ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان دلیل…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان دلیل میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

’’تاکہ صدیقہ اور ان کے ماں باپ رضی اللہ عنہم سے مطلوبہ عبودیت کی تکمیل ہو جائے اور ان پر ہونے والا اللہ تعالیٰ کا انعام مکمل ہو جائے۔ نیز ان سے اور ان کے ماں باپ کے فاقہ کی شدت سے ان سب کی اللہ تعالیٰ کی طرف حاجت مندی اور رغبت میں اضافہ بھی مقصود شارع تھا اور اس لیے بھی تاکہ ان سب کا اللہ تعالیٰ کے متعلق حسن ظن اور اس کے لیے درماندگی اور اسی سے امید پختہ ہو جائے۔ اس کی بجائے تمام مخلوق سے وہ اپنی امیدیں منقطع کر لیں اور مخلوق کے کسی فرد سے بھی نصرت اور کشادگی کے حصول کی ان کی تمنا ختم ہو جائے اسی لیے ان کے ماں باپ نے اس مقام پر ان کا پورا پورا حق ادا کرتے ہوئے کہا: بلکہ تم خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جاؤ اور اپنا مدعا بیان کرو۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نازل کر دی تھی اس کے باوجود انھوں نے پورے وثوق اور خود اعتمادی سے کہا: اللہ کی قسم! میں صرف اس اللہ رب العالمین کی حمد کروں گی جس نے میری برأت نازل کی۔‘‘

(زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 234 )

دوسری طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس ذات عالیہ کی اشک شوئی کے لیے آگے سے خاموش رہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے دلی صدمے اور شدت المیہ کا بھی احساس و لحاظ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور فرحت و شادمانی سے چمک رہا تھا اور ایسا کیوں نہ ہوتا اللہ رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا اعلان کیا تھا۔


صفحہ 4 از 4