Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان عقل میں

  علی محمد الصلابی

یہاں ہم بہتان تراشوں کے بہتان کو ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کردار کے مقابلے میں محض عقل کے ترازو کے مطابق پرکھتے ہیں اور ان کے ان فضائل سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے وقتاً فوقتاً صادر ہوتے رہتے تھے۔ ان کے اس مقام سے صرف نظر کریں گے جو رب العالمین کے کلام میں ان کے لیے متعین تھا۔

ہم ذیل میں ایسے مختصر نکات کے ذریعے اپنی امی جان کے ان کے ذاتی کردار کے حوالے سے اہل بہتان کے بہتان کا جائزہ لیں گے جو اس حقیقت کا ثبوت ہوں گے کہ ہماری امی جان کا کردار مشکوک و مشتبہ لوگوں کا سا نہ تھا بلکہ ان کا کردار سلیم العقل اور سلیم الصدر لوگوں کے مثل تھا۔

1۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قرعہ کے موافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں نہ کہ ان کی اپنی خواہش یا لالچ کی وجہ سے یہ ہم سفری انھیں عطا ہوئی۔ جبکہ مشکوک لوگ پہلے سے تیاری بناتے ہیں اور آپس میں مشورہ کر کے ایک سازش کا تانا بانا بنتے ہیں، لیکن اس واقعہ میں ایسا کچھ بھی نہ تھا۔

2۔ ہماری امی جان کے لشکر سے پیچھے رہنے میں ان کے ارادے یا نیت کا کوئی دخل نہ تھا، بلکہ ہر انسان کو یہ حاجت لاحق ہوتی ہے اور وہ اسے پورا کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور اگر واقعی وہ مشکوک ہوتیں تو اپنی اصلی جگہ ہرگز لوٹ کر نہ آتیں، بلکہ کہیں دُور ٹھہرتیں۔ کیونکہ اپنی جگہ پر لوٹنے میں یہ گمان ہو سکتا ہے کہ وہاں کوئی خبرگیری کرنے والا آ سکتا ہے۔ خصوصاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا ہونا ناممکن نہ تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ کو عموماً اپنی نظر میں رکھتے اور جب کوئی نظروں سے خلاف معمول اوجھل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اس کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی فکر لاحق ہوتی۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں کئی بار اپنی بیوی کے ساتھ الفت و انس کا اظہار کرتے اور راستے کے دوران ہی اپنی بیوی سے سرگوشیاں کرتے۔

لیکن بہتان تراشوں کی تہمت کے برعکس عفیفہ کائنات کے معمولات میں کوئی ایسی مشکوک حرکت ظاہر نہیں ہوئی۔ کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی جگہ کا قصد کیا جہاں ہر کوئی آسانی کے ساتھ پہنچ سکتا تھا اور یہی چیز اہل بہتان کی تدبیروں اور مکر و فریب کے پردے چاک کرتی ہے۔ چنانچہ وہ فرماتی ہیں: میں نے اپنی اسی جگہ کا قصد کیا جہاں میں پڑاؤ کیا تھا اور مجھے یقین تھا کہ وہ جب مجھے گم پائیں گے تو تلاش کرتے کرتے یہاں ضرور آئیں گے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر:  2661 صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770)

3۔ ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ دوپہر کو پہنچیں۔ سب لوگوں کے سامنے اور چمکتے دن کے وسط میں۔ نہ تو انھوں نے رات کے اندھیرے کا انتظار کیا اور نہ ہی شک و شبہ کو اپنے پاس پھٹکنے دیا۔ وہ جب لوگوں کے پاس پہنچیں تو ان کی اونٹنی کی مہار سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی اور سورج آسمان کے افق میں خوب روشن تھا۔ جبکہ کسی قسم کی سازش میں ملوث لوگ رات کے سکوت کا انتظار کرتے ہیں اور اندھیروں کے پردوں میں اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور عام لوگوں کی نگاہوں سے کوسوں دُور رہتے ہیں، تاکہ جب وہ لوٹیں تو انھیں کوئی دیکھ نہ لے۔

