Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا جائزہ

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کی گواہی اور ثبوت کے طور پر قرآن کریم نازل ہوا اور جن لوگوں نے افواہیں پھیلائیں ان پر حد قذف (80 کوڑے) نافذ ہوئی۔ لیکن اہل تشیع مسلسل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتے آئے ہیں اور اس ذات شریفہ پر بہتانات کے طومار باندھنے سے باز نہیں آتے اور وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اگر دوبارہ زندہ ہو کر آئیں تو انھیں حد کے کوڑے ضرور لگائیں گے اور ان سے وہ انتقام لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی شکلیں مسخ کر دے۔ چنانچہ عبداللہ بن شبر (عبداللہ بن محمد رضا بن محمد شبر۔ 1188 ہجری میں نجف میں پیدا ہوا۔ امامیہ اثنی عشریہ شیعوں کا سرخیل مانا جاتا ہے۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’تفسیر القرآن الکریم‘‘ اور ’’الحق الیقین فی معرفۃ اصول الدین‘‘ مشہور ہیں۔ 1242 ہجری میں کاظمیہ میں فوت ہوا۔ (معارف الرجال لمحمد حرز الدین: جلد 2 صفحہ 9۔ الذریعۃ للطہرانی: جلد 11 صفحہ 216۔) ایرانی شیعہ نے اپنی کتاب میں یوں لکھا ہے:

’’صدوق نے اپنی کتاب ’’العلل‘‘ میں باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے۔ اس نے کہا: اے کاش! ہمارے امام قائم (مہدی) کو حمیرا (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا )مل جائے تاکہ وہ فاطمہ بنت محمد کے انتقام میں اس پر حد کے کوڑے لگائے۔‘‘(حق الیقین فی معرفۃ اصول الدین: جلد 2 صفحہ 25۔) (نقل کفر کفر بناشد)

اگرچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والا اجماعاً کافر ہے مگر آپ ان ظالموں کو دیکھتے رہیں کہ جس تہمت سے اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی اپنی کتاب میں ثابت کی ہے وہ وہی تہمت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر مسلسل لگاتے آ رہے ہیں۔ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت بھی قبول نہیں۔

اسی لیے آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ روافض اپنے معتقدات کے مطابق اپنے حسد اور بغض کے الاؤ میں جل کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تواتر و تکرار کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے اس عقیدے کو تقیہ کے طور پر اپنے سینے میں چھپا کر رکھتے ہیں، لیکن جیسے عربوں کے نامور شاعر نے کہا تھا:

وَ مَہْمَا تَکُنْ عِنْدَ امْرِیئٍ مِّنْ خَلِیْقَۃٍ

وَ إِنْ خَالَہَا تَخْفٰی عَلَی النَّاسِ تُعْلَمِ

(دیوان زہیر بن ابی سلمی: صفحہ 111)

’’جس کسی شخص کے پاس کوئی خدا داد صلاحیت ہو تو وہ اپنی طرف سے اسے چھپا رہا ہوتا ہے لیکن لوگ اس سے باخبر ہوتے ہیں۔‘‘

روافض کا ایک گروہ یہ بھی کہتا ہے کہ ’’واقعہ افک کے حوالے سے جو آیات نازل ہوئیں وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کے ثبوت کے طور پر نازل نہیں ہوئیں بلکہ وہ ان کے جرم کے ثبوت کے طور پر نازل ہوئیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ماریہ ام ابراہیم علیہا السلام پر جو تہمت لگائی تھی اس سے ماریہ کی پاک دامنی کے ثبوت کے طور پر وہ آیات نازل ہوئیں۔‘‘

