صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں پر خاموشی - دفاعِ اہلِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں پر خاموشی

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 3 از 5
امام بر بہاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جب آپ کسی کو دیکھیں کہ کوئی شخص اصحابِ رسول اللہﷺ پر طعن کر رہا ہو تو جان لیجئے کہ وہ انتہائی بری بات کہنے والا خواہش نفس کا پجاری ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: ’’جب میرے صحابہؓ کا ذکر کیا جائے تو اپنی زبانوں کو روک لو۔‘‘ رسول اللہﷺ کو اس بات کا پتا تھا کہ آپﷺ کی وفات کے بعد کیا لغزشیں ہوں گی۔ پھر بھی آپﷺ نے ان صحابہؓ کے بار ے میں خیر اور بھلائی کی بات ہی کہی ہے اور آپﷺ کا فرمان ہے: ’’میرے صحابہؓ کو چھوڑ دو اور ان کے بارے میں خیر کے علاوہ کچھ نہ کہو۔‘‘
ان کی لغزشوں اور جنگوں کے بارے میں آپ کچھ بھی نہ کہیں اور کوئی ان کی برائی بیان کر رہا ہو تو اسے سنیں بھی نہیں‘ کیونکہ اگر آپ نے ایسی باتیں سن لیں‘ تو آپ کا دل سلامت نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو صحابہؓ کے مابین پیش آنے والے قتال کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ مگر آپﷺ نے ان کے بارے میں خیر کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہا۔
(شرح السنۃ: جلد، 1 صفحہ، 115)
امام ابن بطہ رحمہ اللہ عقیدۂ أہل سنت و الجماعت کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’اور اس کے بعد جو کچھ صحابہؓ کے مابین پیش آیا، اس میں دخل اندازی سے رک جاتے ہیں۔ یقیناً ان لوگوں نے نبی کریمﷺ کے ساتھ معرکوں میں شرکت کی ہے اور فضیلت حاصل کرنے میں لوگوں پر سبقت لے گئے اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت کر دی ہے اور آپ کو ان کے لیے استغفار کرنے کا اور ان کی محبت سے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنے نبی کریمﷺ کی زبانی آپ پر یہ فرض کیا ہے اور آپﷺ جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہو گا اور بیشک یہ لوگ آپس میں جنگ کریں گے ۔
(الابانہ الصغری: صفحہ، 268)
امام ابو عثمان الصابونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اور ان کا عقیدہ ہے کہ جو کچھ نبی اکرمﷺ کے صحابہ کے مابین پیش آیا، اس کے بیان کرنے سے رک جانا چاہیے اور اپنی زبانوں کو ان کے عیوب بیان کرنے سے اور ان کی شان میں گستاخی کرنے سے پاک رکھنا چاہیے اور ان کا عقیدہ ہے کہ ان تمام پر رحم کی دعا کی جائے اور ان تمام سے دوستی رکھی جائے۔‘‘
(عقیدۃ السلف وأصحاب الحدیث: صفحہ، 294)
 ثالثاً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معاملات میں پڑنا ایسا معاملہ ہے جس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ ایک انسان اچھا بھلا صراط مستقیم پر چل رہا ہوتا ہے مگر ایسے معاملات کو زیرِ بحث لا کر گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے دل میں اصحابِ رسول اللہﷺ میں سے کسی ایک کے خلاف حسد و بغض پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ کسی بھی بڑی گمراہی کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ دینِ اسلام سد ذرائع کے طور پر ایسے امور سے منع کرتا ہے۔
علامہ بر بہاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں اور ان کے مابین پیش آنے والے واقعات کے متعلق گفتگو نہ کریں اور نہ ہی کسی ایسے معاملہ پر گفتگو کریں جس کا آپ کو صحیح علم نہیں اور اگر کوئی انسان اس کے متعلق گفتگو کر رہا ہو تو اس کی بات بھی نہ سنیں اگر آپ اس کی بات سنیں گے تو آپ کا دل صحیح سلامت نہیں رہے گا۔‘‘
(شرح السنۃ للبربہاري: صفحہ، 112 سیر أعلام النبلاء: جلد، 10 صفحہ، 92)
 رابعاً اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ منافقین اور زندیق لوگوں نے اس باب میں بہت ساری چیزوں کا اپنی طرف سے اضافہ کر دیا ہے۔ جب یہ عالم ہو کہ اکثر روایات من گھڑت اور جھوٹ ہوں تو پھر درست فیصلہ کرنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
ایسے جھگڑوں سے متعلق روایات کے بارے میں زیادہ تر اعتماد تاریخ کی کتابوں پر ہوتا ہے اور تاریخ کی کتابیں ایسی روایات سے بھری پڑی ہیں جن میں اچھے اور برے، سچ اور جھوٹ، خشک اور گیلا ملا کر بھر دیا گیا ہے۔ مؤرخین کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ ہر اس بات کو نقل کر دیتے ہیں جو لوگوں کے مابین مشہور ہو تو پھر ایسے خطرناک معاملہ کے فیصلہ کے لیے ایسی جھوٹی روایات یا کمزور اور من گھڑت تاریخ پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ ہوا پرست مؤرخین کے ایسی روایات گھڑنے کے پیچھے اپنے مذموم مقاصد ہوا کرتے تھے۔
پھر ان میں سے جو روایات صحیح ہیں ان کا اس صحیح اور مناسب موقع محل پر رکھنا آسان ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان اور ان کے مقام کے لائق ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا۔
علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جھگڑوں اور اختلافات کے بارے میں جو کچھ تاریخ میں نقل کیا گیا ہے ان میں سے کچھ باتیں تو باطل اور جھوٹ ہیں اور اگر کوئی بات صحیح ہے تو ہم اس کی مناسب اور درست تاویل تلاش کرتے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی تعریف اس سے پہلے کی جا چکی ہے اور جو کچھ ان کے بارے میں بعد میں روایت کیا گیا ہے اس میں تاویل کا احتمال ہے۔ ایسی چیز جس میں وہم ہو یا جو مشکوک ہو اس کی بنا پر معلوم شدہ حق کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
(شرح الفقہ الأکبر لملا علی القاري: 103) 
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تہمتیں لگانے والوں سے ان کا دفاع کرنا
ان پر تہمتیں لگانے والوں سے ان کا دفاع کرنا اور ان کی دشمنی کے سامنے بند باندھنا۔
ایسا کرنا ان کے ساتھ سچی محبت رکھنے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا ایک حصہ ہے۔ ہم تمام اہلِ بیت نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہیں اور ان کے دفاع کا ارادہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کی محبت کو ایمان و عقیدہ کا حصہ سمجھتے ہیں ۔
امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اور جو کوئی ان سے بغض رکھتا ہے‘ یا انہیں اچھے لفظوں میں یاد نہیں کرتا ہم اس سے بغض رکھتے ہیں۔‘
(العقیدۃ الطحاویہ مع شرحہا لابن ابی العز: صفحہ، 689)
اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان گرامی ہے:
’’بیشک ایمان کی سب سے مضبوط رسی اللہ کی رضا کے لیے محبت کرنا اور اس کی رضا کے لیے بغض و نفرت رکھنا ہے ۔‘‘
(أخرجہ الطبراني في المعجم الصغیر: جلد، 1 صفحہ، 372 برقم: 624 حسنہ الألباني في السلسلۃ الصحیحۃ: جلد، 2 صفحہ، 698 برقم: 998)
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اللہ کی رضا کے لیے بغض رکھنے کے سب سے زیادہ مستحق وہ لوگ ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کرتے ہیں ۔
صفحہ 3 از 5