ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان دلیل…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان دلیل میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی بھی ثنا کی اور اس کی نیکوکاری کی گواہی دی اور یہ کہ جو کچھ بھی اس نے کہا وہ اپنے قبیلہ کی حمایت اور تعصب میں اس کے منہ سے نکل گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی باتوں کو اس کے ایمان میں نقص کی دلیل نہیں بنایا اور نہ ہی اس کے مقام و مرتبہ میں کمی کے لیے استعمال کیا۔ وہ کہنے لگیں: ’’بنو خزرج کا سردار، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اس دن سے پہلے نیک آدمی تھا، لیکن اسے اپنے قبیلہ کی حمایت نے اندھا کر دیا۔ ‘‘

ایسی گفتگو اور گواہی صرف شریف النفس انسان سے ہی صادر ہو سکتی ہے جیسی گفتگو اور گواہی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دی۔

7۔ اس طویل حدیث میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو ان کے جارحانہ مزاج یا درشت طبیعت کی طرف اشارہ کرتا ہو۔

8۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نرم دلی کا اندازہ کیجیے کہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف و عنایت خاص سے محروم ہوئیں جو انھیں ماضی میں ان کی بیماری کی حالت میں عنایت ہوتا تھا تو انھوں نے اس غم کو اپنے دل میں چھپا لیا اور صرف دلی سوال پر ہی اکتفا کیا جسے کوئی زبان بیان کرنے کا حوصلہ نہیں پاتی اور یہ حزن و ملال دراصل محبوب حقیقی کی بے رخی سے محب کے دل پر چوٹ کرتا ہے جو اپنے محبوب کی بے رخی کو فوراً محسوس کر لیتا ہے لیکن وہ ایک غم زدہ اور حیا و شرم کے پیکر کی طرح اپنے محبوب کے سامنے ظاہر نہیں کر سکتا جو اس کے دل اور نفس دونوں کے لیے جان افزا اور لذت آشنا ہوتا ہے اور ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا انہی صفات یعنی شرافت نفس اور شرم و حیا کا پیکر تھیں حتیٰ کہ سب لوگوں سے بڑھ کر جو ہستی ان کی محبوب اور ہر دل عزیز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہ صدق دل اور صدق عاطفت کے ساتھ فدا تھیں۔

9۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جوں جوں بہتان تراشوں کی افواہیں سنتی جاتی تھیں ان کا مرض شدید ہوتا جاتا تھا۔ یہ ان کی شرافت نفس کی عظیم دلیل ہے کیونکہ نفس انسانی جتنا پاک و صاف ہوتا ہے اتنا ہی بری بات کا صدمہ اس کے لیے درد انگیز ہوتا ہے۔

جب ایسے درشت جملے کسی غیر شریف نفس کے بارے میں کہے جاتے ہیں تو وہ نفس ذرہ بھر حزن و ملال محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ دل قساوت سے معمور ہوتا ہے اور طبیعت میں نری غلاظت بھری ہوتی ہے، اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رُخ انور پر حزن و ملال کی علامتیں صاف دکھائی دیتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو اور اپنے روزمرہ کے معمولات میں اس جانکاہ صدمے کا اظہار کرتے رہتے تھے کہ جو باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ہستی کے بارے میں کی جاتی تھیں۔ صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا کا جسم جس مرض میں مبتلا تھا اس میں جب بہتان تراشی کے صدمے کا اضافہ ہوا تو وہ شدت صدمے سے ہر وقت روتی رہتی، حتیٰ کہ جب انھیں علم ہوا تو وہ اپنی حالت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: میں اس تمام رات روتی رہی نہ تو میں نے نیند کی وجہ سے لمحہ بھر کے لیے پلک جھپکی اور نہ میرے آنسو تھمے۔ بلکہ میں نے صبح بھی روتے ہوئے کی۔ پھر اس کے بعد وہ کہتی ہیں: میرے ماں باپ میرے پاس صبح آئے جبکہ میں نے روتے ہوئے دو راتیں اور ایک مکمل دن گزار دیا۔ وہ دونوں سوچنے لگے کہ اس قدر رونا میرے جگر کو پھاڑ دے گا۔ بقول عائشہ رضی اللہ عنہا ابھی وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں روئے جا رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی میں نے اسے اجازت دے دی اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4750۔)

10۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی گفتگو کا رُخ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی طرف موڑا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایک ماہ تک کوئی گفت و شنید نہ کی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حیرت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کہ جب آپ نے ان کی پاک دامنی اللہ رب العالمین کے سپرد کر دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ بھی کہہ دیا کہ اگر ان سے گناہ ہو گیا ہے تو (اللہ انھیں اس گناہ سے اپنی امان میں رکھے)وہ توبہ و استغفار کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انداز سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اچانک تعجب ہوا اور اسی کی وجہ سے ان کے آنسو بہنا بند ہو گئے اور زبان گنگ ہو گئی۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ منافقوں کے لگائے گئے بہتان سے اپنے دل و دماغ کو خالی کر چکی تھیں، ان کے دل میں اس تہمت کا شائبہ تک نہ رہا اور دماغ ان مکدرانہ تصورات سے بالکل خالی ہو گیا۔

کیونکہ اچانک پن انسان کی سابقہ معلومات کی نفی کرتا ہے جس سے انسان کا ذہن صدمے سے محفوظ ہو جاتا ہے اور یہ کہ جس کی انھیں امید نہ تھی وہ پیش آ گیا جس کی وجہ سے اس قسم کا حیرت انگیز کلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قوت سماعت عاجز آ گئی اور انھیں یہ جان کر دلی اطمینان حاصل ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری پاک دامنی کا بلا شک و شبہ یقین ہے۔

اس لیے انھوں نے بیچارگی سے اپنا رونا دھونا بند کر دیا۔ اگرچہ وہ محسوس کر رہی تھیں کہ ان کو پہنچنے والا صدمہ ان آنسوؤں سے نہیں دھل سکتا۔ وہ خود بیان کرتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو ختم کی تو میرے آنسو تھم گئے۔ حتیٰ کہ مجھے یوں لگا گویا میں نے ایک آنسو بھی نہ بہایا ہو۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2661۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770)

صفحہ 2 از 4