مجلسی نے یہ من گھڑت روایت من گھڑت سند کے ساتھ ’’بحار الانوار‘‘ میں نقل کی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی، محمد بن عیسیٰ نے بواسطہ حسن بن علی بن فضال ہمیں یہ حدیث سنائی کہ مجھے عبداللہ بن بکیر نے زرارہ کے واسطے سے یہ حدیث سنائی۔ اس نے کہا: میں نے ابو جعفر علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم علیہ السلام فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی موت پر شدید غمگین ہو گئے۔ عائشہ نے کہا: آپ کو اس کی موت کی وجہ سے کیوں پریشانی لاحق ہے؟ حالانکہ وہ جریج کا بیٹا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی علیہ السلام کو بھیجا تاکہ وہ اسے قتل کر دیں۔ سیدنا علی علیہ السلام اس کی طرف ننگی تلوار لے کر گئے۔ جریج ایک قبطی تھا اور باغ میں رہتا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے باغ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو جریج دروازہ کھولنے کے لیے آیا۔ جب اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو غصیلے چہرے کے ساتھ دیکھا تو الٹے پاؤں واپس چلا گیا اور دروازہ نہ کھولا۔ علی علیہ السلام چار دیواری پھلانگ کر باغ کے اندر چلے گئے اور اس کا پیچھا شروع کر دیا۔ جب جریج کو پکڑے جانے کا خوف لاحق ہوا تو وہ کھجور کے ایک درخت پر چڑھ گیا۔ علی علیہ السلام بھی اس کے پیچھے پیچھے درخت پر چڑھنے لگے۔ جب علی جریج کے قریب گئے تو جریج نے درخت کے اوپر سے چھلانگ لگا دی اس کا ستر کھل گیا۔ تب علی کو پتا چلا کہ وہ نہ تو مرد ہے اور نہ عورت۔ تب علی علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گئے اور کہا: اے رسول اللہ! آپ نے مجھے جس معاملے میں بھیجا ہے اس میں میرا کردار آگ میں پگھلائی گئی میخ والا ہے یا پختہ میخ والا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ پختہ میخ والا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اس کے پاس نہ مردوں والی دیوان کوئی چیز ہے نہ عورتوں والی کوئی چیز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کے لیے تمام تعریفات ہوں جس نے ہم اہل بیت کو برائی سے محفوظ کر دیا۔

(بحار الانوار للمجلسی: جلد 76 صفحہ 103 )

اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے مفید نے لکھا: ماریہ قبطیہ پر عائشہ رضی اللہ عنہما کی طرف سے بری افواہ پھیلانے والی خبر شیعہ کے نزدیک صحیح و مسلم ہے۔

(رسالۃ فیما اشکل من خبر معاویۃ للمفید: صفحہ 29)

تو یہ ہے رافضیوں کا من گھڑت، گھناؤنا اور بے حد غلیظ بہتان جو ان کی کتابوں میں موجود ہے اور ان کے امام اعظم کی توثیق سے مزین ہے۔ وہ آیات جو منافقوں کو چیلنج دینے کے لیے اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانے کی پاداش میں منافقوں پر پھٹکار کے لیے نازل ہوئی تھیں، شیعہ مفتری وہی آیات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے وعید و تہدید کے طور پر پیش کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ رب العالمین نے ان آیات میں ماریہ کی اس تہمت سے پاک دامنی بیان کی ہے۔ رافضیوں کے بقول جو تہمت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ماریہ پر لگائی تھی۔ یہ روایت نقل در نقل سب رافضیوں کے نزدیک مسلم ہے ان کی کتابوں میں موجود ہے وہ اپنے دلوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ اس اعتقاد کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کا کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں، ان ظالموں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر زہریلے تیر پھینکنے کی تمام تر حدود پار کر لی ہیں اور ہر قسم کی رذالت، قباحت و فحاشی بھرا الزام اس ذات شریف پر تھوپنے سے ذرہ بھر نہیں ہچکچاتے۔ بلکہ ان کی اس خنجر زنی کی حدود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت تک پھیل چکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی خیانت کا علم تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے تاآنکہ ان کے مزعوم امام غائب و منتظر مہدی صاحب الزمان عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی قبر سے نکال کر ان پر زنا کی حد نافذ کر کے یہ معاملہ ختم کریں گے!! (نعوذ باللّٰہ من ذالک )

رافضیوں کا شیخ المفسرین قمی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لکھتا ہے:

