ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان عقل…

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان عقل میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

یہاں ہم بہتان تراشوں کے بہتان کو ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کردار کے مقابلے میں محض عقل کے ترازو کے مطابق پرکھتے ہیں اور ان کے ان فضائل سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے وقتاً فوقتاً صادر ہوتے رہتے تھے۔ ان کے اس مقام سے صرف نظر کریں گے جو رب العالمین کے کلام میں ان کے لیے متعین تھا۔

ہم ذیل میں ایسے مختصر نکات کے ذریعے اپنی امی جان کے ان کے ذاتی کردار کے حوالے سے اہل بہتان کے بہتان کا جائزہ لیں گے جو اس حقیقت کا ثبوت ہوں گے کہ ہماری امی جان کا کردار مشکوک و مشتبہ لوگوں کا سا نہ تھا بلکہ ان کا کردار سلیم العقل اور سلیم الصدر لوگوں کے مثل تھا۔

1۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قرعہ کے موافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں نہ کہ ان کی اپنی خواہش یا لالچ کی وجہ سے یہ ہم سفری انھیں عطا ہوئی۔ جبکہ مشکوک لوگ پہلے سے تیاری بناتے ہیں اور آپس میں مشورہ کر کے ایک سازش کا تانا بانا بنتے ہیں، لیکن اس واقعہ میں ایسا کچھ بھی نہ تھا۔

2۔ ہماری امی جان کے لشکر سے پیچھے رہنے میں ان کے ارادے یا نیت کا کوئی دخل نہ تھا، بلکہ ہر انسان کو یہ حاجت لاحق ہوتی ہے اور وہ اسے پورا کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور اگر واقعی وہ مشکوک ہوتیں تو اپنی اصلی جگہ ہرگز لوٹ کر نہ آتیں، بلکہ کہیں دُور ٹھہرتیں۔ کیونکہ اپنی جگہ پر لوٹنے میں یہ گمان ہو سکتا ہے کہ وہاں کوئی خبرگیری کرنے والا آ سکتا ہے۔ خصوصاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا ہونا ناممکن نہ تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ کو عموماً اپنی نظر میں رکھتے اور جب کوئی نظروں سے خلاف معمول اوجھل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اس کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی فکر لاحق ہوتی۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں کئی بار اپنی بیوی کے ساتھ الفت و انس کا اظہار کرتے اور راستے کے دوران ہی اپنی بیوی سے سرگوشیاں کرتے۔

لیکن بہتان تراشوں کی تہمت کے برعکس عفیفہ کائنات کے معمولات میں کوئی ایسی مشکوک حرکت ظاہر نہیں ہوئی۔ کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی جگہ کا قصد کیا جہاں ہر کوئی آسانی کے ساتھ پہنچ سکتا تھا اور یہی چیز اہل بہتان کی تدبیروں اور مکر و فریب کے پردے چاک کرتی ہے۔ چنانچہ وہ فرماتی ہیں: میں نے اپنی اسی جگہ کا قصد کیا جہاں میں پڑاؤ کیا تھا اور مجھے یقین تھا کہ وہ جب مجھے گم پائیں گے تو تلاش کرتے کرتے یہاں ضرور آئیں گے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر:  2661 صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770)

3۔ ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ دوپہر کو پہنچیں۔ سب لوگوں کے سامنے اور چمکتے دن کے وسط میں۔ نہ تو انھوں نے رات کے اندھیرے کا انتظار کیا اور نہ ہی شک و شبہ کو اپنے پاس پھٹکنے دیا۔ وہ جب لوگوں کے پاس پہنچیں تو ان کی اونٹنی کی مہار سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی اور سورج آسمان کے افق میں خوب روشن تھا۔ جبکہ کسی قسم کی سازش میں ملوث لوگ رات کے سکوت کا انتظار کرتے ہیں اور اندھیروں کے پردوں میں اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور عام لوگوں کی نگاہوں سے کوسوں دُور رہتے ہیں، تاکہ جب وہ لوٹیں تو انھیں کوئی دیکھ نہ لے۔

جب عقل درج بالا تمام حقائق کی توثیق کرتی ہے اور یہ سب کچھ صحیح ہے توبلاشبہ ام المؤمنین کی مدینہ میں آمد دوپہر کو ہونا ہر خبیث اور شرارتی شخص کے ہفوات کو ردّ کرتی ہے، جبکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی مشکوک شخص ہوتا تو وہ رات کو تاخیر سے آنے کی کوئی علت یا توجیہ اور سبب ضرور بیان کرتا تو دوپہر کو لوٹنا سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت اور سلامتی نیت کی واضح دلیل ہے۔

4۔ سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کا لشکر کے پیچھے آنا صرف اسی غزوہ کی کوئی استثنائی صورت یا خصوصیت نہ تھی بلکہ ان کی ہمیشہ ہر سفر میں یہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ ہمیشہ لشکر سے ایک منزل کے فاصلے پر چلتے۔ جو بھی قافلے میں کسی وجہ سے سست پڑ جاتا، یا تھک جاتا اسے وہ سہارا دیتے اور راستے میں یا پڑاؤ کی جگہ کوئی بھی گری پڑی چیز انھیں ملتی تو لشکر میں اس کے مالک تک پہنچاتے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

’’صفوان رضی اللہ عنہ لوگوں سے پیچھے رہ جاتے تو وہ پیالہ

(القدح: پینے کا برتن۔ (مختار الصحاح للرازی:  صفحہ 523)

اونی تھیلا (الجراب: بکری کے رنگے ہوئے چمڑے سے بنا تھیلا۔ جس میں صرف خشک اشیاء محفوظ کی جاتی تھیں جیسے کھجور وغیرہ۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 1 صفحہ 259) 

یا کشکول (الاداوۃ: پانی پینے کے لیے چمڑے سے بنا چھوٹا سا برتن۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر۔) وغیرہ اٹھا لیتے اور اس کے مالک تک پہنچا دیتے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 461، 462)

گویا یہ معمول کی بات تھی جسے سب لوگ جانتے تھے اور ہر صحابی صفوان تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا تھا تاکہ اگر وہ لشکر سے پیچھے رہ گیا ہو تو صفوان کی راہنمائی میں لشکر کے ساتھ مل جائے۔ یہ کوئی خفیہ راز نہ تھا اور نہ ہی کوئی استثنائی عمل تھا۔

جبکہ مشکوک اور مشتبہ آدمی اپنے جاننے والے کے قریب نہیں جاتا اور اپنی جان پہچان والوں سے دُور دُور رہتا ہے، اپنے معمولات کو خفیہ اور راز بنا کر رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو سکے، لیکن سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ اس مشکوک رویہ سے کوسوں دُور تھے۔ اسی لیے بہتان تراشوں کا بہتان باطل ہو جاتا ہے۔

صفحہ 1 از 3