Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ابو الحسنات علی محمد سعیدی کا فتویٰ شیعہ کا جنازہ پڑھنا اور ان کے لئے بخشش کی دعا مانگنا


ابو الحسنات علی محمد سعیدی کا فتویٰ

(مہتمم جامعہ سعیدیہ خانیوال مغربی پاکستان)

سوال: شیعہ کا جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: شیعہ کے کئی فرقے ہیں، ایک زیدی کہلاتے ہیں، وہ سیدنا صدیق اکبرؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی نہیں دیتے، نہ ان کو منافق کہتے ہیں، بلکہ صرف سیدنا علی المرتضیٰؓ کو سیدنا صدیقِ اکبرؓ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر فضیلت دیتے ہیں تو ایسے شیعہ کافر ہیں، ان کا جنازہ اگر کوئی پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں لیکن اچھا نہیں، کیونکہ پھر لوگوں کے دلوں میں ان کی نفرت نہیں رہتی، بلکہ ان کو اچھا سمجھنے لگتے ہیں۔ حضور اکرمﷺ تنبیہ کیلئے مقروض کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے، زیدی شیعہ تو اس سے کئی درجہ برے ہیں، ان کا جنازہ بطریقِ اولیٰ نہ پڑھنا چاہیئے۔ اور جو شیعہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا ایمان منافقانہ تھا (معاذ اللہ) تو ایسے شیعہ کافر ہیں اور کافروں کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہیں: اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہُمَا عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ۝(سورۃ الاعراف: آیت، 50)

ترجمہ: یعنی کافروں پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے۔ اسی طرح مشرک کے بارے میں فرمایا ہے: اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ الخ۔(سورۃ المائدہ: آیت، 72)

ترجمہ: یعنی جو شرک کرے اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی۔ جب جنت حرام ہے تو نماز جنازہ کس چیز کے لئے ہوگی؟ 

دوسری آیت میں ہے: مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُـوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۝(سورۃ التوبہ: آیت، 113)

ترجمہ: یعنی نبی کیلئے اور ایمان والوں کے لیے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لیے بخشش مانگیں، خواہ ان کے رشتہ دار ہوں، جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ دوزخی ہیں۔ 

یہ اس آیت میں مشرکوں کے لیے بخشش نہ مانگنے کی وجہ بتاتی ہیں، یعنی ان کو دوزخ سے کسی وقت نجات نہیں، پس جس شخص کی کسی وقت نجات کی امید نہ ہو، اس کے لیے بخشش کی دعا کرنی منع ہے۔ اور شیعہ مذکور چونکہ کافر ہے، اس کی نجات کی بھی امید نہیں۔ پس اس کی بابت بھی بخشش کی دعا منع ہے۔ 

حدیث شریف میں ہے کہ تقدیر سے انکار کرنے والے اُمت کے مجوسی ہیں، اگر بیمار ہو جائیں تو ان کی بیمار پرسی نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے کفن دفن اور جنازہ میں حاضر نہ ہو۔ 

جیسے تقدیر کے منکروں کو اس حدیث شریف میں اُمت کے مجوسی قرار دیئے ہیں، اسی طرح شیعہ کو ایک اور حدیث میں اس اُمت کے نصاریٰ قرار دیئے ہیں۔ مشکوٰۃ شریف باب مناقبِِ سیدنا علیؓ میں حدیث ہے: 

حضور اکرمﷺ نے سیدنا علیؓ کو فرمایا: تیری مثال حضرت یحییٰ علیہ السلام کی طرح ہے، یہود نے اس سے بغض رکھا یہاں تک کہ ان کی ماں پر بہتان باندھا، اور نصاریٰ نے ان سے محبت کی یہاں تک کہ ان کو اس مرتبہ تک پہنچا دیا کہ جو اس کے لائق نہ تھا، یعنی ایک بغض میں ہلاک ہوگئے ایک محبت میں سیدنا علیؓ نے فرمایا مجھ سے محبت میں افراط کرنے والا بھی ہلاک ہوجائے گا، جس کو میرا بغض بہتان پر آمادہ کرتا ہے۔ سو یہ پیشن گوئی ہو کر ہی رہی۔ خارجی حضرت علیؓ سے بغض رکھتے ہیں، گویا کہ وہ اس امت کے یہود ہے اور شیعہ محبت میں افراط کرتے ہیں یہاں تک کہ سیدنا علیؓ کی محبت کی وجہ سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ سے بغض رکھتے ہیں، تو گویا کہ شیعہ اس امت کے نصاریٰ ہوئے۔

پس جیسے قدریہ کا جنازہ جائز نہیں، کیونکہ وہ اُس اُمت کے مجوسی ہیں، اسی طرح شیعہ اور خارجی کا بھی جنازہ جائز نہیں، کیونکہ وہ اس اُمت کے یہود و نصاریٰ ہیں۔ جس امام نے جنازہ پڑھا ہے، اُس کو امامت سے معزول کر دینا چاہئے، اس لئے کہ اس نے ایک کافر کا جنازہ پڑھا دیا۔ 

(فتاویٰ علمائے حديث: جلد 5 صفحہ 52)