Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

فضیل کی  روایات پر محققین کی طرف سے صحت کا حکم لگانا

  جعفر صادق

فضیل کی  روایات پر محققین کی طرف سے صحت کا حکم لگانا

امام مسلم نے 2جگہ فضیل سے روایت لی ہے۔

حدثنا حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، اخبرنا يحيى ابن آدم ، حدثنا  الفضيل بن مرزوق ، عن شقيق بن عقبة ، عن البراء بن عازب ، قال: نزلت هذه الآية: حافظوا على الصلوات وصلاة العصر، فقراناها ما شاء الله، ثم نسخها الله، فنزلت " حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى سورة البقرة آية 238 "، فقال رجل، كان جالسا عند شقيق له: هي إذا صلاة العصر؟ فقال البراء: قد اخبرتك كيف نزلت، وكيف نسخها الله، والله اعلم

 اسکو شرم آنی چائیے مسلم کے راوی پر جرح کرتے ہوئے۔ شاہ ولی وللہ کے نزدیک صحیحین کی صحت میں شک کرنے والا بدعتی ہے ۔  مبارک ہو فضیل بدعتی ثابت نہیں ہوا  بلکہ عبد السلام بدعتی ثابت ہوگیا۔

 

شعیب الارنووط کے نزدیک فضیل کی روایات حسن ہیں

 

 

  لہذا واضح ہوا فضیل بالکل ثقہ راوی ہے۔میں نے فضیل کو سنی المذہب ثابت کیا  اور یہ بھی  ثابت کیا کہ اُس میں کوئی بدعت نہیں تھی۔ اس نے جواب تک نہ دیا اُسکا ، سب کھا گیا ۔ لے آجا پھر موڈ میں ہوں احناف کی کتاب سے دلیل دیتا ہوں۔ راوی بدعتی بھی ہو   تو روایت قبول ہوتی ہے۔

امام سخاوی فتح المغیث میں لکھتے ہیں

" خطیب نے کہا ؛ یہ مذہب ہے کہ بدعتی کی روایت ہے وہ بھلے داعی ہو یا غیر داعی ہو بس جھوٹ نہ بولتا ہے (ثقہ ہو) امام ابئ لیلی ، سفیان ثوری ، امام ابو حنیفہ  ، امام حکم نے مدخل میں فرمایا اکثر ائمہ کا یہی عقیدہ تھا، امام فخر الدین رازی نے محصول میں کہا یہی حق ہے"

(فتح المغیت ج2 ص 66)

 راوی فقط ثقہ ہو باقی جو بھی ہو روایت قبول ہوگی۔   

گفتگو کا خلاصہ

ہم نے ثابت کیا فدک ملکیت رسول ص تھا۔(اسپر حدیث پیش کی ، تقی عثمان پیش کیا ، بدائع صنائع پیش کی ، امام نووی کی شرح پیش کی)

فدک رسول ص نے ہبہ کردیا۔ (حسن درجے کی روایت دی)

شہزادی س سے گواہ  مانگے اُنکو رد کردیا،  حق نہیں دیا۔

4۔ فضیل بن مرزوق کی مکمل تعدیل کی، اس پر کی گئی  جرح  کا  رد کیا۔

فضیل کو سنی المذہب ثابت کیا۔

بدعتی کی روایت کا بھی رد کیا۔

  سنی مناظر کسی بھی چیز کا جواب نہیں دے سکا ۔ بری طرح  ذلیل ہوا ہے۔

 

سنی مناظر: آپ نے اپنے آخری ٹرم میں نئے  حوالے پیش کر کے اصول مناظرہ  کی واضح   خلاف ورزی کی ہے۔

ایک تو اصول کی خلاف ورزی کی  ، اور پھر بغیر پوچھے گروپ کھولنے کی بات بھی کر  رہے ہو۔

آپ نے الزمی جواب دیکر  ایک اور غلطی کی ہے ۔ دوران مناظرہ  پہلے تحقیقی جواب دینا ہوتا ہے ، اس کے  بعد میں الزامی جواب دیا جاتا ہے۔

 

شرط نمبر 10 بھی پہلے سے طئے کی گئی تھی کہ جب تک زیربحث دلیل کا  رد نہ کیا جائے الزامی جواب نہیں دیا جائے گا۔

 

آپ نے موضوع سے ہٹ  کر دلائل کیوں دئے ہیں؟   میں دوبارہ محدثین کا طریقہ کار سمجھاتا ہوں۔

امام بخاری رح نے حبیب بن سالم کے بارے میں کہا ہے کہ فیه نظر

 

 

 

اسی راوی  حبیب بن سالم سے امام مسلم نے روایت لی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں

 

