ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان دلیل…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان دلیل میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

پھر وہ اپنے ماں باپ کی طرف باری باری متوجہ ہوئیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری طرف سے جواب دے کر مطمئن کریں۔ ان دونوں نے چپ سادھ لی تو اس زخمی جان کے کرب میں مزید اضافہ ہو گیا اور انھیں یقین ہو گیا کہ خود بات کیے بغیر چارہ نہیں۔ زمین پر رہنا ان کے لیے مشکل ہو گیا، ان کا جی حزن وملال سے بھر گیا، ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، چنانچہ اس گھڑی انھیں رب العالمین سے مدد طلب کرنے کے علاوہ کسی سہارے کی امید نہ رہی۔ انھوں نے اپنے غم اوردکھ کی شکایت صرف اسی رب سے ہی کرنے کی ٹھان لی، آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سوچا کہ میں کم عمر لڑکی ہوں بکثرت قرآن بھی نہ پڑھتی تھی۔ اللہ کی قسم! تم سب نے یہ گفتگو سنی حتیٰ کہ تمہارے دلوں میں اس گفتگو کا پختہ اثر ہو گیا اور تم نے بزبان حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی تصدیق کر دی۔ اب اگر میں تمھیں کہوں کہ میں پاک دامن ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں پاک دامن ہوں تم میری اس بات کا یقین کرنے سے رہے اور اگر میں تمہارے سامنے اس گناہ کا اعتراف کر لوں حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو تم ضرور مجھے سچا کہو گے۔ اللہ کی قسم! مجھے تو تمہارے سامنے ابو یوسف علیہ السلام کا قول ہی دہرانا مناسب لگتا ہے:

(فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ‌ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ۞(سورۃ يوسف آیت 18)

ترجمہ: اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔

ایسا کلام صرف صاف شفاف دل والا انسان ہی کر سکتا ہے۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے وہ سب کچھ کہنا مشکل تھا جس کا تصور کبھی ان کے دل میں نہ آیا تھا کجا یہ کہ انھیں اسی مکروہ جال میں پھانسنے کی کوشش کی گئی۔سیدہ رضی اللہ عنہا کے غمگین دل کی یہ کیفیت تھی کہ انہیں حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام بھی یاد نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے صرف یوسف کے والد کہا۔

11۔ اگرچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے ہاں بہت ہی اعلیٰ مقام و اعلیٰ شان ہے۔ لیکن انھوں نے ان کٹھن حالات میں بھی اپنی اس فضیلت و منزلت پر تکیہ نہ کیا اور اپنے رب کے سامنے تواضع و زاری کی۔ اسی کے سامنے اپنی حاجت مندی کا اظہار کیا۔ اس نوعمری (اس حادثے کے وقت وہ محض چودہ سالہ دوشیزہ تھیں ) میں بھی انھوں نے اپنی ذات کو کوئی اہمیت نہ دی۔

تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس نوعمری میں بھی جب اپنی جان کی ہلاکت کا اندیشہ تھا۔ انھیں اپنے رب تعالیٰ کے سہارے پر کامل بھروسا تھا، انھیں اس کے متعلق کامل حسن ظن اور اس پر مکمل اعتماد تھا۔ چنانچہ وہ اپنے متعلق فرماتی ہیں:

’’میں اس وقت جانتی تھی کہ بے شک میں پاک دامن ہوں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ میری پاک دامنی کا اعلان کرے گا لیکن اللہ کی قسم! یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ اللہ میرے معاملے میں تلاوت کی جانے والی وحی نازل کرے گا اور میری سوچ کے مطابق میری شان اتنی بلند نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسا کلام کرے گا جس کی تلاوت کی جاتی رہے، لیکن میں یہ امید ضرور رکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں ایسا خواب دیکھ لیں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ میری برأت کر دے گا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4141۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770)

اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوچ کے اختتام سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے انھیں مشکل سے نجات دے دی، وہ جس قدر توقع کرتی تھیں وہ اس سے شان میں کہیں زیادہ بڑھ کر اکبر، اکرم اور اعظم تھیں۔ چنانچہ رب العالمین نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان کی برأت کے لیے آیات نازل کر دیں۔ جنھیں قیامت تک سینوں میں محفوظ کیا جاتا رہے گا اور ان کی تلاوت ہوتی رہے گی۔ اہل ایمان وہ آیات پڑھتے اور پڑھاتے رہیں گے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کے روشن کردار کی کرنیں زمان و مکان اور اقوام و قبائل کی حدود سے آگے تک روشن کرتی رہیں گی۔ وہ آیات جو عفیفۂ کائنات کی مبارک طہارت کی سدا بہار گواہ ہیں۔ جو رب العالمین و احکم الحاکمین کا پاک کلام ہے۔

12۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے کمال صدق اور سلامتی قلب کے ساتھ رب العالمین کی توحید کے ساتھ کس قدر مخلص تھیں کہ جب ان کی برأت کے لیے آیات کا نزول ہوا تو انھوں نے اپنی طرف سے حمد و ثنا کا مستحق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بنایا۔ بلکہ تمام مخلوق سے یک طرف ہو کر خلوصِ قلب کے ساتھ اللہ رب العالمین کی حمد و ثنا بیان کی۔ جو ان کے دل کی صفائی کی دلیل بھی ہے اور جب اہل خانہ نے ان سے کہا تم جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرو تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف حمد کرنے کبھی نہیں جاؤں گی۔ صرف اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی حمد بیان کروں گی۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2661۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770)

یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی توحید کے لیے خالص ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا شکوہ کرنے کی دلیل ہے۔

علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے لکھا:

’’یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ناز و نخرے کے انداز میں کہی، جس انداز میں ہر محبوب اپنے محب سے کرتا ہے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 277)

جب ایک ماہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملے کے متعلق وحی منقطع رہی تو اس صورت حال میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابن القیم الجوزیہ وحی نہ آنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

صفحہ 3 از 4