تعزیہ داری اور مرثیہ خوانی میں شرکت کرنے والے کی امامت
سوال: جو شخص مرثیہ خوانی کرے اور محفل تعزیہ داری میں جائے اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
جواب: جو شخص مرثیہ خوانی کرے اور محفل تعزیہ داری میں جائے سو ایسا شخص اگر نماز پڑھا رہا ہو، اور کوئی اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو جائے تو اس کی نماز ہو جائے گی مگر ایسے شخص کو بالقصد امام نہیں بنانا چاہیئے، اور نماز پڑھانے کے لیے آگے نہیں کرنا چاہیئے، اس واسطے کہ مرثیہ خوانی اور تعزیہ داری بلاشبہ فسق و فجور کے کام ہیں، اور فسق و فجور کے کام سے جو راضی ہو، اور اس کی محفل میں جائے، وہ بھی فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز تو ہو جاتی ہے مگر اس کو بالقصد امام نہیں بنانا چاہیئے۔
(فتاویٰ علماء حديث: جلد، 1 صفحہ، 252)