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ‌ كَانَـتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَـيۡنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيۡـئًا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ‏ ۞(سورۃ التحريم آیت 10)

ترجمہ: جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، اللہ ان کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ دونوں ہمارے دو ایسے بندوں کے نکاح میں تھیں جو بہت نیک تھے۔ پھر انہوں نے ان کے ساتھ بےوفائی کی، تو وہ دونوں اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے اور (ان بیویوں سے) کہا گیا کہ: دوسرے جانے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں چلی جاؤ۔

اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اپنے اس کلام فَخَانَتَاهُمَا  سے ان دونوں کا زنا مراد لیا ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو گل بصرہ کے سفر کے دوران کھلائے وہ (مہدی منتظر) اس پر ضرور حد قائم کرے گا۔طلحہ اس کے ساتھ محبت کرتا تھا اور جب وہ بصرہ کے لیے عازمِ سفر ہوئی تو کسی نے اسے کہا: تیرے لیے محرم کے بغیر سفر کرنا حلال نہیں اس لیے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود ہی اپنی شادی طلحہ سے کر لی۔

(تفسیر القمی: جلد 2 صفحہ 377۔ البرہان للبحرانی: جلد 4 صفحہ 358۔ تفسیر عبداللہ شبر: صفحہ 338)

اہل تشیع محمد الباقر کی طرف نسبت کر کے روایت کرتے ہیں: جب ہمارے امام قائم الزمان آئیں گے تو حمیراء (یعنی ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ) لوٹائی جائے گی اور وہ اسے حد قذف کے کوڑے لگائے گا تاکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رحمہ اللہ کا اس سے انتقام لے۔ پوچھا گیا: وہ اسے کوڑے کیوں مارے گا؟ باقر علیہ السلام نے کہا: کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ام ابراہیم پر تہمت لگائی تھی۔ پوچھا گیا: اللہ تعالیٰ نے اس حد کو قائم علیہ السلام تک کس طرح مؤخر کر دیا؟ اس نے جواب دیا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے رحمت بنا کر بھیجا جبکہ قائم علیہ السلام کو انتقام کے لیے بھیجے گا۔

(التفسیر الصافی للفیض الکاشانی: جلد 3 صفحہ 359۔ کاشانی نے بہت بڑا احسان کیا کہ حد زنا کو حد قذف سے بدل دیا۔ العیاذ باللّٰہ )

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق یہ ہفوات بکنے والے اجماع مسلمین سے نکل چکے ہیں۔ وہ صریح قرآن کو جھٹلاتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو داغ دار بنانا چاہتے ہیں، حتیٰ کہ انھوں نے اسلام اور اہل اسلام کے چہرے مسخ کرنے کی کوشش کی اور کافروں کے لیے فتنہ کا باعث بن گئے۔ اسلام پر کسی نے اتنی جرأت کے ساتھ خنجر زنی نہیں کی جتنی جرأت کے ساتھ یہ افتراء پرداز اللہ رب العالمین پر کرتے ہیں۔

رافضیوں کی بیان کردہ یہ روایت باطل اور نری باطل ہے۔ اس کی سند کے ساتوں راوی مجہول ہیں، کسی ایک کے بارے میں جرح یا تعدیل کا ایک لفظ بھی نہیں ملتا اور کچھ ایسے راوی بھی ہیں جن تک ہم کسی صورت پہنچ نہیں سکتے تو اندھیروں پر اندھیرے ہونا ہمارے خلاف دلیل نہیں بنتی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل سنت کو اس شر سے بچا لیا اور انھیں حق کی طرف ہدایت دے دی۔ وہ سب لوگوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب ہیں۔ اس لیے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ کو اپنی مائیں سمجھتے ہیں۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لکھا اور اس بات پر مسلمان مفسرین کا اجماع ہے کہ ’آیت میں  فَخَانَتَاهُمَا  سے مراد دین میں خیانت ہے، وہ کہتے ہیں البتہ یہ زنا تو بالکل نہ تھا، لیکن ان دونوں میں سے ایک لوگوں کو اپنے خاوند کے بارے میں بتلاتی تھی کہ یہ پاگل ہے۔ اس کی باتوں کا یقین مت کریں اور دوسری لوگوں کو اپنے خاوند کے پاس آنے والے مہمانوں کی خبر دے دیا کرتی تھی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: 

