی لے گا اور رب العالمین کا ہر کام حکمت سے بھرپور ہوتا ہے۔ چنانچہ اس رب ذوالجلال نے ایک ماہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی روک لی۔ جبکہ لوگ افواہوں میں بہک رہے تھے۔ ہر کسی کے منہ میں جو آتا کہہ دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر حال میں صبر کا عظیم مظاہرہ کیا اور اللہ کی رضا کے لیے اسے بہت اچھی طرح نبھایا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کے لیے یہ صدمہ جانکاہ تھا۔ لوگوں کی افواہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتی تھیں اور آپ کے لیے دوسری جو سب سے بڑی اذیت تھی وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی پریشانی بہت کھلتی تھی، کیونکہ وہ جب بھی پریشان ہوتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سہارا دیتے اور آپ اپنے عمدہ اخلاق اور بھرپور شفقت کا سایہ ان پر کیے رہتے۔ یہ بہتان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت مشقت آمیز ہو گیا۔ حتیٰ کہ ہماری امی جان عفیفۂ کائنات رضی اللہ عنہا کی پریشانی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات تک نہیں کر سکتے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی برأت اور پاک دامنی کا پورا یقین تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بیماری کو بھی سمجھتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف انہی دو الفاظ پر اکتفا کرتے: کَیْفَ تِیْکُمْ ’’تم کیسی ہو؟ اور آخر میں کہتے، تم پر اللہ کی رحمت و سلامتی ہو۔‘‘

جب معاملہ کی حقیقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہی تھی تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ اصحاب اور جیسے علی اور اسامہ رضی اللہ عنہما اور اپنے اہل بیت جیسے ام المؤمنین زینب اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کی خاص خادمہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے کیوں پوچھ گچھ کی؟ کیا ضلالتوں کے پجاریوں کے کہنے کے مطابق یہ سوالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شک کی بنیاد پر کیے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جواب شک کی تائید و تاکید میں تھا؟

(جیسا کہ ایک مجرمانہ کتاب بعنوان ’’خیانۃ عائشۃ بین الحقیقۃ و الاستحالۃ‘‘ کے مجرم مصنف محمد جمیل حمود العاملی نے (صفحہ 25) پر لکھا ہے اور اس کتاب میں نہایت گھٹیا اور فحش مواد ہے اور ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا پر سب سے زیادہ خبیثانہ اور فاحشانہ طریقے سے دشنام طرازی کی گئی ہے۔ جس کا تصور اس امت کی طرف منسوب کوئی مسلمان نہیں کر سکتا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلب گار ہیں اور جس جس نے ان کی عزت پر بٹہ لگانے کی کوشش کی اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

درج بالا شکوک و شبہات کا ازالہ:

1۔ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیوی کی پاک دامنی پر پورا یقین تھا۔ اس کے باوجود افواہ سازوں کی افواہوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر عظیم کا مظاہر کیا۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند کیا کہ آپ دوسروں سے یہ پوچھ کر اور ان سے یہ جواب سن کر دلی سکون حاصل کریں اور یہ تجربے کی بات ہے کہ پریشان حال اور صدمے سے دوچار شخص کو دوسروں کی تسلی دلانے اور ان کی حوصلہ افزائی سے زیادہ حوصلہ ملتا ہے اور اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مکمل طور پر محفوظ و معصوم ہیں کہ وہ اپنے سب سے زیادہ قریبی اور سب لوگوں سے زیادہ اپنی محبوب بیوی کے بارے میں شک کریں۔

2۔ اس گمراہ کن بہتان میں پھنسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موکد و مغلظ قسم اٹھا کر کہا کہ ’’عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان کے بہتان تراشوں سے بری الذمہ ہیں۔‘‘ وحی کے نزول سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی فرمان سے بہتان تراشوں کی زبانیں گنگ ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے یہ گواہی دیتے ہوئے فرمایا:

وَاللّٰہِ مَا عَلِمْتُ عَلٰی أَہْلِی إِلَّا خَیْرًا۔

ترجمہ: ’’اللہ کی قسم! میں اپنی بیوی کے متعلق نیکی اور بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔‘‘

(صحیح بخاری: 2771۔ صحیح مسلم: 277)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قسمیہ انداز یہ کہنے والوں کی زبانیں بند کر دینے کے لیے کافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شک کی بنا پر مختلف لوگوں سے پوچھ تاچھ کی۔

صفحہ 1 از 4