ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان دلیل میں
علی محمد الصلابیام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزانِ دلیل میں
واقعہ افک میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ظاہری فضائل اور ان کے بلند اخلاق اور شرافت نفس کو مفصل بیان کیا گیا۔
چونکہ وہ اپنی صدق قلبی کی وجہ سے نہایت نرم دل تھیں۔ ان کا باطن ہر قسم کی آلائش سے پاک تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اَقْوَامٌ اَفْئِدَتُہُمْ مِثْلُ اَفْئِدَۃِ الطَّیْرِ
ترجمہ: ’’جنت میں کچھ لوگ اس حال میں جائیں گے کہ ان کے دل پرندوں کے دل کی طرح کمزور ہوں گے۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2840۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔)
اور اس ہیبت ناک قصہ میں درج بالا دعویٰ کے متعدد ثبوت موجود ہیں:
1۔ ذرا غور کریں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک کم قیمت ہار گم پاتی ہیں تو وہ اس کی تلاش میں قافلے سے پیچھے رہ جاتی ہیں، اس سلسلے میں ان کا ذاتی کردار صدق دل اور سلامت صدر پر دلالت کرتا ہے اور ان کے دل میں ذرہ بھر وسوسہ نہ تھا تاآنکہ بہتان تراشوں نے ایک سازش تیار کر لی۔
2۔ لوگوں کی افواہوں کی طرف ان کا دھیان مطلق نہ جاتا اور جس کے منہ میں جو آتا وہ کہہ دیتا لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں کی باتوں کی سن گن بالکل نہ لیتیں نہ تو انھیں چغلی کھانے کی جلدی تھی اور نہ انھیں غیبت سے دلچسپی تھی۔
3۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ خاص کی ان کے حق میں گواہی کہ وہ اخلاقِ عالیہ کی مالک اور صدق قلبی سے آراستہ ہیں۔ ان میں اس کے علاوہ کوئی عیب نہیں کہ وہ گندھے ہوئے آٹے کی حفاظت سے غافل ہو جاتی ہیں اور بکری آ کر وہ آٹا کھا جاتی ہے۔ دراصل عربی زبان میں اسے ’’مدح بما یشبہ الذم‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی کسی کی ایسی مدح کی جائے جو لفظی اعتبار سے مذمت معلوم ہو۔ جیسا کہ جاہلیت کے شاعر نابغہ ذیبانی کا ایک شعر ہے:
وَ لَا عَیْبَ فِیْہِمْ غَیْرَ اَنَّ سُیُوْفَہُمْ
بِہِنَّ فُلُوْلٌ مِنْ قِرَاعِ الْکَتَائِبِ
’’میرے ممدوح کے لشکریوں میں اس کے علاوہ کوئی عیب نہیں کہ ان کی تلواریں دشمن کو کاٹ کاٹ کر کند ہو چکی ہیں۔‘‘
(دیوان النابغۃ الذبیانی: صفحہ 32)
4۔ مدینہ منورہ میں وہ اپنی پالکی میں پہنچتی ہیں، ان کے گمان میں قطعاً یہ بات نہ تھی کہ کچھ لوگ اس بے گناہ اور پاک دامن لڑکی کے بارے میں کس طرح کی افواہیں پھیلاتے ہوں گے۔ حتیٰ کہ کچھ عرصے کے بعد انھیں کچھ باتوں کا علم ہوا تو خود وہ حکایتاً کہتی ہیں ’’میں اپنے والدین کے پاس آئی اور اپنی امی سے کہا: اے امی جان! لوگ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: اے بیٹی! تم اسے اپنے اوپر سوار نہ ہونے دو اور اسے ہلکا لو۔ اللہ کی قسم! جب بھی کوئی عورت حسن کا شاہکار ہوتی ہے اور اس کا خاوند بھی اس کے ساتھ بے انتہا محبت کرتا ہو جب کہ اس کی سوکنیں بھی ہوں، تو اس کے خلاف کثرت سے باتیں ہوتی رہتی ہیں۔
(کثرن علیہا: یعنی اس کے خلاف باتیں کرتی ہیں اور اس کی عیب جوئی کرتی ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 153۔)
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: ’’میں نے اپنی والدہ کی نصیحت آموز باتیں سن کر کہا: سبحان اللہ! کیا واقعی لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں؟‘‘
اس پاک دامن، صاف دل بھولی بھالی دوشیزہ کی سماعت پر یہ الفاظ بھی نہایت بوجھل بن کر گرے کہ لوگ ایسی گندی باتیں کر رہے ہیں۔
آیات کریمہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس صفت کا واشگاف الفاظ میں یوں اعلان کیا جاتا ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ۞ (سورۃ النور آیت 23)
ترجمہ: یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے، اور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔
اس آیت کریمہ میں ’’الغافلات‘‘ بمعنی سلیم الصدر، صافی القلب اور جو ہر قسم کے مکر و فریب سے خالی ہوتی ہیں۔
(الکشاف للزمخشری: جلدں3 صفحہ 222)
5۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ام مسطح کی بات سنی کہ وہ اپنے بیٹے مسطح کو بددعا دے رہی ہے تو ان کا کس طرح دفاع کیا؟ اور جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہو گیا کہ مسطح بھی ان کے متعلق افواہ پھیلانے والوں میں شامل ہے تو اس کے باوجود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کبھی مسطح کو منافقوں میں شریک نہیں کیا اور اگر وہ سنگ دل ہوتیں تو مسطح کے بارے میں غیض و غضب سے بھر چکی ہوتیں اور ان کا لہجہ اور رویہ ان کے ساتھ بگڑ چکا ہوتا، کیونکہ انھیں اپنے ذاتی دفاع کا حق تھا اور دفاعی طور پر آدمی جتنی بھی سخت زبان استعمال کر لے اس کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کا لب و لہجہ سخت تھا لیکن وہ اپنا دفاع کر رہا تھ، تو پھر اس وقت ذاتی دفاع کی کیا صورت ہو سکتی ہے کہ جب عورت کی شرافت اور شرم و حیا پر حملہ کیا گیا ہو؟
6۔ ہماری امی جان کی دیانت اور تقویٰ کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی گواہی جو خود ان کی اپنی قلبی طہارت و صفائے نفس کی دلیل ہے۔ جب انھوں نے اپنی پڑوسن کے بارے میں روشن مدحت کے کلمات ادا کیے حالانکہ ان دونوں کے درمیان فضائل اور تقرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول کے لیے ہر وقت مقابلہ جاری رہتا۔ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بھی پاک اور سچی بات کی اور ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنی پڑوسن عفیفۂ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کی گواہی دے دی۔ اس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یوں گویا ہیں: ’’اور یہ وہی ذات شریفہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیویوں کی نسبت فضائل کی تلاش میں مجھ سے مقابلے کی حالت میں رہتیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے ورع اور اپنے فضل سے افواہ پرستوں کے شر سے محفوظ رکھا۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی بھی ثنا کی اور اس کی نیکوکاری کی گواہی دی اور یہ کہ جو کچھ بھی اس نے کہا وہ اپنے قبیلہ کی حمایت اور تعصب میں اس کے منہ سے نکل گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی باتوں کو اس کے ایمان میں نقص کی دلیل نہیں بنایا اور نہ ہی اس کے مقام و مرتبہ میں کمی کے لیے استعمال کیا۔ وہ کہنے لگیں: ’’بنو خزرج کا سردار، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اس دن سے پہلے نیک آدمی تھا، لیکن اسے اپنے قبیلہ کی حمایت نے اندھا کر دیا۔ ‘‘
ایسی گفتگو اور گواہی صرف شریف النفس انسان سے ہی صادر ہو سکتی ہے جیسی گفتگو اور گواہی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دی۔
7۔ اس طویل حدیث میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو ان کے جارحانہ مزاج یا درشت طبیعت کی طرف اشارہ کرتا ہو۔
8۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نرم دلی کا اندازہ کیجیے کہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف و عنایت خاص سے محروم ہوئیں جو انھیں ماضی میں ان کی بیماری کی حالت میں عنایت ہوتا تھا تو انھوں نے اس غم کو اپنے دل میں چھپا لیا اور صرف دلی سوال پر ہی اکتفا کیا جسے کوئی زبان بیان کرنے کا حوصلہ نہیں پاتی اور یہ حزن و ملال دراصل محبوب حقیقی کی بے رخی سے محب کے دل پر چوٹ کرتا ہے جو اپنے محبوب کی بے رخی کو فوراً محسوس کر لیتا ہے لیکن وہ ایک غم زدہ اور حیا و شرم کے پیکر کی طرح اپنے محبوب کے سامنے ظاہر نہیں کر سکتا جو اس کے دل اور نفس دونوں کے لیے جان افزا اور لذت آشنا ہوتا ہے اور ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا انہی صفات یعنی شرافت نفس اور شرم و حیا کا پیکر تھیں حتیٰ کہ سب لوگوں سے بڑھ کر جو ہستی ان کی محبوب اور ہر دل عزیز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہ صدق دل اور صدق عاطفت کے ساتھ فدا تھیں۔
9۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جوں جوں بہتان تراشوں کی افواہیں سنتی جاتی تھیں ان کا مرض شدید ہوتا جاتا تھا۔ یہ ان کی شرافت نفس کی عظیم دلیل ہے کیونکہ نفس انسانی جتنا پاک و صاف ہوتا ہے اتنا ہی بری بات کا صدمہ اس کے لیے درد انگیز ہوتا ہے۔
جب ایسے درشت جملے کسی غیر شریف نفس کے بارے میں کہے جاتے ہیں تو وہ نفس ذرہ بھر حزن و ملال محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ دل قساوت سے معمور ہوتا ہے اور طبیعت میں نری غلاظت بھری ہوتی ہے، اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رُخ انور پر حزن و ملال کی علامتیں صاف دکھائی دیتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو اور اپنے روزمرہ کے معمولات میں اس جانکاہ صدمے کا اظہار کرتے رہتے تھے کہ جو باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ہستی کے بارے میں کی جاتی تھیں۔ صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا کا جسم جس مرض میں مبتلا تھا اس میں جب بہتان تراشی کے صدمے کا اضافہ ہوا تو وہ شدت صدمے سے ہر وقت روتی رہتی، حتیٰ کہ جب انھیں علم ہوا تو وہ اپنی حالت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: میں اس تمام رات روتی رہی نہ تو میں نے نیند کی وجہ سے لمحہ بھر کے لیے پلک جھپکی اور نہ میرے آنسو تھمے۔ بلکہ میں نے صبح بھی روتے ہوئے کی۔ پھر اس کے بعد وہ کہتی ہیں: میرے ماں باپ میرے پاس صبح آئے جبکہ میں نے روتے ہوئے دو راتیں اور ایک مکمل دن گزار دیا۔ وہ دونوں سوچنے لگے کہ اس قدر رونا میرے جگر کو پھاڑ دے گا۔ بقول عائشہ رضی اللہ عنہا ابھی وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں روئے جا رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی میں نے اسے اجازت دے دی اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4750۔)
10۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی گفتگو کا رُخ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی طرف موڑا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایک ماہ تک کوئی گفت و شنید نہ کی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حیرت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کہ جب آپ نے ان کی پاک دامنی اللہ رب العالمین کے سپرد کر دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ بھی کہہ دیا کہ اگر ان سے گناہ ہو گیا ہے تو (اللہ انھیں اس گناہ سے اپنی امان میں رکھے)وہ توبہ و استغفار کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انداز سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اچانک تعجب ہوا اور اسی کی وجہ سے ان کے آنسو بہنا بند ہو گئے اور زبان گنگ ہو گئی۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ منافقوں کے لگائے گئے بہتان سے اپنے دل و دماغ کو خالی کر چکی تھیں، ان کے دل میں اس تہمت کا شائبہ تک نہ رہا اور دماغ ان مکدرانہ تصورات سے بالکل خالی ہو گیا۔
کیونکہ اچانک پن انسان کی سابقہ معلومات کی نفی کرتا ہے جس سے انسان کا ذہن صدمے سے محفوظ ہو جاتا ہے اور یہ کہ جس کی انھیں امید نہ تھی وہ پیش آ گیا جس کی وجہ سے اس قسم کا حیرت انگیز کلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قوت سماعت عاجز آ گئی اور انھیں یہ جان کر دلی اطمینان حاصل ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری پاک دامنی کا بلا شک و شبہ یقین ہے۔
اس لیے انھوں نے بیچارگی سے اپنا رونا دھونا بند کر دیا۔ اگرچہ وہ محسوس کر رہی تھیں کہ ان کو پہنچنے والا صدمہ ان آنسوؤں سے نہیں دھل سکتا۔ وہ خود بیان کرتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو ختم کی تو میرے آنسو تھم گئے۔ حتیٰ کہ مجھے یوں لگا گویا میں نے ایک آنسو بھی نہ بہایا ہو۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2661۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770)