 ‌اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ ‌‌(سورۃ ہود آیت 46)

ترجمہ:’’بے شک یہ ایسا کام ہے جو اچھا نہیں۔‘‘

(تفسیر طبری: جلد 12 صفحہ 430۔ احکام القرآن للقرطبی: جلد 18 صفحہ 202۔ انوار التنزیل و اسرار التاویل للبیضاوی: جلد 5 صفحہ 226۔ تفسیر ابن کثیر: جلد 4 صفحہ 327)

نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’کسی نبی کی بیوی نے کبھی زنا نہیں کیا۔‘‘

(احکام القرآن للقرطبی: جلد 9 صفحہ 46۔ تفسیر ابن کثیر: جلد 8 صفحہ 170۔)

انبیائے کرام کے حرم کی پاکیزگی کے بارے میں سب اہل سنت کا اعتقاد ہے، جسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حکایتاً ان سے بیان کیا۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اپنی سوچ اور امید نہیں تھی اور جہاں تک ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ ہے تو ان پر بدزبانوں نے ماریہ رضی اللہ عنہا کی نسبت سے جھوٹ موٹ کی تہمت لگائی ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا دفاع کیا اور اسے ان کے بہتان سے پاک دامن ثابت کیا۔ جیسا کہ حاکم رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت کی ہے انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماریہ تحفہ میں ملی تو اس کے ساتھ ان کا چچا زاد (جریج) بھی تھا۔

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہی اس کے ساتھ خلوت میں گئے تو وہ حاملہ ہو گئی۔ بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا : تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے چچا زاد کے ساتھ علیحدہ رہائش لے دی۔ بہتان تراش لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اس (نبی) کو بیٹے کی خواش تھی تو اس نے کسی اور کے بچے کو اپنی طرف منسوب کر لیا اور اس (ابراہیم کی ماں ) کا دودھ کم تھا، ماریہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے ایک دودھیل بھیڑ (ضائنۃ لبون: دودھ دینے والی بھیڑ۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 13 صفحہ 372۔) خریدی۔ ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اس کا دودھ بطور غذا پلایا جاتا تھا جس سے اس کا جسم خوب موٹا ہو گیا۔ 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک دن اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’تمھیں یہ بچہ کیسا لگتا ہے؟‘‘ میں نے کہا: جسے بھیڑ کا دودھ بطور غذا ملے گا وہ ایسے ہی تنومند ہو گا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے ساتھ اس کی کوئی مشابہت نہیں؟‘‘

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: اس سوال پر مجھے عورتوں کی فطرت کے مطابق غیرت نے گھیر لیا اور میں نے کہہ دیا: مجھے اس میں آپ کے ساتھ کوئی مشابہت دکھائی نہیں دیتی۔

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک لوگوں کی باتیں پہنچ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ تلوار لو اور جاؤ ماریہ کا چچا زاد تجھے جہاں ملے اس کی گردن کاٹ دو۔

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی طرف گئے تو وہ ایک باغ میں کھجور کے درخت سے تازہ کھجوریں توڑ رہا تھا۔

بقول راوی: جب اس نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں تلوار ہے تو خوف سے اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔ بقول علی رضی اللہ عنہ : اس کا تہہ بند نیچے گر پڑا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں بنائی جو مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ اس کا جسم بالکل ہموار تھا۔

(مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 41۔ سیرت عائشہ: صفحہ 434 کا مطالعہ بھی مفید رہے گا۔) 

