Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صحابہ رضی اللہ عنہم کے موقف

  علی محمد الصلابی

اللہ تعالیٰ کی مشیت سے یہ فتنہ واقع ہوا جو بظاہر بہت بڑا امتحان اور آزمائش تھا، لیکن الحمدللہ اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں محتاط رہے۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کے متعلق نازل ہونے والی آیات میں ان صحابہ کا تذکرہ یوں فرمایا:

لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا وَّقَالُوۡا هٰذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ‏ ۞ (سورۃ النورآیت 12)

ترجمہ: جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے؟

بہتان تراشوں کی افواہوں میں صرف تین صحابہ کرامؓ پھسل گئے:

1۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ (اگرچہ ان کے ہونے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر: جلد 4 صفحہ 1884۔ البحر المحیط لابی حیان: جلد 8 صفحہ 20۔)

2۔ سیدنا مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ 

3۔ سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا

ان تینوں سچے مومنوں کو حد قذف کے طور پر اسّی اسّی کوڑے مارے گئے، جو ان کے لیے ان کے گناہوں سے تطہیر اور ان کے گناہوں کا کفارہ بن گئے۔ اللہ ان سے راضی ہو جائے۔

(زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 236)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِکَ شَیْئًا فَأُخِذَ بِہِ فِی الدُّنْیَا فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ وَطَہُورٌ

ترجمہ: ’’جس نے کوئی گناہ کیا اور دنیا میں پکڑا گیا تو وہ (حد کا نفاذ) اس کے گناہ کا کفارہ اور اسے پاک کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 6801۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1709)