ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان دلیل…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان دلیل میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزانِ دلیل میں 

واقعہ افک میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ظاہری فضائل اور ان کے بلند اخلاق اور شرافت نفس کو مفصل بیان کیا گیا۔

چونکہ وہ اپنی صدق قلبی کی وجہ سے نہایت نرم دل تھیں۔ ان کا باطن ہر قسم کی آلائش سے پاک تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا:

یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اَقْوَامٌ اَفْئِدَتُہُمْ مِثْلُ اَفْئِدَۃِ الطَّیْرِ

ترجمہ: ’’جنت میں کچھ لوگ اس حال میں جائیں گے کہ ان کے دل پرندوں کے دل کی طرح کمزور ہوں گے۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2840۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔)

اور اس ہیبت ناک قصہ میں درج بالا دعویٰ کے متعدد ثبوت موجود ہیں:

1۔ ذرا غور کریں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک کم قیمت ہار گم پاتی ہیں تو وہ اس کی تلاش میں قافلے سے پیچھے رہ جاتی ہیں، اس سلسلے میں ان کا ذاتی کردار صدق دل اور سلامت صدر پر دلالت کرتا ہے اور ان کے دل میں ذرہ بھر وسوسہ نہ تھا تاآنکہ بہتان تراشوں نے ایک سازش تیار کر لی۔

2۔ لوگوں کی افواہوں کی طرف ان کا دھیان مطلق نہ جاتا اور جس کے منہ میں جو آتا وہ کہہ دیتا لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں کی باتوں کی سن گن بالکل نہ لیتیں نہ تو انھیں چغلی کھانے کی جلدی تھی اور نہ انھیں غیبت سے دلچسپی تھی۔

3۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ خاص کی ان کے حق میں گواہی کہ وہ اخلاقِ عالیہ کی مالک اور صدق قلبی سے آراستہ ہیں۔ ان میں اس کے علاوہ کوئی عیب نہیں کہ وہ گندھے ہوئے آٹے کی حفاظت سے غافل ہو جاتی ہیں اور بکری آ کر وہ آٹا کھا جاتی ہے۔ دراصل عربی زبان میں اسے ’’مدح بما یشبہ الذم‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی کسی کی ایسی مدح کی جائے جو لفظی اعتبار سے مذمت معلوم ہو۔ جیسا کہ جاہلیت کے شاعر نابغہ ذیبانی کا ایک شعر ہے:

وَ لَا عَیْبَ فِیْہِمْ غَیْرَ اَنَّ سُیُوْفَہُمْ

بِہِنَّ فُلُوْلٌ مِنْ قِرَاعِ الْکَتَائِبِ

’’میرے ممدوح کے لشکریوں میں اس کے علاوہ کوئی عیب نہیں کہ ان کی تلواریں دشمن کو کاٹ کاٹ کر کند ہو چکی ہیں۔‘‘

(دیوان النابغۃ الذبیانی: صفحہ 32)

4۔ مدینہ منورہ میں وہ اپنی پالکی میں پہنچتی ہیں، ان کے گمان میں قطعاً یہ بات نہ تھی کہ کچھ لوگ اس بے گناہ اور پاک دامن لڑکی کے بارے میں کس طرح کی افواہیں پھیلاتے ہوں گے۔ حتیٰ کہ کچھ عرصے کے بعد انھیں کچھ باتوں کا علم ہوا تو خود وہ حکایتاً کہتی ہیں ’’میں اپنے والدین کے پاس آئی اور اپنی امی سے کہا: اے امی جان! لوگ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: اے بیٹی! تم اسے اپنے اوپر سوار نہ ہونے دو اور اسے ہلکا لو۔ اللہ کی قسم! جب بھی کوئی عورت حسن کا شاہکار ہوتی ہے اور اس کا خاوند بھی اس کے ساتھ بے انتہا محبت کرتا ہو جب کہ اس کی سوکنیں بھی ہوں، تو اس کے خلاف کثرت سے باتیں ہوتی رہتی ہیں۔

(کثرن علیہا: یعنی اس کے خلاف باتیں کرتی ہیں اور اس کی عیب جوئی کرتی ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 153۔)

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: ’’میں نے اپنی والدہ کی نصیحت آموز باتیں سن کر کہا: سبحان اللہ! کیا واقعی لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں؟‘‘

اس پاک دامن، صاف دل بھولی بھالی دوشیزہ کی سماعت پر یہ الفاظ بھی نہایت بوجھل بن کر گرے کہ لوگ ایسی گندی باتیں کر رہے ہیں۔

آیات کریمہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس صفت کا واشگاف الفاظ میں یوں اعلان کیا جاتا ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ۞ (سورۃ النور آیت 23)

ترجمہ: یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے، اور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔

اس آیت کریمہ میں ’’الغافلات‘‘ بمعنی سلیم الصدر، صافی القلب اور جو ہر قسم کے مکر و فریب سے خالی ہوتی ہیں۔

(الکشاف للزمخشری: جلدں3 صفحہ 222)

5۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ام مسطح کی بات سنی کہ وہ اپنے بیٹے مسطح کو بددعا دے رہی ہے تو ان کا کس طرح دفاع کیا؟ اور جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہو گیا کہ مسطح بھی ان کے متعلق افواہ پھیلانے والوں میں شامل ہے تو اس کے باوجود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کبھی مسطح کو منافقوں میں شریک نہیں کیا اور اگر وہ سنگ دل ہوتیں تو مسطح کے بارے میں غیض و غضب سے بھر چکی ہوتیں اور ان کا لہجہ اور رویہ ان کے ساتھ بگڑ چکا ہوتا، کیونکہ انھیں اپنے ذاتی دفاع کا حق تھا اور دفاعی طور پر آدمی جتنی بھی سخت زبان استعمال کر لے اس کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کا لب و لہجہ سخت تھا لیکن وہ اپنا دفاع کر رہا تھ، تو پھر اس وقت ذاتی دفاع کی کیا صورت ہو سکتی ہے کہ جب عورت کی شرافت اور شرم و حیا پر حملہ کیا گیا ہو؟

6۔ ہماری امی جان کی دیانت اور تقویٰ کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی گواہی جو خود ان کی اپنی قلبی طہارت و صفائے نفس کی دلیل ہے۔ جب انھوں نے اپنی پڑوسن کے بارے میں روشن مدحت کے کلمات ادا کیے حالانکہ ان دونوں کے درمیان فضائل اور تقرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول کے لیے ہر وقت مقابلہ جاری رہتا۔ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بھی پاک اور سچی بات کی اور ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنی پڑوسن عفیفۂ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کی گواہی دے دی۔ اس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یوں گویا ہیں: ’’اور یہ وہی ذات شریفہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیویوں کی نسبت فضائل کی تلاش میں مجھ سے مقابلے کی حالت میں رہتیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے ورع اور اپنے فضل سے افواہ پرستوں کے شر سے محفوظ رکھا۔‘‘

صفحہ 1 از 4