 ان دو حوالوں سے ثابت ہوا کہ ہر محدث کے حدیث لینے کہ شرائط وضوابط الگ ہیں ۔ ایک ہی راوی  دو محدثین کو قبول اور ناقابل قبول ہوسکتا، یہی نکتہ  شیعہ مناظر کی عقل میں باربار بتانے کہ باوجود گھس نہیں رہا۔ غور فرمائیں امام بخاری رح حبیب بن سالم پر جرح کررہے ہیں اور اسی راوی حبیب بن سالم سے امام مسلم روایت نقل کررہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ سب محدث جب منکر الحدیث کو جرح مفسر کہیں تب وہ جرح مفسر ہوگی مناظر صاحب۔  اب شاید بات سمجھ آگئی ہو ۔

شیعہ مناظر کو ویسے ہی سمجھانا پڑ رہا ہے جیسے چھوٹے بچے کو قائدہ نورانی اور بغدادی پڑھایا جاتا ہے۔

 

کیا منکر الحدیث ہونا جرح مفسر نہیں؟

 

وذھب القاضی ابوبکر باقلائی وجماعة الي ان جرح مطلق مقبول۔

ترجمہ: قاضی ابوبکر الباقلائی اور جماعت اس کی طرف گئی ہے کہہ جرح مطلق قبول ہے۔

اس حوالے نے تو قصہ ہی ختم کردیا۔ آپ نے خود  اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماردی !

 

جو بھی روایت منکر کو ذکر کرے اسکے نام کو ضعیف راویوں میں ذکر کیا جائے تو اس صورت میں محدثین میں سے کوئی بھی سالم و صحیح نہیں بچے گا۔ (لسان المیزان)

 

 

 سنی مناظر: یہ ان کی اپنی تحقیق ہے ۔ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ سب کا جرح پر  یا  تعدیل پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے جس کی مثال میں نے ایک راوی  حبیب بن سالم کی پیش کی ہے۔

 شیعہ مناظر: مام بخاری کا منکر الحدیث راویوں سے نقل کرنا  دلیل ہے کہ منکر الحدیث مفسر کلام نہیں۔

 سنی مناظر: میں اس کا رد بھی کر چکا ہوں۔ امام بخاری رح کا منکر الحدیث کو حجت نہ سمجھنا یہ بات  ہمارے لئے حجت  ہے؟

  میں ثابت کرچکا ہوں کہہ امام بخاری رح منکر الحدیث کو قابل حجت نہیں مانتے بلکہ اس کو مردود کہتے ہیں۔  کیا  احمد بن شہیب کو خود امام بخاری رح نے بھی منکر الحدیث کہا ہے؟میں نے جو حوالہ پیش کیا ہے وہ خود امام بخاری سے دیا ہے آپ بھی مہربانی کرکے اس راوی کو امام بخاری سے منکر الحدیث ثابت کریں۔

آپ  دوران مناظرہ مسلسل  بداخلاقی اور بدگوئی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔  میں نے کوشش کی  بدزبانی کی مگر غلط الفاظ پتہ نہیں کیوں میری زبان سے نہیں نکل سکے،  اور ویسے بھی ایک عالم اور جاہل کہ درمیان فرق ہونا ضروری ہے۔  

 آپ نے ایک راوی  عکرمہ کی بات کی ہے۔ کیا عکرمہ کو  خود امام بخاری رح نے  بھی  کذاب کہا ہے؟

ابن ابان کا تساہل اور متشدد  رویہ

آپ کو  عقل کی اشد ضرورت  ہے۔ آپ نے ابن ابان کے جرح و تعدیل اور ان کے  اصول و ضوابط پر بات کی تھی۔ اسی لئے میں نے ان کے تساہل  کی تفصیل تدریب الراوی سے  پیش کی ہے۔ مگر عقل شرط ہے سمجھنے کے لیے جو آپ میں نہیں ہے۔  راوی پرکھنے کا  معیار ہر محدث کا اپنا  اپنا ہوتا ہے۔ کیا  ثقہ راویوں پر دوسرے محدثین  جرح نہیں کرتے؟

شیعہ مناظر: متشدد عالم کی جرح قبول نہیں ہوتی۔

سنی مناظر:کیا مطلقا  قبول نہیں ہوتی!؟  یہ کہاں لکھا ہے؟  نشاندہی کردو۔

شیعہ مناظر: ابن حبان کی جرح اُس صورت میں قبول ہوگی، جب کوئی اور متقدمن ایک راوی پر  وہی جرح کرے گا جو ابن حبان نے کی ہے۔ یعنی ابن حبان اُس جرح میں انفرادی حیثیت نہ رکھتا ہو۔ لہذا سنی مناظر کو چیلنج ہے ثابت کرے کہ کسی اور بندے نے  بھی فضیل کو منکر الحدیث کہا  ہو۔  اور فضیل بن مرزوق پر  امام نسائی کی جرح مبھم ہے۔

سنی مناظر: آپ نے جو حوالہ پیش کیا ہے اس میں مذکور ہے کہ مطلق جرح قبول ہے اس کا کیا کریں؟

 شیعہ مناظر: احناف کے ہاں جرح مبھم مطلقا  قبول نہیں ہوتی۔

سنی مناظر: خود مطلق پر دلیل دے چکے ہو اب عدم قبولیت پر دلیل دے رہے ہو عقل سے بلکل پیدل ہو کیا؟