پھر وہ اپنے ماں باپ کی طرف باری باری متوجہ ہوئیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری طرف سے جواب دے کر مطمئن کریں۔ ان دونوں نے چپ سادھ لی تو اس زخمی جان کے کرب میں مزید اضافہ ہو گیا اور انھیں یقین ہو گیا کہ خود بات کیے بغیر چارہ نہیں۔ زمین پر رہنا ان کے لیے مشکل ہو گیا، ان کا جی حزن وملال سے بھر گیا، ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، چنانچہ اس گھڑی انھیں رب العالمین سے مدد طلب کرنے کے علاوہ کسی سہارے کی امید نہ رہی۔ انھوں نے اپنے غم اوردکھ کی شکایت صرف اسی رب سے ہی کرنے کی ٹھان لی، آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سوچا کہ میں کم عمر لڑکی ہوں بکثرت قرآن بھی نہ پڑھتی تھی۔ اللہ کی قسم! تم سب نے یہ گفتگو سنی حتیٰ کہ تمہارے دلوں میں اس گفتگو کا پختہ اثر ہو گیا اور تم نے بزبان حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی تصدیق کر دی۔ اب اگر میں تمھیں کہوں کہ میں پاک دامن ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں پاک دامن ہوں تم میری اس بات کا یقین کرنے سے رہے اور اگر میں تمہارے سامنے اس گناہ کا اعتراف کر لوں حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو تم ضرور مجھے سچا کہو گے۔ اللہ کی قسم! مجھے تو تمہارے سامنے ابو یوسف علیہ السلام کا قول ہی دہرانا مناسب لگتا ہے:
(فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ۞(سورۃ يوسف آیت 18)
ترجمہ: اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔
ایسا کلام صرف صاف شفاف دل والا انسان ہی کر سکتا ہے۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے وہ سب کچھ کہنا مشکل تھا جس کا تصور کبھی ان کے دل میں نہ آیا تھا کجا یہ کہ انھیں اسی مکروہ جال میں پھانسنے کی کوشش کی گئی۔سیدہ رضی اللہ عنہا کے غمگین دل کی یہ کیفیت تھی کہ انہیں حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام بھی یاد نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے صرف یوسف کے والد کہا۔
11۔ اگرچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے ہاں بہت ہی اعلیٰ مقام و اعلیٰ شان ہے۔ لیکن انھوں نے ان کٹھن حالات میں بھی اپنی اس فضیلت و منزلت پر تکیہ نہ کیا اور اپنے رب کے سامنے تواضع و زاری کی۔ اسی کے سامنے اپنی حاجت مندی کا اظہار کیا۔ اس نوعمری (اس حادثے کے وقت وہ محض چودہ سالہ دوشیزہ تھیں ) میں بھی انھوں نے اپنی ذات کو کوئی اہمیت نہ دی۔
تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس نوعمری میں بھی جب اپنی جان کی ہلاکت کا اندیشہ تھا۔ انھیں اپنے رب تعالیٰ کے سہارے پر کامل بھروسا تھا، انھیں اس کے متعلق کامل حسن ظن اور اس پر مکمل اعتماد تھا۔ چنانچہ وہ اپنے متعلق فرماتی ہیں:
’’میں اس وقت جانتی تھی کہ بے شک میں پاک دامن ہوں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ میری پاک دامنی کا اعلان کرے گا لیکن اللہ کی قسم! یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ اللہ میرے معاملے میں تلاوت کی جانے والی وحی نازل کرے گا اور میری سوچ کے مطابق میری شان اتنی بلند نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسا کلام کرے گا جس کی تلاوت کی جاتی رہے، لیکن میں یہ امید ضرور رکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں ایسا خواب دیکھ لیں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ میری برأت کر دے گا۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4141۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770)
اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوچ کے اختتام سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے انھیں مشکل سے نجات دے دی، وہ جس قدر توقع کرتی تھیں وہ اس سے شان میں کہیں زیادہ بڑھ کر اکبر، اکرم اور اعظم تھیں۔ چنانچہ رب العالمین نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان کی برأت کے لیے آیات نازل کر دیں۔ جنھیں قیامت تک سینوں میں محفوظ کیا جاتا رہے گا اور ان کی تلاوت ہوتی رہے گی۔ اہل ایمان وہ آیات پڑھتے اور پڑھاتے رہیں گے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کے روشن کردار کی کرنیں زمان و مکان اور اقوام و قبائل کی حدود سے آگے تک روشن کرتی رہیں گی۔ وہ آیات جو عفیفۂ کائنات کی مبارک طہارت کی سدا بہار گواہ ہیں۔ جو رب العالمین و احکم الحاکمین کا پاک کلام ہے۔
12۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے کمال صدق اور سلامتی قلب کے ساتھ رب العالمین کی توحید کے ساتھ کس قدر مخلص تھیں کہ جب ان کی برأت کے لیے آیات کا نزول ہوا تو انھوں نے اپنی طرف سے حمد و ثنا کا مستحق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بنایا۔ بلکہ تمام مخلوق سے یک طرف ہو کر خلوصِ قلب کے ساتھ اللہ رب العالمین کی حمد و ثنا بیان کی۔ جو ان کے دل کی صفائی کی دلیل بھی ہے اور جب اہل خانہ نے ان سے کہا تم جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرو تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف حمد کرنے کبھی نہیں جاؤں گی۔ صرف اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی حمد بیان کروں گی۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2661۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770)
یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی توحید کے لیے خالص ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا شکوہ کرنے کی دلیل ہے۔
علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے لکھا:
’’یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ناز و نخرے کے انداز میں کہی، جس انداز میں ہر محبوب اپنے محب سے کرتا ہے۔‘‘
(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 277)
جب ایک ماہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملے کے متعلق وحی منقطع رہی تو اس صورت حال میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابن القیم الجوزیہ وحی نہ آنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’تاکہ صدیقہ اور ان کے ماں باپ رضی اللہ عنہم سے مطلوبہ عبودیت کی تکمیل ہو جائے اور ان پر ہونے والا اللہ تعالیٰ کا انعام مکمل ہو جائے۔ نیز ان سے اور ان کے ماں باپ کے فاقہ کی شدت سے ان سب کی اللہ تعالیٰ کی طرف حاجت مندی اور رغبت میں اضافہ بھی مقصود شارع تھا اور اس لیے بھی تاکہ ان سب کا اللہ تعالیٰ کے متعلق حسن ظن اور اس کے لیے درماندگی اور اسی سے امید پختہ ہو جائے۔ اس کی بجائے تمام مخلوق سے وہ اپنی امیدیں منقطع کر لیں اور مخلوق کے کسی فرد سے بھی نصرت اور کشادگی کے حصول کی ان کی تمنا ختم ہو جائے اسی لیے ان کے ماں باپ نے اس مقام پر ان کا پورا پورا حق ادا کرتے ہوئے کہا: بلکہ تم خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جاؤ اور اپنا مدعا بیان کرو۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نازل کر دی تھی اس کے باوجود انھوں نے پورے وثوق اور خود اعتمادی سے کہا: اللہ کی قسم! میں صرف اس اللہ رب العالمین کی حمد کروں گی جس نے میری برأت نازل کی۔‘‘
(زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 234 )
دوسری طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس ذات عالیہ کی اشک شوئی کے لیے آگے سے خاموش رہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے دلی صدمے اور شدت المیہ کا بھی احساس و لحاظ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور فرحت و شادمانی سے چمک رہا تھا اور ایسا کیوں نہ ہوتا اللہ رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا اعلان کیا تھا۔