وہ فوائد جن کا تعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے
علی محمد الصلابی1۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات اس قدر بلند کر دیے حتیٰ کہ ان کا اجر کبھی منقطع نہیں ہو گا اور جو جو حسد کی آگ میں جلنے والے اور کینہ کی غلاظتوں میں لتھڑنے والے اپنے سیاہ کرتوتوں اور کالی زبانوں کے ساتھ امی جان رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخیاں کرتے رہیں گے، اللہ عزوجل ان کے اعمال تباہ و برباد کرتا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ کی حکمت بھی کتنی عجیب ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فہم عطا ہو چکا تھا۔ جب ان کو بتایا گیا کہ کچھ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں حتیٰ کہ انھوں نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی نہ چھوڑا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فی البدیہ جواب دیا: اس چیز پر تم کیوں تعجب کرتے ہو جب ان کے اعمال منقطع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہ تھا کہ ان کے اجر بھی منقطع ہو جائیں۔
(تاریخ بغداد للخطیب البغدادی: جلد 11 صفحہ 275)
ابن مہدی سے مروی ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ کی معصیت سے نفرت نہ ہوتی تو میں ضرور تمنا کرتا کہ مصر کے سبھی لوگ میری غیبتیں کریں۔ بھلا کون سی چیز اس نیکی سے زیادہ بابرکت ہو گی جس کا اجر آدمی کو اس کے نامہ عمل میں ملے گا اگرچہ آدمی نے اس پر عمل نہ کیا ہو گا۔
(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 9 صفحہ 195، 196)
2۔ آزمائش سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت میں مزید نکھار آ گیا۔ کیونکہ اللہ کے محبوب بندوں پر آنے والی ہر آزمائش ان کے لیے بھلائی کا باعث بنتی ہے۔
(احکام القرآن للقرطبی: جلد 12 صفحہ 198)
3۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی پاک دامنی کے ثبوت کے طور پر قرآن کریم نازل فرمایا جو قیامت تک پڑھا جاتا رہے گا تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت میں لا محدود اضافہ ہو گیا۔ اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس چیز پر فخر کیا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر سے ان کی برأت نازل کی ہے اور اگر یہ آزمائش نہ ہوتی تو امت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اہمیت کا کیسے پتا چلتا؟
4۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت کا بھی پتا چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بہتان کی وجہ سے مغموم ہو گئے، پھر لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا: ابن سلول کی طرف سے مجھے کون راحت پہنچائے گا؟
5۔ یہ کہ کھلم کھلا بہتان لگانا اور اس کی اشاعت ہونا اس کے چھپانے اور مخفی رکھنے سے بہت بہتر ثابت ہوا، کیونکہ اگر اعلانیہ بہتان نہ لگایا جاتا تو ممکن تھا کہ کچھ لوگوں کے سینوں میں یہ پوشیدہ رہتا جبکہ اس کے اعلانیہ ہونے کی بنا پر بہتان تراشوں کا جھوٹ آشکارا ہو گیا جو زمانے گزرنے کے باوجود امت کے اذہان میں نقش ہو چکا ہے۔
(تفسیر الرازی: جلد 23 صفحہ 338)
6۔ جنھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا تھا انھیں نشانہ عبرت بنا دیا گیا۔
7 ۔یہ وضاحت ہو گئی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت اور پاک دامنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے مقام و مرتبے سے متعلق ہے۔
زمخشری رحمہ اللہ نے لکھا: ’’اگر آپ سارے قرآن کو پڑھیں اور تحقیق کریں کہ قرآن میں کہاں کہاں نافرمانوں کو وعید سنائی گئی ہے۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جن الفاظ اور جس اسلوب اور جس شدت کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں کے بارے میں شدید وعید سنائی ہے اور کسی مجرم کے بارے اتنے سخت الفاظ اور اسالیب استعمال نہیں ہوئے اور نہ ہی وعید شدید کے ساتھ انسان پر اس قدر کپکپی طاری کر دینے والی آیات شامل کیں۔ جتنی پراثر ملامت اور سخت ڈانٹ ڈبٹ اور اس کے نتائج کا بوجھل پن اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے امور کی قباحت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے واقعہ افک کے ضمن میں کیا ہے۔ ان میں سے ہر انداز اپنے اپنے باب میں کافی ہے اور اگر مذکورہ تین سزاؤں کے علاوہ کچھ بھی نہ نازل ہوتا تو پھر بھی کافی تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیان کر دیا کہ بہتان تراش دونوں جہانوں میں ملعونین ہیں اور آخرت میں ان کو عذاب عظیم کا چیلنج دیا اور یہ کہ ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کی افتراء پردازیوں اور بہتان تراشیوں کی گواہی دیں گے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر وہ سزا دینے کا اعلان کیا ہے جس کے وہ اہل و مستحق ہوں گے۔
تاکہ انھیں اس وقت یقین ہو جائے کہ وہی اللہ تعالیٰ حق مبین ہے۔ تو اس فتنے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مختصر الفاظ اور معانی سے بھرپور آیات نازل فرمائیں۔ اس نے اجمالی تذکرہ بھی کیا اور مفصل بھی، تاکید و تکرار دونوں انداز استعمال کیے اور ایسی ایسی وعیدیں دی گئیں جو اس نے کافروں منافقوں اور بت پرستوں کے لیے بھی استعمال نہیں کیں اور یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ کوئی تو خاص بات ہے نا؟ اور اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں اپنی معجزہ نما کتاب عزیز میں تاقیامت پڑھی جانے والی اتنی عظیم آیات نازل فرمائیں۔ یہ غور کا مقام ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت اور ان بہتان تراشوں کی افتراء کے درمیان کتنا فرق ہے اور یہ سب کچھ کس لیے ہے؟ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان بیان کرنے کے لیے ہے اور اولاد آدم کے سردار اور اولین و آخرین کے محبوب اور تمام جہانوں پر اللہ کی طرف سے حجت بنا کر بھیجے جانے والے رسول کی عزت و آبرو کے لیے ہی ہے اور جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، شان، ان کی شان بے نیازی اور مقابلے میں آنے والے ہر شریک کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبقت لے جانے کی تحقیق کرنا چاہے تو اسے واقعہ افک میں نازل ہونے والی آیات کا خوب گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے اور اس پر غور کرنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت شان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کس قدر اپنا غیظ و غضب ظاہر کیا اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے پردۂ عصمت سے تہمت کو دُور کیا۔
(الکشاف للزمخشری: جلد 3 صفحہ 223)
8۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع اور ان کی مدحت کا تعلق کفر و ایمان کے ساتھ ہونا: کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب میں منصوص طریقے سے اس الزام کو بہتان کہہ دیا تو اس کے بعد جو بھی اس میں شک کرے گا وہ قطعی طور پر کافر ہے اور یہ بہت بلند درجہ ہے۔
(تفسیر الرازی: جلد 23 صفحہ 338)
9۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کتنا گہرا تعلق تھا: اس پر انھیں کتنا یقین اور اعتماد تھا اور انھیں اللہ کی پناہ پر کتنا بھروسہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نازل فرمائی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صرف اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور اس کے علاوہ کسی کی بھی حمد و ثنا نہیں کی۔
10۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا دفاع کرنے والوں کی فضیلت کا بیان:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کے فوائد میں لکھا:
اس حدیث میں ام مسطح کی بہت بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، کیونکہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں افواہ پھیلانے کی وجہ سے اپنے بیٹے کو ترجیح نہیں دی بلکہ اس جرم کی وجہ سے اسے بددعا دی۔
(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 480)
ہم کہتے ہیں: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دین کو امت کی طرف منتقل کرنے والے اصحاب رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کرنے والوں کے ساتھ محبت جتلانا دین و امانت کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اے اللہ! تو ہم پر اپنے دین اسلام کی وجہ سے رحم فرما۔