جب عقل درج بالا تمام حقائق کی توثیق کرتی ہے اور یہ سب کچھ صحیح ہے توبلاشبہ ام المؤمنین کی مدینہ میں آمد دوپہر کو ہونا ہر خبیث اور شرارتی شخص کے ہفوات کو ردّ کرتی ہے، جبکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی مشکوک شخص ہوتا تو وہ رات کو تاخیر سے آنے کی کوئی علت یا توجیہ اور سبب ضرور بیان کرتا تو دوپہر کو لوٹنا سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت اور سلامتی نیت کی واضح دلیل ہے۔

4۔ سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کا لشکر کے پیچھے آنا صرف اسی غزوہ کی کوئی استثنائی صورت یا خصوصیت نہ تھی بلکہ ان کی ہمیشہ ہر سفر میں یہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ ہمیشہ لشکر سے ایک منزل کے فاصلے پر چلتے۔ جو بھی قافلے میں کسی وجہ سے سست پڑ جاتا، یا تھک جاتا اسے وہ سہارا دیتے اور راستے میں یا پڑاؤ کی جگہ کوئی بھی گری پڑی چیز انھیں ملتی تو لشکر میں اس کے مالک تک پہنچاتے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

’’صفوان رضی اللہ عنہ لوگوں سے پیچھے رہ جاتے تو وہ پیالہ

(القدح: پینے کا برتن۔ (مختار الصحاح للرازی:  صفحہ 523)

اونی تھیلا (الجراب: بکری کے رنگے ہوئے چمڑے سے بنا تھیلا۔ جس میں صرف خشک اشیاء محفوظ کی جاتی تھیں جیسے کھجور وغیرہ۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 1 صفحہ 259) 

یا کشکول (الاداوۃ: پانی پینے کے لیے چمڑے سے بنا چھوٹا سا برتن۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر۔) وغیرہ اٹھا لیتے اور اس کے مالک تک پہنچا دیتے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 461، 462)

گویا یہ معمول کی بات تھی جسے سب لوگ جانتے تھے اور ہر صحابی صفوان تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا تھا تاکہ اگر وہ لشکر سے پیچھے رہ گیا ہو تو صفوان کی راہنمائی میں لشکر کے ساتھ مل جائے۔ یہ کوئی خفیہ راز نہ تھا اور نہ ہی کوئی استثنائی عمل تھا۔

جبکہ مشکوک اور مشتبہ آدمی اپنے جاننے والے کے قریب نہیں جاتا اور اپنی جان پہچان والوں سے دُور دُور رہتا ہے، اپنے معمولات کو خفیہ اور راز بنا کر رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو سکے، لیکن سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ اس مشکوک رویہ سے کوسوں دُور تھے۔ اسی لیے بہتان تراشوں کا بہتان باطل ہو جاتا ہے۔

5۔ مشکوک اور مشتبہ لوگوں پر ہمیشہ خوف اور قلق مسلط رہتا ہے اور ہمیشہ اپنے متعلق خبروں کی جستجو میں لگے رہتے ہیں، وہ ہمیشہ خوف اور قلق سے لتھڑے ہوئے سوالات لوگوں سے کرتے رہتے ہیں کیا کسی کو معلوم ہوا؟ کیا واقعہ اس طرح ہوا؟ کیا کہا گیا؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی کوئی بات ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق سنائی نہیں دی، بلکہ وہ واپس اپنے گھر میں پاک دامن نفس اور طہارت قلبی کے ساتھ داخل ہوئیں۔ البتہ انھیں سفر کی تکان کی وجہ سے تیز بخار ضرور تھا۔ جس وجہ سے ان کا گھر سے نکلنا محال ہو گیا۔ ہم نے ان کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں سنی کہ انھیں کسی قسم کا خوف، قلق یا پریشانی لاحق تھی۔ ہاں اتنا ضرور تھا کہ انھیں اپنی بیماری کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وہ لطف و عنایت نہ ملی جو اس سے پہلے ان کی کسی تکلیف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لطف و اہتمام ملتا تھا۔ یہی ایک بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے باعث تکلیف تھی۔ وہ فرماتی ہیں:

