ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان عقل…

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان عقل میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

ادیب مصر عباس محمود العقاد (عباس بن محمود بن ابراہیم العقاد 1306 ہجری میں مصر میں پیدا ہوئے۔ ادیب، دانش ور، صحافی اور شاعر تھے۔ تصنیف و تالیف کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ مختلف علوم و فنون میں ان کی تصانیف مطبوع و متداول ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف ’’عبقریۃ محمد صلي الله عليه وسلم ‘‘ اور ’’المرأۃ فی القرآن‘‘ ہیں۔ 1383 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 262۔) رحمہ اللہ نے لکھا:

’’کوئی بھی قاری کشادہ ظرفی سے کام لیتے ہوئے ایک ہی نظر میں اس افواہ کے جھوٹا ہونے کا اقرار کر لیتا ہے اور تحقیق کے بعد تو یہ ثابت ہو گیا کہ وہ ایک جھوٹی افواہ تھی۔ کسی بھی منصف مزاج شخص کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس بہتان کے پس منظر میں سازش کا جال صاف نظر آتا ہے۔ جو دینی و سیاسی تعصبات سے بنا گیا ہے، کیونکہ یہ بہتان تراشی اس زرخیز زمین کی مانند ہے جو وباؤں کی آماج گاہ ہو، جس پر خباثت، جھوٹ اور منافقت کے چھڑکاؤ ہوتے ہیں، جو الزام اور چغلی اس کھیت سے اُگی ہو اس کی بنیادوں میں شکوک و شبہات کی ملاوٹ ضرور ہوتی ہے۔ بہتان تراش اس کی اسناد اور اس کے متعلق شبہات تو کثرت سے ہوتے ہیں۔ لیکن اس بہتان کی نہ کوئی سند ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں بظاہر کوئی شبہ ہوتا ہے۔ ہاں ، یہ ضرور ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قافلے سے کچھ لمحات کے لیے بچھڑ گئیں جب قافلے والے پڑاؤ اٹھا کر واپس چل دئیے۔ اس وقت کے قافلے پڑاؤ کرتے وقت اور پڑاؤ اٹھاتے وقت بہت ساری چیزیں بھول جایا کرتے تھے۔ ایسا شبہ کسی عام مسلمان عورت پر بھی نہیں کیا جا سکتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں گھر سے سفر جہاد کی نیت سے روانہ ہو چکی ہو۔ اگر اس وقت کے لحاظ سے جو عورت قافلے سے بچھڑ جاتی اس پر برائی کی تہمت چسپاں کر دی جاتی جو اس کی عزت و آبرو اور اس کے دین کو داغ دار کرنے کا باعث بن جاتی تو لوگوں کی عزتوں پر ان حالات میں ایسی تہمتیں لگانا بہت ہی آسان ہوتا۔

بلکہ سوائے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کسی بھی عورت پر جو قافلے سے بچھڑ جاتی اس پر اس تاخیر کی وجہ سے تہمت لگانا کچھ مشکل نہ ہوتا۔ لیکن مذکورہ قافلے میں سوائے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کوئی عورت تھی ہی نہیں۔ ان کی پالکی اٹھانے اور اتارنے والے ہر بار اٹھاتے وقت ان کے رعب اور وقار کی وجہ سے یہ پوچھنے کی جرأت نہ کر سکتے کہ پالکی کے اندر کوئی ہے یا نہیں؟

سوائے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس قدر مسلمانوں پر کسی اور عورت کا رعب و وقار نہیں تھا، کیونکہ وہ صدیق کی بیٹی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں اور مذکورہ غزوہ میں مہاجرین کا جھنڈا ان کے باپ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تھاما ہوا تھا۔

جو شخص ایسا بودا اور کمزور الزام قبول کر سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی عقل کی تربیت ایسے ہی متعدد امور کی تصدیق پر کرے جن کی تصدیق و تاکید کرنے کا کوئی ظاہری سبب نہ ہو۔ کیونکہ اس کی ردی عقل کے مطابق ہر معاملے کی دلیل ہونا ضروری ہے اور دلائل ردّ کرنے کی بے شمار وجوہ موجود ہوتی ہیں۔

ایسے کم عقل شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کی دلیل تلاش کرے کہ صفوان بن معطل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی وہ احکام اسلام مانتے تھے۔

اس کم عقل شخص کے لیے اس بات کی دلیل تلاش کرنا بھی ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائی تھیں اور نہ ہی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی پابند تھیں ۔نہ تو دلیل اس تہمت کی ہے اورنہ ان دعوؤں کی۔ بلکہ صفوان بن معطل اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کے ایمان کی دلیلوں سے سیرت کی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ چنانچہ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ ایک غیور مسلمان تھے۔ متعدد غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب رہے اور وہ شہید ہوئے۔ ان کی طرف کسی برائی کو منسوب نہیں کیا جاتا۔

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے ہر لفظ پر ایمان رکھتی تھیں اور اس قدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی اس قدر محافظ تھیں کہ ان کے اس عمل سے برکت تو مل سکتی ہے کوئی غفلت نہیں ہو سکتی اور اب ایک پہلو رہ جاتا ہے کہ یہ تہمت قبول کرنے والا شخص اپنے آپ سے یہ پوچھے کہ صفوان رضی اللہ عنہ کا مذکورہ تعلق کب سے پیدا ہوا۔ کیا صرف اسی رات میں سب کچھ ہو گیا؟ اس آدمی نے سب سے پہلے ام المؤمنینؓ پر ہلہ بولنے کی جرأت کیسے کر لی؟ حالانکہ وہ تو ان کی پالکی اٹھاتے وقت آواز دے کر ان کی موجودگی یا عدم موجودگی کی تاکید بھی نہ کر سکتے تھے اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس ہوس کے مارے نے یہ جرأت کر لی تو پھر یہ بات عقل کیسے مانے گی کہ صدیق کی بیٹی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی اتنی گری پڑی تھیں کہ جو بھی انھیں چھونا چاہتا تو وہ پہلے سے اس کام لیے تیار تھیں؟!!

بلاشبہ جو ایسی عورت ہو وہ ایسے بہتان سے اس وقت تک بے خبر نہیں رہ سکتی جب تک کوئی فرد معین بہتان تراشوں کی تہمتوں کے بارے میں اسے نہ بتلائے اور وہ سارے فسانے کا مرکزی کردار صفوان کے سر تھوپے اور اگر صفوان اور ہماری امی جان کے درمیان یہ تعلقات پہلے سے قائم تھے تو پھر کس طرح ان کی سوکنوں، حاسدوں اور چغلی خوروں سے پوشیدہ رہے؟ اور ان دونوں کو دوران سفر یہ ظلم کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اور ایسے جانکاہ صدمے کے ارتکاب سے انھوں نے لشکر کی نگاہوں کے سامنے عین دوپہر کے لمحات میں کس طرح انکشاف کر دیا۔ یہ انتہائی گھٹیا اور ردی باتیں ہیں جن کو عقل سلیم قبول کرنے پر تیار نہیں۔‘‘

( الصدیقۃ بنت الصدیق لعباس محمود العقد: صفحہ 78، 81 )



صفحہ 3 از 3