صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں پر خاموشی - دفاعِ اہلِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں پر خاموشی

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 1 از 5
کسی ایسی چیز میں دخل اندازی نہ کی جائے جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف دل میں کچھ میل پیدا ہوتی ہو۔ اہل سنت والجماعت اعتدال پسند شریعت کے حامل لوگ ہیں جو کہ غلو و جفا اور افراط و تفریط سے بہت دور ہیں۔ اس لیے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عالیشان منزلت کا عقیدہ و ایمان رکھتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ لوگ معصوم نہیں تھے اور ان سے کسی غلطی یا لغزش کے سرزد ہو جانے سے ان کی عدالت پر فرق نہیں آتا اور جو کچھ ان سے وقوع پذیر ہوا اسے کسی دوسرے سے سرزد ہونے والے فعل پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، یہ فرق وہی انسان سمجھ سکتا ہے جو دونوں گروہوں کی سیرتوں کے مابین فرق کو سمجھتا ہو۔
پھر وہ روایات جن کی بنا پر یہ محسوس ہو رہا ہو کہ ان میں سے کسی ایک سے گناہ یا خطا ہوئی ہے اس بات کا بھی بھرپور امکان ہے کہ اس روایت میں کمی بیشی کی گئی ہو یا وہ روایت سرے سے ثابت ہی نہ ہو صحابہ کرامؓ پر تنقید والی اکثر روایات کا یہی حال ہے تو ایسی روایات کو بغیر کسی تردد اور حیل و حجت کے دیوار پر مار دیا جائے گا۔ یا پھر اس روایت کی کوئی مناسب اور صحیح تاویل دیکھی جائے گی۔
جب کسی بھی سچے اور مخلص مسلمان سے مطلوب یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے عام مسلمان کے بارے میں حسن گمان رکھے، تو پھر مسلمانوں کی سردار ہستیوں اور اس قدسی جماعت کے متعلق کیا خیال ہے جو دین اسلام کے رموز سمجھے جاتے ہیں ؟
اس کا سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایسے ویسے افعال کو ان کی مناسب تاویل یا پھر سہو اور غفلت پر یا ایسے اجتہاد پر محمول کیا جائے جس میں ہر صورت میں ان کے لیے کوئی نہ کوئی اجر ضرور ہے۔
(مجموع الفتاوی: الواسطیۃ: جلد، 3 صفحہ، 155)
صحابہ کرامؓ سے خواہ کیسا ہی کوئی کام ہو گیا ہو اس کے کفارہ کے لیے پانچ باتیں کفایت کر جاتی ہیں 
اوّل یہ کہ انہوں نے اس گناہ یا غلطی سے توبہ کر لی ہوگی۔ یہ بات کسی پر بھی مخفی نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم توبہ کرنے میں سب لوگوں پر سبقت لے جانے والے تھے۔
اور حدیث میں واضح طور پر آیا ہے:
’’ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘
(أخرج ابن ماجۃ فی سننہ مرفوعاً: جلد، 2 صفحہ، 1419 برقم: 6250 من حدیث ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ وحسنہ ابنِ حجر فی الفتح: جلد، 13 صفحہ، 471) 
یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی کرامت و بزرگی اور منزلت کی وجہ سے اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کی توبہ جلدی قبول کر لی جائے۔
دوم ان کے گناہ ان نیک اعمال کے بدلے میں معاف کر دیے جائیں جو اعمال وہ بجا لائے ہیں۔ بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں اور یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ اصحابِ رسولﷺ کے اعمال کی قدر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت زیادہ ہیں اور اسی طرح ان کے اعمال پر بدلہ بھی بہت بڑا ہے۔ اس کی تفصیل گزرچکی ہے۔
سوم ان کے اسلام کی طرف سبقت لے جانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کی وجہ سے ان کے گناہ معاف کر دیے گئے ہوں جیسا کہ اہلِ بدر کے حق میں فرمایا ہے ’’تمہیں کیا خبر کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ بدر کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا: ’’اے اہلِ بدر! اب جو مرضی ہے کرو بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔‘‘
(أخرجہ البخاری: کتاب فضائل الجہاد والسیر: باب الجاسوس: جلد، 2 صفحہ، 360 برقم: 3007 ومسلم في صحیحہ کتاب فضائل الصحابۃ باب: فضائل أھل بدر: جلد، 4 صفحہ، 1941 برقم: 2494 من حدیث علي بن أبي طالب رضی اللہ عنہ)
چہارم نبی کریمﷺ کی شفاعت کے سبب سے مغفرت! نبی کریمﷺ نے یہ خبر دی ہے کہ آپﷺ کی شفاعت ان اہلِ توحید کے لیے ہو گی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ بھی شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا۔
(مسلم برقم: 199)
تو پھر اہلِ توحید کے ان سرداروں کے متعلق کیا گمان ہے جو رسول اللہﷺ کے سب سے زیادہ قریب تھے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ وہ دوسرے لوگوں سے بڑھ کر شفاعتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق دار ہیں۔
پنجم دنیا میں ان پر آنے والی آزمائشوں اور امتحانات کی وجہ سے ان کی مغفرت کر دی گئی ہو اس لیے کہ مصائب اور آفات گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں جیسا کہ امور شریعت سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہے۔
مقصود یہ ہے کہ اہلِ سنت و الجماعت کے ہاں اصول یہ ہے کہ ان کے دل اور زبانیں رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق بالکل صاف رہیں۔ خصوصاً کسی بھی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ صحابہ کرامؓ کی برائیوں کے بیان یا ان کی شان میں کوتاہی کرے یا ان پر طعنہ زنی یا دشنام طرازی سے اپنی زبان کو آلودہ اور گنہگار کرے اور جو کوئی بھی اس صراط مستقیم سے بھٹک جاتا ہے اس کے دل میں کچھ نہ کچھ میل ضرور داخل ہو جاتا ہے۔
حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ جو کوئی رسول اللہﷺ کے صحابہ کرامؓ کے متعلق ایک لفظ بھی زبان سے نکالتا ہے وہ یقیناً خواہشات نفس کا پجاری ہے ۔‘‘
(شرح السنۃ للبربہاری: 75)
حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جو کوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کی شان میں کوئی کوتاہی کرتا ہے ‘ یا ان میں سے کسی ایک سے ہو جانے والی لغزش کی وجہ سے اس سے بغض رکھتا ہے یا ان کی برائیوں کا تذکرہ کرتا ہے تو ایسا انسان یقیناً بدعتی ہے اور اس بدعت کا ازالہ اسی وقت ہو گا جب وہ تمام صحابہ کرامؓ کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرے تو اس کا دل پاک ہو جائے گا۔‘‘
[شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ و الجماعۃ: جلد، 1 صفحہ، 169)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین چپقلشوں پر خاموشی
جو کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین پیش آیا ان کے مابین جنگیں اور لڑائیاں ہوئیں ان کے حوالے سے مسلمان پر واجب ہوتا ہے کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھے اور ان معاملات میں نہ پڑے۔ اہلِ سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم صحابہ کرامؓ کے ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ان کے اجتہادی فیصلے تھے جن پر ان کے لیے اجر ہے۔
صفحہ 1 از 5