’’مجھے اس بات کا کچھ بھی علم نہ تھا اور مجھے اپنی بیماری کے دوران یہی چیز پریشان کرتی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لطف سے محروم تھی جو لطف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مجھے اس سے پہلے کسی بھی بیماری کے دوران ملتا تھا۔ اب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے، سلام کرتے، پھر فرماتے: ’’تم کیسی ہو؟‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے جاتے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول مجھے شک میں ڈالتا اور جب تک قدرے افاقے کے بعد میں گھر سے نہ نکلی، مجھے فتنے کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4141۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770) 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فتنے کے بارے میں علم تھا اور نہ ہی انھیں احساس تھا، کیونکہ وہ اس سے بالکل محفوظ تھیں اور نہ ہی سیّدنا صفوان رضی اللہ عنہ کو فتنے کے بارے میں کچھ معلوم تھا۔ کیا فتنے کے ارتکاب کرنے والے سے پہلے کسی اور کو اس فتنے کا علم ہو سکتا ہے؟ لیکن ہماری امی جان کو اس فتنے کا قطعاً کوئی علم نہ تھا اور نہ انھیں اس کی پہچان تھی اور انھیں جو احساس تھا وہ کہیں اور سے تھا۔ ہمیں ان کی طویل روایت میں ایک حرف بھی ایسا نہیں ملتا جو ان کے مخفی خوف کی طرف اشارہ کرتا ہو۔

6۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا اعلان نازل ہونے کے بعد ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ جانا اور اپنے محبوب خاوند سے شکوے کے انداز میں بات کرنا اہل بصیرت کے لیے اس بات کی قوی دلیل ہے کہ یہ انداز صرف اسی کا ہو سکتا ہے جو اس بہتان میں ملوث نہ ہوا ہو۔ کیونکہ جو شخص اپنے اوپر لگائے جانے والے بہتان کا ارتکاب کر چکا ہو، وہ ہمیشہ اپنے بچاؤ کے لیے موقع کی تلاش میں رہتا ہے تاکہ وہ حیلے بہانے سے جائے وقوعہ سے بھاگ سکے، بظاہر تہمت سے بچنے کی خوشی میں جبکہ آزاد اور شریف آدمی پر جب بہتان لگتا ہے اور اسے اس کی خاص چیز میں اذیت دی جاتی ہے اور وہ اس کی عزت ہے۔ پھر اس الزام سے اس کی پاک دامنی ثابت ہو جائے وہ اتنا خوش نہیں ہوتا کہ یہ کہا جائے کہ وہ خوشی سے اچھلتا کودتا پھرتا ہے۔ وہ قائم تو رہتا ہے لیکن اس حال میں کہ اسے گہرا زخم لگ چکا ہوتا ہے۔ اسے اپنی پاک دامنی کے ثبوت ملنے کے بعد لامحدود خوشی نہیں ہوتی اور وہ سابقہ اذیت ناکی کو یکسر نہیں بھولتا، بلکہ ایک وقت تک درد و الم اسے کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ پھر کچھ عرصے کے بعد اسے سکون قلبی اور اطمینان نفسی حاصل ہوتا ہے۔ تو ہماری معزز ممدوحہ سلام اللہ علیہا کا انکار، لاڈ پیار اور شکایت کے طور پر تھا۔

اس نفس سے اس قسم کا اظہار نہیں ہو سکتا جسے معصیت کے ارتکاب نے کمزور کر دیا ہو، بلکہ ایسے جذبات کا اظہار کسی غیور نفس سے ہی ہو سکتا ہے کہ جس شخص کی عزت پر بہتان تراشوں نے بہتان لگا کر اسے مجروح کر دیا ہو۔ تو وہ شخص اپنے نفس کو اظہار غضب سے نہیں روک سکتا۔ اگرچہ اس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ صفت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں تھی۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبات کو کشادہ دلی سے سنا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم تھا کہ ان جذبات کا منبع ہی اتنا نفیس ہے جس کی طرف یہ ذات طاہرہ و صدیقہ رضی اللہ عنہا منسوب ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((اَلنَّاسُ مَادِنٌ)) ’’لوگ کانوں (معدنیات) کی طرح ہوتے ہیں۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3383۔ صحيح مسلم: حدیث نمبر: 2378)