اللہ کے دشمن ابن سلول نے خباثت کا جو بیج بویا کوئی مومن یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ مستقبل میں روافض کی شکل میں ایک تناور درخت بن کر پھلے پھولے گا۔ حتیٰ کہ بہتان تراشوں کو اپنے بہتان گھڑنے کے لیے ایک وسیع و لا محدود میدان ہاتھ آ جائے گا۔ جس میں وہ اپنے جھوٹ، افتراء پردازیوں اور سلولی کذب بیانی کی فصل کاشت کرتے رہیں گے۔ بلکہ وہ اس قدر دیدہ دلیری کے ساتھ لوگوں کے جم غفیر کے سامنے ببانگ دہل ان نفوس قدسیہ کے خلاف زبان درازی ہی نہیں کرتے وہ مسلسل از اکابر تا اصاغر اپنی کتابوں میں بھی ان جھوٹے افسانوں کو چھاپ رہے ہیں۔ ایسے ظالم افتراء پردازوں میں سے ایک نے دشمنی اور ظلم کی انتہا ہی کر دی اور ام المؤمنینؓ کے نام پر شرم و حیا سے عاری ایسی عریاں بوقلمونیاں تراشی ہیں کہ جن کے تصور سے ہی کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور بدن پسینہ سے شرابور ہو جاتا ہے۔ اس کی زبان غیر فصیح اور انداز بیان نہایت گھٹیا اور پست ہے، وہ ظالم لکھتا ہے: کسی کی طرف کفر منسوب کرنا اس کی طرف زنا منسوب کرنے سے زیادہ قبیح ہے تو پھر تم پہلی بات کو کس طرح قبول کرتے ہو اور دوسری بات کو کیوں ردّ کرتے ہو؟

(خیانۃ عائشۃ بین استحالۃ و الواقع لمحمد جمیل العاملی، صفحہ 13۔)

جواب: اسے کہا جائے گا: جب دل اندھیرے میں غرق ہوتا ہے تو عقل کی مخالفت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کیا یہ پستی ان ظالموں کے بہتان کی دلیل بن جائے گی جس سے نعوذ باللہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف فحاشی منسوب کرنا جائز ہو جائے گا؟ بلاشبہ عقلی طور پر یہ ثابت ہے کہ جن کاموں سے فطرت سلیمہ نفرت کرتی ہو، نفس انسانی بھی ان کاموں سے بھڑک اٹھتے ہیں اور وہ گھٹن محسوس کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر تمام ادیان کے عقل مند لوگ متفق ہیں اور یہ ہے وہ اخلاق کی اساس کہ جس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا۔

جبکہ کچھ پہلو ایسے ہیں مثلاً جب عقائد و افکار میں اختلاف ہو تو نفس انسانی اسے برداشت کر لیتے ہیں اور انھیں لامحدود تشویش نہیں ہوتی اور اس کا بنیادی سبب اذہان و افہام اور عقلوں کا اختلاف ہے۔ لیکن یہ عقول بنفس نفیس اپنے مسالک اور مذاہب کے اختلاف کے باوجود اخلاق کی بنیادوں پر متفق ہیں، وہ اس اخلاقی دائرے سے باہر نہیں نکلتیں چاہے ان کا کوئی سا بھی دین ہو۔

علی سبیل المثال: میرا پڑوسی عیسائی، بدھ مذہب کا پیروکار ہو سکتا ہے اور یہ ایک معمول کی بات ہے لیکن اگر میں سڑک پر کسی ننگے آدمی کو چلتے ہوئے دیکھوں تو ہر گز برداشت نہیں کر سکتا، حالانکہ پہلا شخص فاسد عقیدے کا مالک ہے جبکہ دوسرا شخص فاسد اخلاق کا مالک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفوس انسانی بنیادی طور پر حسن اخلاق پر پیدا ہوئے اگرچہ مذاہب و ادیان میں اختلاف بھی ہو اور بدخلق کی بہرصورت مذمت کی جاتی ہے۔ چاہے وہ ہم مذہب و ہم مسلک کیوں نہ ہو۔

ہم نے آج تک نہیں سنا کہ کسی صالح کے اہل خانہ سے کوئی کافر ہو جائے تو اس کی وجہ سے اسے عار دلایا جاتا ہو وگرنہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو ضرور عار دلایا جاتا کہ ان کا باپ آذر ایک بت پرست تھا۔ نوح علیہ السلام کے کافر بیٹے کی وجہ سے ضرور عار دلایا جاتا اور ابو طالب کی وفات بے دینی پر ہوئی تو اس وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عار دلایا جاتا۔

