اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ…

اس فتنہ کے متوقع نتیجہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ خاص سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں پوچھا تو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر کسی شک و شبہ کے متعلق کچھ نہ کہا۔ البتہ اتنا کہا کہ وہ کم عمری کی وجہ سے اہل خانہ کے گوندھے ہوئے آٹے سے غافل ہو جاتی ہیں۔

(ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا: اگر یہ کہا جائے کہ کیا بات ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں پہلے توقف کیوں کیا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں تحقیق شروع کر دی اور صحابہ کرامؓ سے مشورہ طلب کیا اور ان کی خادمہ سے ان کے بارے میں پوچھا۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال کو سب سے زیادہ جانتے تھے اور اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں قدر و منزلت کا علم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخوبی تھا اور وہ کس سلوک کی مستحق تھیں، یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا۔ کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند جلیل القدر صحابہ کی طرح کہہ دیتے: بے شک اللہ سبحانہ ہر عیب سے پاک ہے اور یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ (سورة النور آیت 12) تو اس شبہ کا یہ جواب دیا جائے گا کہ یہ تمام ظاہر و باہر حکمتیں ہی اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے سبب بنائیں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا امتحان لیا اور اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کی۔ حتیٰ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ماہ تک وحی نازل نہ ہوئی۔ اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کچھ بھی نازل نہیں کیا گیا۔ تاکہ اس کی وہ حکمتیں پوری ہو جائیں جو اس نے اس معاملے میں مقدر کی تھیں اور جن کا فیصلہ وہ کر چکا تھا اور وہ کمال کے انتہائی درجے پر پہنچ کر لوگوں کے سامنے آئیں اور سچے مومن اپنے ایمان، عدل و صدق پر اپنے رسوخ اور اللہ، اس کے رسول، اہل بیت اور سچے اہل ایمان کے متعلق اپنے یقین کو مزید پختہ کر لیں۔ ان کے برعکس جو لوگ منافق تھے وہ بہتان اور منافقت میں مزید بڑھ جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے لیے ان کی منافقت اور ان کی سازشیں خوب واضح ہو جائیں۔ (زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 234۔)

3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا اور ان سے اللہ کے دشمن عبداللہ بن ابی بن سلول کی سازش سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اذیت سہنی پڑی کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے لوگوں سے مدد طلب کی۔

4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے والدین کے گھر گئے اور انھیں نصیحت کی اور بتایا کہ اگر وہ پاک دامن ہوئیں تو اللہ ضرور ان کی پاک دامنی بیان کرے گا۔

5 ۔ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہی تھے کہ وحی نازل ہونا شروع ہو گئی۔ پھر وحی والی کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔ آپ نے سب سے پہلے جو بات کی وہ یہ تھی: ’’اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نے تمھیں پاک دامن قرار دیا ہے۔‘‘


صفحہ 4 از 4