ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان عقل…

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان عقل میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

5۔ مشکوک اور مشتبہ لوگوں پر ہمیشہ خوف اور قلق مسلط رہتا ہے اور ہمیشہ اپنے متعلق خبروں کی جستجو میں لگے رہتے ہیں، وہ ہمیشہ خوف اور قلق سے لتھڑے ہوئے سوالات لوگوں سے کرتے رہتے ہیں کیا کسی کو معلوم ہوا؟ کیا واقعہ اس طرح ہوا؟ کیا کہا گیا؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی کوئی بات ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق سنائی نہیں دی، بلکہ وہ واپس اپنے گھر میں پاک دامن نفس اور طہارت قلبی کے ساتھ داخل ہوئیں۔ البتہ انھیں سفر کی تکان کی وجہ سے تیز بخار ضرور تھا۔ جس وجہ سے ان کا گھر سے نکلنا محال ہو گیا۔ ہم نے ان کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں سنی کہ انھیں کسی قسم کا خوف، قلق یا پریشانی لاحق تھی۔ ہاں اتنا ضرور تھا کہ انھیں اپنی بیماری کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وہ لطف و عنایت نہ ملی جو اس سے پہلے ان کی کسی تکلیف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لطف و اہتمام ملتا تھا۔ یہی ایک بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے باعث تکلیف تھی۔ وہ فرماتی ہیں:

’’مجھے اس بات کا کچھ بھی علم نہ تھا اور مجھے اپنی بیماری کے دوران یہی چیز پریشان کرتی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لطف سے محروم تھی جو لطف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مجھے اس سے پہلے کسی بھی بیماری کے دوران ملتا تھا۔ اب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے، سلام کرتے، پھر فرماتے: ’’تم کیسی ہو؟‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے جاتے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول مجھے شک میں ڈالتا اور جب تک قدرے افاقے کے بعد میں گھر سے نہ نکلی، مجھے فتنے کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4141۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770) 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فتنے کے بارے میں علم تھا اور نہ ہی انھیں احساس تھا، کیونکہ وہ اس سے بالکل محفوظ تھیں اور نہ ہی سیّدنا صفوان رضی اللہ عنہ کو فتنے کے بارے میں کچھ معلوم تھا۔ کیا فتنے کے ارتکاب کرنے والے سے پہلے کسی اور کو اس فتنے کا علم ہو سکتا ہے؟ لیکن ہماری امی جان کو اس فتنے کا قطعاً کوئی علم نہ تھا اور نہ انھیں اس کی پہچان تھی اور انھیں جو احساس تھا وہ کہیں اور سے تھا۔ ہمیں ان کی طویل روایت میں ایک حرف بھی ایسا نہیں ملتا جو ان کے مخفی خوف کی طرف اشارہ کرتا ہو۔

6۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا اعلان نازل ہونے کے بعد ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ جانا اور اپنے محبوب خاوند سے شکوے کے انداز میں بات کرنا اہل بصیرت کے لیے اس بات کی قوی دلیل ہے کہ یہ انداز صرف اسی کا ہو سکتا ہے جو اس بہتان میں ملوث نہ ہوا ہو۔ کیونکہ جو شخص اپنے اوپر لگائے جانے والے بہتان کا ارتکاب کر چکا ہو، وہ ہمیشہ اپنے بچاؤ کے لیے موقع کی تلاش میں رہتا ہے تاکہ وہ حیلے بہانے سے جائے وقوعہ سے بھاگ سکے، بظاہر تہمت سے بچنے کی خوشی میں جبکہ آزاد اور شریف آدمی پر جب بہتان لگتا ہے اور اسے اس کی خاص چیز میں اذیت دی جاتی ہے اور وہ اس کی عزت ہے۔ پھر اس الزام سے اس کی پاک دامنی ثابت ہو جائے وہ اتنا خوش نہیں ہوتا کہ یہ کہا جائے کہ وہ خوشی سے اچھلتا کودتا پھرتا ہے۔ وہ قائم تو رہتا ہے لیکن اس حال میں کہ اسے گہرا زخم لگ چکا ہوتا ہے۔ اسے اپنی پاک دامنی کے ثبوت ملنے کے بعد لامحدود خوشی نہیں ہوتی اور وہ سابقہ اذیت ناکی کو یکسر نہیں بھولتا، بلکہ ایک وقت تک درد و الم اسے کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ پھر کچھ عرصے کے بعد اسے سکون قلبی اور اطمینان نفسی حاصل ہوتا ہے۔ تو ہماری معزز ممدوحہ سلام اللہ علیہا کا انکار، لاڈ پیار اور شکایت کے طور پر تھا۔

اس نفس سے اس قسم کا اظہار نہیں ہو سکتا جسے معصیت کے ارتکاب نے کمزور کر دیا ہو، بلکہ ایسے جذبات کا اظہار کسی غیور نفس سے ہی ہو سکتا ہے کہ جس شخص کی عزت پر بہتان تراشوں نے بہتان لگا کر اسے مجروح کر دیا ہو۔ تو وہ شخص اپنے نفس کو اظہار غضب سے نہیں روک سکتا۔ اگرچہ اس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ صفت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں تھی۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبات کو کشادہ دلی سے سنا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم تھا کہ ان جذبات کا منبع ہی اتنا نفیس ہے جس کی طرف یہ ذات طاہرہ و صدیقہ رضی اللہ عنہا منسوب ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((اَلنَّاسُ مَادِنٌ)) ’’لوگ کانوں (معدنیات) کی طرح ہوتے ہیں۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3383۔ صحيح مسلم: حدیث نمبر: 2378)

جن نکات کا تذکرہ ہم نے گزشتہ صفحات میں کیا، یہ ہماری امی جان کے ذاتی کردار سے ماخوذ ہیں۔ جو ان کی طہارت و برأت کے بہترین ثبوت ہیں۔ اگرچہ انھیں پاک دامن ثابت کرنے کے لیے ان کا ذاتی کردار ہی کافی ہے کہ بہتان تراشوں کے منہ بند ہو جائیں۔ کجا یہ کہ ان کی برأت اور ان کی پاک دامنی کے ثبوت کے طور پر قرآن کریم کی مبارک آیات نازل ہوئیں جو تاقیامت لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہوتی رہیں گی اور زبانوں سے جن کی تلاوت ہوتی رہے گی۔

اگر بہتان تراش اور ان کی افواہوں سے متاثر ہو جانے والے لوگ اپنی عقلوں سے ام المؤمنینؓ کی شان کے بارے میں سوچتے اور تدبر و تفکر سے کام لے کر کڑی سے کڑی ملاتے تو ان کی زبان سے پہلے محض ان کی عقل ہی اس بہتان کو باطل کہہ دینے پر مجبور کر دیتی کہ جس بہتان کو ہر سلیم الفطرت مومن نے سنتے ہی باطل کہہ دیا۔ اگرچہ اس بہتان کی مخالفت معصوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آنے والی وحی نے بھی کر دی اور پختہ ایمان والے اہل ایمان نے تو سنتے ہی یہ کہہ دیا تھا:

بِهٰذَا سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞( سورۃ النور آیت 16)

ترجمہ: یا اللہ ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔

صفحہ 2 از 3