تو کیا کسی نیک آدمی کو اس لیے عار دلائی گئی کہ اس کے اقربا میں سے کوئی کافر تھا؟ اس کے برعکس کسی انسان کی عزت اور بزرگی میں کوئی عیب ہو تو ہر کوئی اسے برا جانے گا اور اسے عار دلائے گا اور اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ فلاں اپنے گھر والوں کی خیانت پر پردہ ڈالتا ہے اور فحاشی میں وہ بھی ملوث ہے، کیونکہ یہ عار قابل مغفرت نہیں اور ایسا زخم ہے جو کبھی مندمل نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب کسی پر بداخلاقی کا دھبہ لگ جائے گا تو اس کا وقار ختم ہو جائے گا اور اس کی انسانیت کی بنیاد ڈھے جائے گی۔ خبردار! انسانیت کی بنیاد شریفانہ اخلاق ہیں، اور جو شخص آدم علیہ السلام کی معصیت کی تفصیل سے واقف ہے وہ فطرت سلیمہ کے سلوک کو بخوبی سمجھتا ہے کہ یہ غیر اخلاقی سرگرمی سے کتنی نفرت کرتی ہے۔ بے شک آدم اور حوا علیہما السلام نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا کر معصیت الہٰی کا ارتکاب تو کر لیا لیکن شدید گھٹن، حد سے زیادہ شرمسار اور شدید افسوس و صدمہ ان کو اس وقت لاحق ہوا جب ان کی شرم گاہیں کھل گئیں، وہ دونوں ان درختوں کے پتوں سے اپنے ستر ڈھانپنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

فَدَلّٰٮهُمَا بِغُرُوۡرٍ‌ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡءٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفٰنِ عَلَيۡهِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَـنَّةِ‌  وَنَادٰٮهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَـكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۞( سورۃ الأعراف آیت 22)

ترجمہ: اس طرح اس نے دونوں کو دھوکا دے کر نیچے اتار ہی لیا۔ چنانچہ جب دونوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان دونوں کی شرم کی جگہیں ایک دوسرے پر کھل گئیں، اور وہ جنت کے کچھ پتے جوڑ جوڑ کر اپنے بدن پر چپکانے لگے۔ اور ان کے پروردگار نے انہیں آواز دی کہ: کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے روکا نہیں تھا، اور تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے ؟

ان کا یہ حال کیوں ہوا؟ اس لیے کہ فطرت سلیمہ جس پر اللہ رب العالمین نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے، اس کا تقاضا یہی ہے لیکن جب اسی فطرت کو ہی الٹ دیا جائے اور انسان راہ ہدایت سے منحرف ہو جائے تو پھر وہی نتیجہ نکلتا ہے جو روافض کی تصانیف و تقاریر و معتقدات کی قبیح صورت میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہ اللہ رب العالمین کی پیدا کردہ مشاہدہ شدہ نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ کی معمول کی سنت ہے کہ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی کی ستر کشی کی کوشش کرتے ہیں وہ ان کی ستر کشی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر یہی عیوب مسلط کر دیتا ہے کہ جن کے ذریعے وہ اللہ کے دوستوں پر اور اس کی مخلوق میں سے اشرف و اعلیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیتے ہیں۔ اس نے ان کو حرام نکاحوں میں پھنسا دیا اور فسق و فجور سے لبریز ان میں اخلاقی برائیوں پھیلا دی ہیں، یہ بالکل انھیں ویسی ہی جزا ملی ہے جیسے ان کے اپنے سیاہ کرتوت تھے جن کے ذریعے وہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔

وہ ظالم رافضی لکھتا ہے:’’ لوگوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بہت کچھ کہا اور وہ جو کچھ کہتے ہیں سو کہتے ہیں بہرحال کچھ نہ کچھ تو اس کی حقیقت ہو گی کیونکہ آگ کے بغیر دھواں نہیں ہوتا۔‘‘

