صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں پر خاموشی - دفاعِ اہلِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں پر خاموشی

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 4 از 5
دشمنانِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان کا دفاع کرنا ان کے جھوٹ پر رد کرنا ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا اللہ کی راہ میں سب سے بڑا جہاد ہے۔
اقتداء و اتباع کرنا
اہلِ سنت والجماعت کا منہج اس اساس پر قائم ہے کہ ان کا افضل ترین علم وہ ہے جس میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علم کی اتباع و اقتداء کر رہے ہوں اور ان کا افضل ترین عمل وہ ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اعمال حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں: جو کوئی اصحابِ رسول اللہﷺ میں سے کسی ایک کو گالی دے یا حضرت ابوبکر یا حضرت عمر یا حضرت عثمان یا حضرت علی یا حضرت امیر معاویہ یا حضرت عمرو بن العاص رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک کو گالی دے اور اگر یہ کہے کہ یہ صحابہ کفر اور گمراہی پر تھے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اگر ایسے گالی دے جیسے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں تو پھر اسے بہت سخت سزا دی جائے گی۔
(الشفاء فی حقوق مصطفی: صفحہ، 299)
امام ابوبکر المروزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’میں نے ابو عبداللہ سے ان لوگوں کے متعلق حکم پوچھا جو حضرت ابوبکر و عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم پر دشنام طرازی کرتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کرنے والے اسلام پر ہیں۔‘‘
(السنۃ للخلال: جلد، 3 صفحہ، 493)
امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جب آپ کسی کو دیکھیں کہ وہ اصحابِ رسول اللہﷺ کے حق میں کوتاہی (تنقیص) کر رہا ہو تو جان لیجئے کہ وہ زندیق ہے۔‘‘
(الکفایہ فی علم الروایہ: صفحہ، 97)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جب آپ کسی کو دیکھیں کہ وہ اصحابِ رسول اللہﷺ کا ذکر برے الفاظ میں کر رہا ہو تو اس کے اسلام میں شک کریں۔‘‘
(شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ للالکائی: جلد، 7 صفحہ، 1252)
ہمارا ایمان و عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر میدان میں بلند و بالا اور فائق ہیں۔
(شرح العقیدۃ الأصفہانیۃ لشیخ الإسلام ابن تیمیۃ: صفحہ، 138)
دین میں ان کی اقتداء فرض ہے۔ پس ان کی اقتداء اور آیات اور سورتوں کی اتباع کرنا چاہیے۔
(دیوانِ ابن مشرف: صفحہ،23)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے عقیدہ کے اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:
’’ بیشک اصول یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی راہ کی اقتداء کی جائے۔‘‘
(أصول السنۃ روایۃ عبدوس بن مالک: صفحہ، 25۔ شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ: جلد، 1 صفحہ، 156)
خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اپنے نفس کے لیے اس چیز پر راضی ہو جاؤ جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے نفوس کے لیے راضی ہو گئے تھے۔ بیشک وہ علم کی روشنی میں چلتے تھے اور انتہائی نافذ بصیرت کے ساتھ رکتے تھے۔‘‘
[أبو داؤد في سننہ: جلد، 5 صفحہ16 برقم: 4612۔وصححہ الألباني في صحیح أبي داؤد۔)
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی کرنے والوں کی تعریف کی ہے۔
فرمان الہٰی ہے:
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰلِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞ (سورۃ التوبة: آیت، 100)
ترجمہ: ’’اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘
اور فرمان الہٰی ہے:
وَّاتَّبِعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَىَّ۞ (سورة لقمان: آیت، 15)
ترجمہ: ’’اور اس شخص کے راستے پر چلو جو میری طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد یہ وصف سب سے زیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تھا اور فرمان الہٰی ہے:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۞
(سورة التوبۃ: آیت، 119) 
ترجمہ: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔‘'
امام ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ۔‘‘
(تفسیر القرآن العظیم: جلد، 7 صفحہ، 314)
جب رسول اللہﷺ سے ان لوگوں کے اوصاف پوچھے گئے جو جہنم کی آگ میں جانے سے بچ جائیں گے تو آپ نے فرمایا:
’’وہ لوگ نجات پائیں گے جو اس راہ کے راہی ہوں گے جس پر میں اور میرے صحابہ کرام چل رہے ہیں ۔‘‘
[الترمذي: کتاب الإیمان: باب ما جاء في افتراق ہذہ الأمۃ: جلد، 5 صفحہ، 26 برقم: 2641) 
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’اے قراء کی جماعت! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ان لوگوں کی راہ پر چلتے رہو جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ مجھے میری عمر کی قسم! اگر تم ان کی راہوں پر چلتے رہو گے تو بہت آگے سبقت لے جاؤ گے اور اگر ان کی راہ چھوڑ کر دائیں بائیں چل نکلو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔‘‘
(ابن عبد البر: جامع بیان العلم و فضلہ: جلد، 2 صفحہ، 947 و صحیح البخاری: برقم: 7282) 
اس سے پتا چلا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی راہ پر چلنے میں ہی ہدایت ہے اور اسی پر کامیابی اور نجات مل سکتی ہے۔
آخر میں ایک بہت خوبصورت کلام کے ساتھ اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت علامہ ابنِ کثیرؒ اس فرمان الہٰی کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’بیشک اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کے دلوں میں دیکھا تو حضرت محمدﷺ کا دل ان تمام سے افضل اور بہتر پایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی ذات کے لیے چن لیا اور آپ کو اپنا رسول بنا کر مبعوث فرمایا۔ پھر دوسری بار محمدﷺ کے بعد تمام لوگوں کے دلوں میں دیکھا تو آپﷺ کے صحابہؓ کے دلوں کو تمام لوگوں کے دلوں سے افضل پایا تو انہیں اپنے نبی کے وزیر بنانے کے لیے چن لیا جو کہ آپ کا دین پھیلانے کے لیے لوگوں سے جہاد کیا کرتے تھے۔ (رواہ امام أحمد )
صفحہ 4 از 5