اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ…

اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

یہاں جو مؤقف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنایا اس کا سبب یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشوں کے بہتان لگانے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حزن و ملال طاری ہو گیا تھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس غم کے سبب کو جڑ سے اکھیڑنے کی طرف اشارہ کیا اور اس کے اسباب سے علیحدہ ہونے کا مشورہ دیا اگرچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی محبوب بیوی سے علیحدہ ہونا ہو، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ کی سب بیویوں سے زیادہ عالی قدر تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کا مرتبہ سب سے عظیم تھا۔ یہ بعینہٖ وہی موقف ہے جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس وقت اپنایا تھا جب لوگوں میں مشہور ہو چکا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک کمرے میں ان سب سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خادم رباح کے سامنے خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ بقول عمر رضی اللہ عنہ میں نے بلند آواز سے رباح سے کہا:

یَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِی عِنْدَکَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فَإِنِّی أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ظَنَّ أَنِّی جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَۃَ وَاللّٰہِ لَئِنْ أَمَرَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بِضَرْبِ عُنُقِہَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَہَا

ترجمہ: ’’اے رباح تو میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت حاصل کر۔ کیونکہ میرا گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوچ رہے ہیں کہ شاید میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے معاملے پر بات کرنے آیا ہوں۔ اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی گردن کاٹنے کا حکم دیں تو میں ضرور اس کی گردن کاٹ دوں گا۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1479)

سیدہ حفصہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی وہی بیٹی ہیں جن کی محبت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فطرت تھی۔ لیکن وہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میری پیاری بیٹی کو قتل کرنے کا حکم دیں تو میں اسے ضرور قتل کر ڈالوں۔

جی ہاں! اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل فضل کا مقام و مرتبہ اچھی طرح پہچانتے تھے، لیکن ان میں سے جب کوئی دیکھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ادنیٰ سا حزن و ملال پہنچا ہے تو ان تمام کے صبر کے پیمانے چھلک پڑتے۔ وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے دوڑ پڑتے اور چاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غم پہنچانے کا سبب کوئی بندہ بھی ہو انھیں کسی قسم کی پروا یا خوف نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو جائے۔ یہی مؤقف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنایا جو مؤقف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تھا، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنی بیٹی سے نفرت کرنے کا کوئی فرد تصور ہی نہیں کر سکتا۔

اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ سوچنا بھی محال ہے کہ وہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نفرت کرتے تھے جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلوص دل سے مشورہ دیا بلکہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کی عظیم قدر و منزلت سب سے مقدم اور سب سے بڑھ کر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ جو بھی جس قدر بھی مقام و مرتبہ کا مالک تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھا۔

دوسرا فائدہ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خادمہ سے پوچھ لیں وہ آپ کو سچ بتائے گی، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضل کا یقین تھا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زہر آلود حزن سے بچانے کے لیے اس خادمہ کے بیانات لینے کا مشورہ دیا جو اکثر اوقات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ ہوتی تھی، آپ کی خادمہ خاص تھی اور وہ ان کے پوشیدہ رازوں سے واقف تھی اور امور خانہ داری میں ان کا ہاتھ بٹاتی۔

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بدگمان ہوتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علیحدہ کرنے کا مشورہ دے کر خاموش رہتے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وسعت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محدود تو نہیں کیا بلکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مشورے کو بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہراتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف خوب اکساتے اور اس کے معاون دیگر اسباب بھی اکٹھا کرتے اور آپ سے اپنی بات منوانے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی منت سماجت کرتے۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس طرح کی پراگندگی کو ترک کر کے دوسرا مشورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ جب خادمہ آئی تو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نیکی کی گواہی دی اور ہماری امی جان جس مدح و ثنا کی مستحق اور اہل تھیں، خادمہ نے وہی مدح و ثنا بیان کر ڈالی۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا تکدر ختم ہو گیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مشورہ نہایت خوشگوار ثابت ہوا۔ گویا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو مشورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا وہ ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیب جوئی نہ تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس الزام سے بری الذمہ ہیں، لہٰذا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کو رافضی اپنی افتراء بازیوں کی دلیل نہیں بنا سکتے۔

اب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤقف نکتہ وار بیان کریں گے:

1۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مہینہ تک وحی رک گئی۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی وحی نہ آئی، ان لمحات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی علیحدگی کے متعلق مشورہ طلب کیا۔

صفحہ 3 از 4