(خیانۃ عائشۃ بین الاستحالۃ و الواقع لمحمد جمیل حمود العاملی: صفحہ 25)

جواب: اس ظالم کو کہا جائے گا یہ اس فاسد و خبیث فطرت کا لازمی نتیجہ ہے جو تمہارے ساتھ چپکی ہوئی ہے۔ اگر تمہارے کہنے کے مطابق ہر وہ باطل ثابت ہو جاتا جو لوگوں کی زبانوں سے نکلے تو اس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کافروں اور منافقوں نے جو کچھ کہا وہ سب نہیں تو کیا کچھ نہ کچھ صحیح ضرور ہے، کیونکہ وہ بے شمار ہیں۔ (نعوذ باللّٰہ من ذلک)

اسی طرح یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ناصبی لوگ جو کچھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں وہ بھی سب نہیں تو تیری منطق کے مطابق کچھ نہ کچھ صحیح ضرور ہے، کیونکہ ناصبیوں کی تعداد بھی کافی ہے۔ اگر ہمارے بیان کردہ الزامی جواب کا یہ کہہ کر توڑ کیا جائے کہ وہ گمراہ لوگ ہیں، ان کی گواہی مقبول نہیں اور نہ ہی وہ سچ ہے جو وہ افتراء پردازی کرتے ہیں تو ہم کہیں گے یہاں تمہارے اوپر وہی لازم آتا ہے جو وہاں تمہارے اوپر لازم آتا ہے۔ اگر اس کے جواب میں کہا جائے کہ اے اہل سنت تمہاری اپنی گواہی کے مطابق جن صحابہؓ نے یہ باتیں کی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حد کے اسی اسی کوڑے لگائے تھے۔

ہم اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ جو سب سے پہلے قول ایجاد کرتا ہے اور جو اس کی پیروی میں یہ بات دہراتا ہے اور اسے وہ یقینی طور پر صحیح نہیں سمجھتا، دونوں میں فرق ہے۔ نیز ہم کسی صحابی کے معصوم ہونے کا عقیدہ بھی نہیں رکھتے کہ اس سے غلطی ہو ہی نہیں سکتی یا کبھی معصیت کا ارتکاب کرے تو وہ اس سے توبہ کر لے اور وہ اس پر مصر نہ رہے، نیز تمہارا ان باتوں کو حجت ماننا ایسے ہی ہے کہ تم ایسے منافقوں کے طرز عمل کو دلیل بنا رہے ہو جو تمہارے نزدیک پکے منافق ہیں، جو سلولی شیعوں کا عقیدہ ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جن اصحاب کا تمہارے نزدیک عقیدہ صحیح نہیں ہے تم ان کے اقوال کو حجت بنا رہے ہو، کیونکہ وہ تمہارے عقیدے کے مطابق کافر اور مرتد ہیں تو پھر کب سے ان کے اقوال و اعمال تمہارے لیے دلیل بن گئے کہ تم برائی کے ارتکاب کے لیے ان کے اقوال کو بطور ثبوت پیش کر رہے ہو۔ ہم اللہ سے ہر گمراہی سے عافیت اور ہدایت کے لیے راہنمائی کا سوال کرتے ہیں اور فتنوں کی پستیوں اور ہلاکت کی چراگاہوں سے دُوری مانگتے ہیں۔ اے اللہ! تو ہماری دعا قبول کر لے۔

اس کے بعد ہم اتنا ضرور عرض کریں گے کہ رافضیوں کی کتابوں میں موجود یہ قصہ بہتان اور اس کے متعلقات و مقدمات اور توابع بالکل اختصار کے ساتھ ہم نے یہاں پیش کیے ہیں وگرنہ ان کے نزدیک تو بہتانات بے شمار ہیں لیکن شاید جتنا کچھ تحریر کر دیا گیا ہے وہ کافی و شافی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی جود و فضل والا ہے۔ ہم پر صرف اسی کے احسانات اور فضل و کرم سایہ فگن ہے۔