واقعہ افک کے زمانہ قدیم میں مثبت اثرات
علی محمد الصلابیپہلا نکتہ: واقعہ افک کے زمانہ قدیم میں مثبت اثرات
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ قصہ بہتانِ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بے شمار مثبت اثرات و فوائد امت مسلمہ کو حاصل ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خود خبر دی ہے کہ اس واقعہ سے مسلمانوں کو بہت سی بھلائیاں ملی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ۞ (سورة النور آیت 11)
ترجمہ: تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔
تو کس کی بات اللہ تعالیٰ کی بات سے زیادہ سچی ہے اور کس کا وعدہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ سے زیادہ سچا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ شر کی پر پیچ تنگیوں میں سے خیر کی کشادہ راہیں نکالے اور کتنے ہی معاملات بظاہر برے ہی لگتے ہیں لیکن ان کی تہوں میں سے بے شمار بھلائیاں مل جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡــئًا وَّهُوَ خَيۡرٌ لَّـکُمۡ وَعَسٰۤى اَنۡ تُحِبُّوۡا شَيۡــئًا وَّهُوَ شَرٌّ لَّـكُمۡ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 216)
ترجمہ: اور یہ عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا سمجھو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو، اور (اصل حقیقت تو) اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡـئًـا وَّيَجۡعَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ خَيۡرًا كَثِيۡرًا ۞ (سورۃ النساء آیت 19)
ترجمہ: تو یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