جن نکات کا تذکرہ ہم نے گزشتہ صفحات میں کیا، یہ ہماری امی جان کے ذاتی کردار سے ماخوذ ہیں۔ جو ان کی طہارت و برأت کے بہترین ثبوت ہیں۔ اگرچہ انھیں پاک دامن ثابت کرنے کے لیے ان کا ذاتی کردار ہی کافی ہے کہ بہتان تراشوں کے منہ بند ہو جائیں۔ کجا یہ کہ ان کی برأت اور ان کی پاک دامنی کے ثبوت کے طور پر قرآن کریم کی مبارک آیات نازل ہوئیں جو تاقیامت لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہوتی رہیں گی اور زبانوں سے جن کی تلاوت ہوتی رہے گی۔

اگر بہتان تراش اور ان کی افواہوں سے متاثر ہو جانے والے لوگ اپنی عقلوں سے ام المؤمنینؓ کی شان کے بارے میں سوچتے اور تدبر و تفکر سے کام لے کر کڑی سے کڑی ملاتے تو ان کی زبان سے پہلے محض ان کی عقل ہی اس بہتان کو باطل کہہ دینے پر مجبور کر دیتی کہ جس بہتان کو ہر سلیم الفطرت مومن نے سنتے ہی باطل کہہ دیا۔ اگرچہ اس بہتان کی مخالفت معصوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آنے والی وحی نے بھی کر دی اور پختہ ایمان والے اہل ایمان نے تو سنتے ہی یہ کہہ دیا تھا:

بِهٰذَا سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞( سورۃ النور آیت 16)

ترجمہ: یا اللہ ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔

ادیب مصر عباس محمود العقاد (عباس بن محمود بن ابراہیم العقاد 1306 ہجری میں مصر میں پیدا ہوئے۔ ادیب، دانش ور، صحافی اور شاعر تھے۔ تصنیف و تالیف کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ مختلف علوم و فنون میں ان کی تصانیف مطبوع و متداول ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف ’’عبقریۃ محمد صلي الله عليه وسلم ‘‘ اور ’’المرأۃ فی القرآن‘‘ ہیں۔ 1383 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 262۔) رحمہ اللہ نے لکھا:

’’کوئی بھی قاری کشادہ ظرفی سے کام لیتے ہوئے ایک ہی نظر میں اس افواہ کے جھوٹا ہونے کا اقرار کر لیتا ہے اور تحقیق کے بعد تو یہ ثابت ہو گیا کہ وہ ایک جھوٹی افواہ تھی۔ کسی بھی منصف مزاج شخص کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس بہتان کے پس منظر میں سازش کا جال صاف نظر آتا ہے۔ جو دینی و سیاسی تعصبات سے بنا گیا ہے، کیونکہ یہ بہتان تراشی اس زرخیز زمین کی مانند ہے جو وباؤں کی آماج گاہ ہو، جس پر خباثت، جھوٹ اور منافقت کے چھڑکاؤ ہوتے ہیں، جو الزام اور چغلی اس کھیت سے اُگی ہو اس کی بنیادوں میں شکوک و شبہات کی ملاوٹ ضرور ہوتی ہے۔ بہتان تراش اس کی اسناد اور اس کے متعلق شبہات تو کثرت سے ہوتے ہیں۔ لیکن اس بہتان کی نہ کوئی سند ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں بظاہر کوئی شبہ ہوتا ہے۔ ہاں ، یہ ضرور ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قافلے سے کچھ لمحات کے لیے بچھڑ گئیں جب قافلے والے پڑاؤ اٹھا کر واپس چل دئیے۔ اس وقت کے قافلے پڑاؤ کرتے وقت اور پڑاؤ اٹھاتے وقت بہت ساری چیزیں بھول جایا کرتے تھے۔ ایسا شبہ کسی عام مسلمان عورت پر بھی نہیں کیا جا سکتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں گھر سے سفر جہاد کی نیت سے روانہ ہو چکی ہو۔ اگر اس وقت کے لحاظ سے جو عورت قافلے سے بچھڑ جاتی اس پر برائی کی تہمت چسپاں کر دی جاتی جو اس کی عزت و آبرو اور اس کے دین کو داغ دار کرنے کا باعث بن جاتی تو لوگوں کی عزتوں پر ان حالات میں ایسی تہمتیں لگانا بہت ہی آسان ہوتا۔

