امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ کی والدہ ایک فاحشہ عورت تھی۔(دیوانِ حسان)
مولانا ابوالحسن ہزارویامیر معاویہ (رضی اللہ عنہ کی والدہ ایک فاحشہ عورت تھی۔(دیوانِ حسان)
جواب اہلسنّت
1۔یہ ہجو اس وقت کی مرتب کی ہوئی ہے جبکہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ نے ابھی اسلام قبول نہ کیا تھا اور اسلام قبول کرنے والے کے لئے اصول اللہ پاک کی طرف سے یہ مقرر ہے کہ الاسلام یھدم ما کان قبلہ کہ اسلام حالتِ کُفر میں کیے گئے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے" لہذا جب یہ دونوں حضرات مسلمان ہوگئے تو ماقبل کے تمام گناہوں کو اللہ پاک نے مٹا دیا۔ اب ان گزرے کاموں پر الزام دینا سوا خیانت نفس کے کچھ بھی نہیں۔
2.شاعروں کا کلام بالخصوص جبکہ وہ کسی کی مذمت اور ہجو پر مشتمل ہو تو وہ افراط اور تفریط سے خالی نہیں ہوتا ایسے کلام میں مخالف کی مذمت کا عام طور پر انتہائی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جو محض مخالفت ہوتی ہے ایسی چیزیں عقلمندوں کے ہاں لائق اعتماد نہیں ہوتیں۔
3.اسلام قبول کرنے کے بعد ان حضرات کے اسلامی کارنامے اور قربانیاں نیز رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک ان کا فضل و مرتبہ ارباب علم سے مخفی نہیں، خود رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات کے بارے میں فرمایا کہ جو زمانہ جاہلیت میں سردار تھا وہ اسلام لانے کے بعد بھی سردار ہوگا۔ بشرطیکہ وہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرے لہذا ان کو رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عزت و شرف اور سرداری کا منصب عطا فرما دیا اگر مذکورہ باتیں واقعی درست ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ مقام عنایت نہ فرماتے۔