اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ…

اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

کیا ان لوگوں کو ہماری امی جان رضی اللہ عنہا کے بارے میں اتنا کچھ معلوم ہو گیا جو رب العالمین کی طرف سے وحی کیے جانے والا معصوم نبی بھی اس کے بارے میں نہ جانتا تھا۔ یا یہ کہ یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی کو جھٹلانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کی عزت پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں یہ بات صریح الدّلالہ ہے جو ہماری امی رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا یقین دلا رہی ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قسم کا شک و شبہ نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگوں کے منہ سے جوابات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان ہو جائے۔

علامہ ابن قیم الجوزی رحمہ اللہ نے اس سوال و جواب کے متعلق نہایت عمدہ کلام کیا ہے: ’’اس اذیت ناکی کا اصل نشانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی پر بہتان لگایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شایان شان یہ بات نہ تھی کہ آپ اپنی بیوی کی پاک دامنی کی گواہی دیں۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے یا یقین رکھتے تھے کہ وہ پاک دامن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق کبھی برا نہ سوچا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو اللہ اس سوچ سے اپنی پناہ میں رکھے۔ اسی لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتان تراشوں کے الزامات کے ضمن میں یہ فرمایا:

مَنْ یَعْذِرُنِی مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِی عَنْہُ أَذَاہُ فِی أَہْلِی وَاللّٰہِ مَا عَلِمْتُ عَلٰی أَہْلِیْ إِلَّا خَیْرًا وَلَقَدْ ذَکَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَیْہِ إِلَّا خَیْرًا وَمَا یَدْخُلُ عَلٰی أَہْلِی إِلَّا مَعِی

ترجمہ: ’’ایسے آدمی سے مجھے کون راحت پہنچائے گا جس کی اذیت ناکی سے میری اہلیہ کو نشانہ بنایا گیا؟ اللہ کی قسم! مجھے اپنی بیوی کے متعلق بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں معلوم اور انھوں نے جس آدمی کو ملوث کرنا چاہا مجھے اس کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کسی چیز کا علم نہیں اور وہ میری بیوی کے پاس اسی وقت جاتا تھا جب میں اس کے ساتھ ہوتا تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2661۔ صحیح مسلم:  حدیث نمبر: 2770)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاک دامنی کے قرائن دیگر اہل ایمان کی نسبت بہت زیادہ موجود تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کمال صبر، عزم مصمم، اپنی روایتی نرمی اور اپنے رب کے متعلق حسن ظن اور اس پر کامل بھروسہ اتنا زیادہ تھا کہ اس مقام صبر و ثبات اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کماحقہ حسن ظن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمے رہے۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ وحی آ گئی جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں آپ کو دلی مسرت حاصل ہوئی اور نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رب کے ہاں مزید بلند ہو گئی بلکہ اُمت کو بھی یقین ہو گیا کہ آپ کے رب کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کس قدر بلند ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

 (زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 235 )

اسی لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جواب نے بہتان تراشوں کا منہ بند کر دیا اور اس جواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی ختم ہو گئی اور وہ غم دُور ہو گیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بنا ہوا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جواب میں دو عظیم فائدے پنہاں تھے:

پہلا فائدہ: جب پریشانی کی جڑ کٹ جائے گی تو پریشانی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ چونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے علیحدگی کا اشارہ دیا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی تنگی نہیں کی، اس کے علاوہ بھی بے شمار عورتیں ہیں تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دلی سکون حاصل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس کو راحت مل گئی اور آپ کو قرار آ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ تمام اہل ایمان کے نزدیک کسی اور کی راحت کی نسبت آپ کی راحت مقدم ہے، تو صحابہ کرامؓ نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ کے علاوہ کوئی انسان چاہے کتنا ہی عظیم المرتبت ہو آپ سب سے بڑھ کر قدر و منزلت کے مستحق ہیں اور ہمارے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ عظیم الشان ہیں۔ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کسی وجہ سے آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہو اور کسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوں، بلکہ ہم آپ پر اپنے ماں باپ قربان کرتے ہیں۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا: ’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ جو افواہ پھیلی ہوئی ہے مشکوک ہے تو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ آپ شک و شبہ چھوڑیں اور یقین پر اعتماد کریں۔ تاکہ لوگوں کی افواہوں سے جو ہم و غم آپ کو لاحق ہو گیا ہے ،اس سے نجات ملے۔ تو انھوں نے بیماری کو جڑ سے کاٹنے کا اشارہ دیا۔‘‘

(زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 233)

سفیان ثوری نے کہا: ’’سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے اس مشورے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مصلحت بھانپ لی۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 468 )

یہی شان سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تھی۔ وہ اپنے آپ پر، اپنے گھر والوں پر، بلکہ سب لوگوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجیح دیتے تھے اور جب کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معمولی سی پریشانی یا کوئی صدمہ پہنچتا تو وہ سب اکٹھے ہو کر رونے لگ جاتے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5191۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی تمام بیویوں سے علیحدہ ہونے والے واقعہ پرغور کریں)

صفحہ 2 از 4