صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں پر خاموشی - دفاعِ اہلِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں پر خاموشی

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 2 از 5
اہل سنت و الجماعت کے عقائد کی سبھی کتابوں میں صحابہ کرامؓ کے مابین پیش آنے والے ایسے معاملات میں پڑنے یا گہرائی میں جانے سے منع کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سے ایسے واقعات ان کے اجتہاد کی وجہ سے پیش آئے جس میں ان کے لیے ہر حال میں اجر ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ
 اولاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’جب میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر کیا جائے تو اپنی زبانوں کو روک لو۔‘‘
(الطبراني في المعجم الکبیر: جلد، 2 صفحہ، 96 برقم: 239 السلسلۃ الصحیحۃ: جلد، 1 صفحہ، 57 برقم: 34)
 ثانیاً ایسی باتیں کر کے علم و عمل کسی بھی چیز میں کسی فائدہ کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ تو ایک اچھے مسلمان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو ترک کر دے جو اس کے فائدہ کی نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صحابہ کرامؓ کے مابین لڑائیوں اور جنگوں کے جتنے بھی واقعات پیش آئے
وہ سارے ان کے اجتہادی فیصلے تھے ان میں سے ہر ایک گروہ اپنی رائے کے مطابق حق کی نصرت کر رہا تھا اس میں کوئی کوتاہی یا دھوکہ بازی والی بات نہیں۔ یہ معاملہ زیادہ سے زیادہ اس قاضی کی طرح ہو سکتا ہے جو کسی کو ادب سکھانے کے لیے سزا دے۔ اب اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد صحابہ کرامؓ کے متعلق بدگمانی رکھنا اور اپنے دلوں کو ان کے متعلق میلا اور کینہ پسند رکھنا صرف ذلت اور رسوائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ 
نہ ہی انہیں گھوڑا حاصل نہ ہی سامان سفر۔
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کتنی خوبصورت بات کہی ہے، فرمایا:
’’ اللہ تعالیٰ نے اس خون سے میرے ہاتھ کو بچا کر رکھا مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اپنی زبان اس میں ڈبو دوں۔‘‘
(أخرجہ ابن سعد فی الطبقات: جلد، 5 صفحہ، 307 السنۃ للخلال، جلد، 1 صفحہ، 62 حلیۃ الأولیاء: جلد، 9 صفحہ، 114)
وہ عظیم مبادیات جنہیں اس امت کے سلف نے مقرر کیا ہے اور ان کے بعد آنے والے آئمہ اس پر چلتے رہے ہیں، اورتمام اہلِ سنت اس پر کاربند رہے ہیں (وہ صحابہ کرامؓ کی چپقلشوں پر خاموشی اختیار کرنا، ان تمام کے لیے رحمت کی دعا کرنا، ان سب سے محبت رکھنا اور انہیں صرف اچھے لفظوں میں ایسے یاد رضی الله عنہم کرنا ہے جیسے سلف اور ان کے بعد کے اہلِ علم کا طریقہ رہا ہے۔)
اس لیے کہ ان جھگڑوں میں ہر دو فریق مجتہد تھے۔ ان میں سے حق پانے والے کے لیے دو اجر ہیں اور خطا کر جانے والے کے لیے ایک اجر ہے۔ آپ کو یہ اچھی طرح سے جان لینا چاہیے کہ بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ آپ سے آپ کے اعمال کے بارے میں سوال کریں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
كُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِيۡنَةٌ ۞ (سورة المدثر: آیت، 38)
ترجمہ: ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گروی پڑا ہوا ہے۔‘‘ 
اور جو لوگ آپ سے پہلے گزر چکے ہیں یا کسی دوسرے کے بارے میں آپ سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا اور آپ سے یہ بھی نہیں پوچھا جائے گا کہ حق کس کے ساتھ تھا؟ اور ان میں سے کون ٹھیک تھا اور کون غلط؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞ (سورۃ البقرة: آیت، 134)
ترجمہ: ’’یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی، جو کچھ اس جماعت نے اعمال کیے وہ ان کے لیے ہیں اور جو کچھ تم کمائو گے وہ تمہارے لیے ہے اور تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔‘‘
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں اصحابِ رسول اللہﷺ کی مثال آنکھ کی مثال ہے اور آنکھ کی بہتری اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنے میں ہے۔
(احکام القرآن للقرطبی: جلد، 16 صفحہ، 122)
حضرت امام حمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین ہونے والی جنگوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو آپؒ نے فرمایا میں ان کے متعلق صرف خیر کے کلمات کہتا ہوں اللہ تعالیٰ ان سب پر رحم فرمائیں ۔‘‘
(السنۃ للخلال: جلد، 2 صفحہ، 460)
ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو کچھ حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کے مابین پیش آیا، بیشک وہ تاویل اور اجتہاد کی وجہ سے تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام (حکمران) تھے، اور یہ سب لوگ اہلِ اجتہاد تھے اور یقیناً نبی کریمﷺ نے ان کے لیے جنت کی گواہی دی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس اجتہاد میں حق پر تھے۔‘‘
ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین بھی جو کچھ پیش آیا ،وہ تاویل اور اجتہاد کی وجہ سے تھا۔ تمام صحابہ امانت دار آئمہ ہیں، ان میں سے کسی ایک کی بھی دین داری پر کوئی تہمت نہیں ہے۔ اللہ اور اس کے رسول نے ان سب لوگوں کی ثنا(تعریف) کی ہے اور ہم ان کی عزت و محبت و توقیر اور دوستی کو عبادت سمجھتے ہیں اور ہر انسان سے برأت کا اظہار کرتے ہیں جو ان کی شان میں کمی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ان تمام صحابہؓ پر راضی ہو جائے ۔‘‘
(الابانۃ عن أصول الدیانۃ: صفحہ، 224)
امام مزنی رحمہ اللہ اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل بیان کیے جائیں گے اور ان کے اچھے افعال کا ذکر کیا جائے گا اور ہم ان کے باہمی جھگڑوں میں پڑنے سے بچ کر رہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد روئے زمین پر سب سے بہترین لوگ یہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کے لیے پسند کر لیا تھا، اور ان کو آپﷺ کے دین کی نصرت کے لیے پیدا کیا تھا۔ یہ لوگ دین کے آئمہ اور مسلمانوں کے راہنما ہیں، اللہ تعالیٰ ان تمام پر رحم فرمائے۔‘‘
(شرح السنۃ: 86)
صفحہ 2 از 5