بلکہ سوائے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کسی بھی عورت پر جو قافلے سے بچھڑ جاتی اس پر اس تاخیر کی وجہ سے تہمت لگانا کچھ مشکل نہ ہوتا۔ لیکن مذکورہ قافلے میں سوائے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کوئی عورت تھی ہی نہیں۔ ان کی پالکی اٹھانے اور اتارنے والے ہر بار اٹھاتے وقت ان کے رعب اور وقار کی وجہ سے یہ پوچھنے کی جرأت نہ کر سکتے کہ پالکی کے اندر کوئی ہے یا نہیں؟

سوائے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس قدر مسلمانوں پر کسی اور عورت کا رعب و وقار نہیں تھا، کیونکہ وہ صدیق کی بیٹی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں اور مذکورہ غزوہ میں مہاجرین کا جھنڈا ان کے باپ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تھاما ہوا تھا۔

جو شخص ایسا بودا اور کمزور الزام قبول کر سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی عقل کی تربیت ایسے ہی متعدد امور کی تصدیق پر کرے جن کی تصدیق و تاکید کرنے کا کوئی ظاہری سبب نہ ہو۔ کیونکہ اس کی ردی عقل کے مطابق ہر معاملے کی دلیل ہونا ضروری ہے اور دلائل ردّ کرنے کی بے شمار وجوہ موجود ہوتی ہیں۔

ایسے کم عقل شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کی دلیل تلاش کرے کہ صفوان بن معطل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی وہ احکام اسلام مانتے تھے۔

اس کم عقل شخص کے لیے اس بات کی دلیل تلاش کرنا بھی ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائی تھیں اور نہ ہی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی پابند تھیں ۔نہ تو دلیل اس تہمت کی ہے اورنہ ان دعوؤں کی۔ بلکہ صفوان بن معطل اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کے ایمان کی دلیلوں سے سیرت کی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ چنانچہ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ ایک غیور مسلمان تھے۔ متعدد غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب رہے اور وہ شہید ہوئے۔ ان کی طرف کسی برائی کو منسوب نہیں کیا جاتا۔

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے ہر لفظ پر ایمان رکھتی تھیں اور اس قدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی اس قدر محافظ تھیں کہ ان کے اس عمل سے برکت تو مل سکتی ہے کوئی غفلت نہیں ہو سکتی اور اب ایک پہلو رہ جاتا ہے کہ یہ تہمت قبول کرنے والا شخص اپنے آپ سے یہ پوچھے کہ صفوان رضی اللہ عنہ کا مذکورہ تعلق کب سے پیدا ہوا۔ کیا صرف اسی رات میں سب کچھ ہو گیا؟ اس آدمی نے سب سے پہلے ام المؤمنینؓ پر ہلہ بولنے کی جرأت کیسے کر لی؟ حالانکہ وہ تو ان کی پالکی اٹھاتے وقت آواز دے کر ان کی موجودگی یا عدم موجودگی کی تاکید بھی نہ کر سکتے تھے اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس ہوس کے مارے نے یہ جرأت کر لی تو پھر یہ بات عقل کیسے مانے گی کہ صدیق کی بیٹی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی اتنی گری پڑی تھیں کہ جو بھی انھیں چھونا چاہتا تو وہ پہلے سے اس کام لیے تیار تھیں؟!!

بلاشبہ جو ایسی عورت ہو وہ ایسے بہتان سے اس وقت تک بے خبر نہیں رہ سکتی جب تک کوئی فرد معین بہتان تراشوں کی تہمتوں کے بارے میں اسے نہ بتلائے اور وہ سارے فسانے کا مرکزی کردار صفوان کے سر تھوپے اور اگر صفوان اور ہماری امی جان کے درمیان یہ تعلقات پہلے سے قائم تھے تو پھر کس طرح ان کی سوکنوں، حاسدوں اور چغلی خوروں سے پوشیدہ رہے؟ اور ان دونوں کو دوران سفر یہ ظلم کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اور ایسے جانکاہ صدمے کے ارتکاب سے انھوں نے لشکر کی نگاہوں کے سامنے عین دوپہر کے لمحات میں کس طرح انکشاف کر دیا۔ یہ انتہائی گھٹیا اور ردی باتیں ہیں جن کو عقل سلیم قبول کرنے پر تیار نہیں۔‘‘

( الصدیقۃ بنت الصدیق لعباس محمود العقد: صفحہ 78، 81 )