شیعہ مناظر: امام بخاری نے کب کہا فضیل منکر الحدیث ہے؟

سنی مناظر:  اگر امام بخاری کا خود کہنا ضروری ہے تو  احمد بن شہیب کو بھی امام بخاری رح سے منکر الحدیث ثابت کرو؟

شیعہ مناظر: آپ کو چیلینج ہے۔ فضیل بن مرزوق کو  بخاری سے منکر الحدیث ثابت کر کے دکھاؤ؟

سنی مناظر: میں نے فضیل کے بارے میں ایسا کچھ نہیں کہا۔ منکر الحدیث ضعیف ہے یا  نہیں اس پر بات ہورہی نہ کہ امام بخاری نے اس کو منکر الحدیث کہا ہے یا  نہیں۔

شیعہ مناظر:فضیل پر کوئی جرح مفسر ثابت ہی نہیں لہاذا  امام مسلم نے اس سے روایت نقل کی ہے۔

سنی مناظر: میں حوالہ دے کر ثابت کرچکا ہوں کہ سب  محدثین کے جرح و تعدیل   کے اصول اور  شرائط  و  ضوابط الگ ہیں، ضروری نہیں کہہ جس کو امام مسلم نے ضعیف کہا ہو ، اس راوی کو امام بخاری بھی ضعیف کہے۔

 

سنی مناظر کی طرف سے گفتگو  کا خلاصہ

1۔   شیعہ مناظر اپنی دعویٰ ثابت نہیں کرسکا۔ جناب کا دعویٰ تھا کہ وہ ملکیت رسول ص ثابت کرے گا مگر آخر تک ملکیت ثابت نہیں کرسکا۔ الحمدلللہ۔ اہلسنت روایات  میں جہاں  مذکور ہے کہ باغ فدک   خاصرسول اللہ ص کے لیے ہے، اس سے مراد خاص نبی کی ذمہ  داری ہے کے اس مال کو سنبھالے تاکہ عین قرآن کے مطابق اس کی آمدنی خرچ کی جاسکے۔  خاص کا مطلب بطور سنبھالنا  ہے نہ کہ ملکیت۔ میرے دلائل   کا رد آخر تک موصوف نہیں کرسکا۔

2۔ فدک کے ہبہ والی روایت میں ایک راوی فضیل بن مرزوق تھا  جو  شیعہ ہے ۔ ہبہ والی وات  اپنے مذہب کی تائید میں بیان کررہا ہے جو کہ سنی و شیعہ  مسلمہ اصول کے مطابق قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اگرچہ فضیل بن مرزوق ثقہ اور صحیح مسلم کا راوی ہے ، میں اسی راوی پر جرح مفسر بھی پیش کرچکا ہوں ،جبکہ شیعہ مناظر نے اس راوی  کی تعدیل پیش کی ۔ جرح و تعدیل کے اصولوں کے مطابق جرح کے سامنے تعدیل کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ خود شیعہ مناظر کے اسکینز  سےبھی دکھادیا ،  ان کے  پیش کیے ہوئے اسکین میں  بھی مذکور ہے کہ جرح مطلق قابل قبول ہے۔

3۔ گواہ  والی  روایت کا  رد صرف اہلسنت کتب سے نہیں بلکہ شیعہ کتب سے بھی میں نے پیش کیا جس پر شیعہ مناظر صرف  بدگوئی کرتا رہا لیکن  کوئی  علمی جواب نہیں دیا۔

4۔ دوران مناظرہ شیعہ مناظر نے اپنے خود مقرر کی گئی شرائط   کو   بھی بار بار توڑ ا۔

 5۔میں نے ثابت کیا کہ نہ صرف اہلسنت بلکہ فضیل بن مرزوق   کا شیعہ ہونا  خود شیعہ کتب میں  بھی مذکور ہے۔

6۔اہلسنت و اہل تشیع کے ہاں متفقہ طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بدعتی کی وہ روایت جو اس کے مذہب کی تائید میں ہو وہ قابل قبول نہیں کی جاتی۔

ان تمام دلائل و نکات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شیعہ مناظر اپنے دعوے پر کوئی مضبوط دلیل نہیں رکھتا۔ باغ فدک کے معاملے میں اہل تشیع  کا مؤقف باطل اور اہلسنت مؤقف ہی حق ہے۔

والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ

 

فضیل بن مرزوق کے متعلق مزید تفصیل اور  سنی و شیعہ کتب سے اضافی اسکین

 

 1۔ راوی فضیل بن مرزوق شیعہ تھا  لیکن ثقہ ، ثبت اور صالح تھا ۔ اس  کی توثیق کئی محدثین نے کی ہے ۔  متشدد امام ابن حبان نے اسکو ثقات میں ذکر کیا اور یہ بھی کہا ہے کہ غلطی بھی کر جاتا تھا ،خاص طور پر عطیہ سے موضوع روایت مروی ہیں۔ مسند ابی یعلیٰ میں ہبہ والی روایت بھی فضیل بن مرزوق نے عطیہ سے لی ہے۔