صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں پر خاموشی - دفاعِ اہلِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں پر خاموشی

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 5 از 5
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: تم میں سے جو کوئی راہِ سنت پر چلنا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ ان لوگوں کی راہ پر چلے جو کہ انتقال کر چکے ہیں۔ وہ نبی کریمﷺ کے صحابہ تھے۔ جو کہ امت کے سب سے بہترین لوگ تھے۔ ان کے دل بڑے پاکیزہ اور نیک تھے۔ ان کا علم بہت گہرا تھا اور تکلف نہیں کرتے تھے۔ وہ ایسی ہستیاں تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمﷺ کی صحبت اور آپﷺ کے دین کی نشر و اشاعت کے لیے چن لیا تھا، اپنے طور طریقہ اور اخلاق و عادات میں ان کی مشابہت اختیار کرو وہ محمدﷺ کے صحابہؓ تھے جو کہ راہِ ہدایت پر گامزن تھے۔
(أخرجہ ابو نعیم فی الحلیتہ: جلد، 1 صفحہ، 360)
وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ كَانَ خَيۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ‌ ۞(سورۃ الأحقاف آیت، 11) 
ترجمہ: ’’اور جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے کہنے لگے جو ایمان لائے اگر یہ کچھ بھی بہتر ہوتا تو یہ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے۔‘‘
آپ فرماتے ہیں:
اہلِ سنت والجماعت کہتے ہیں: ’’ہر وہ قول و فعل جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے۔ اس لیے کہ اگر اس میں کوئی خیر و برکت ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ضرور اس کی طرف سبقت لے جاتے۔ اس لیے کہ خیر و بھلائی کا کوئی کام ایسا باقی نہیں رہا جس کی طرف وہ سبقت نہ لے گئے ہوں۔‘‘
(تفسیر القرآن العظیم 12، 13 ) 
امت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے یہ دس بڑے حقوق ہیں جن میں اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ بھی اجمالی طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں راہِ حق پر قائم رکھے اور ان مقدس جماعت کی اتباع اور ان کے دفاع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

صفحہ 5 از 5