11۔ یہ کہ قیامت تک پاک دامنی عائشہ رضی اللہ عنہا کی صفت لازمہ بن گئی اور یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم حکمت ہے۔ اسی لیے مسروق بن اجدعؒ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی حدیث روایت کرتے تو یوں کہتے:
’’صدیقہ بنت صدیق، اللہ تعالیٰ کے محبوب کی محبوبہ، پاک دامن و پاک باز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔‘‘
(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 241)
مسروق رحمہ اللہ کی کنیت (ابو عائشہ) تھی۔
(تہذیب الکمال للمزی: جلد 27 صفحہ 451، 452+
12۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان تواضع و انکساری کی وضاحت: یہ کہ وہ اپنی برأت کے لیے اپنے آپ کو اس لائق نہیں سمجھتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے معاملے میں قرآن نازل کرے۔
اہل علم نے مزید کتنے ہی فوائد جمع کیے ہیں جو اس حادثہ میں سامنے آئے۔ ان میں سے اہم درج ذیل ہیں :
الف: دَورِ ابتلاء: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آزمایا اس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا صفوان بن معطل، سیدنا حسان بن ثابت اور سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہم کی بھی آزمائش کی۔ اللہ کے فضل سے سب ہی اس آزمائش سے خالص سونا بن کر کامیاب ہوئے اور آزمائش نیک انجام پر منتج ہوتی ہے، کیونکہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دونوں کے خاندانوں نے جو صبر عظیم کیا اور قوت برداشت کا مظاہرہ کیا اور اپنے ایمان کی تصدیق کی، اس کی وجہ سے دونوں خاندانوں کو رفعت درجات اور جزاء حسن اور اجر عظیم ملے۔ چنانچہ کشادگی میں تاخیر کا سبب امتحان، آزمائش اور تحقیق و تمیز تھا تاکہ اہل ایمان اور اہل نفاق میں امتیاز ہو جائے۔ نیز اس لیے بھی تاخیر ہوئی تاکہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر لیں اور اس ابتلاء سے احسن انداز میں گلو خلاصی ہونے کا سب انتظار کریں۔
علامہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے واقعہ افک کی کچھ حکمتیں جیسے اللہ کے ساتھ حسن ظن اور اسی سے اپنی حاجت مندی کا بیان وغیرہ جمع کرنے کے بعد لکھا:
’’اگر اللہ تعالیٰ حقیقت حال سے اپنے رسول کو پہلے ہی مرحلے میں آگاہ کر دیتا اور فوراً اس کے متعلق وحی نازل ہو جاتی تو مذکورہ حکمتیں بلکہ اس سے بڑھ کر دوگنا چوگنا حکمتیں حاصل نہ ہوتیں۔‘‘
(زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 335 )
ب: یہ کہ اس حادثہ سے اہل ایمان کو بے شمار اعلیٰ قسم کے آداب اسلامی کی تعلیم ملی۔ جیسے اہل ایمان کی نیک نامی کی تمنا کرنا اور آپس میں حسن ظن قائم رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تادیباً یہ سمجھایا گیا کہ وہ کسی بھی مومن کے ذاتی معاملے کو اپنے اوپر قیاس کر کے سمجھیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا وَّقَالُوۡا هٰذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ۞ (سورۃ النور آیت 12)
ترجمہ: جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے ؟
اکثر مفسرین نے یہ حکمت بھی تحریر کی کہ اسی طرح ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے مسلمان کا دفاع کرے۔ خصوصاً جب معاملہ ان میں سے اہل علم و فضل کا ہو۔
نیز یہ فائدہ بھی حاصل ہوا کہ بات کو پھیلانے سے پہلے اس کی تحقیق کر لینی چاہیے اور اس کی صحت کی چھان بین کرنا ضروری ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ قُلۡتُمۡ مَّا يَكُوۡنُ لَـنَاۤ اَنۡ نَّـتَكَلَّمَ بِهٰذَ ا سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 16)
ترجمہ: اور جس وقت تم نے یہ بات سنی تھی، اسی وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ: ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم یہ بات منہ سے نکالیں، یا اللہ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔
(احکام القرآن للقرطبی: جلد 12 صفحہ 202۔ البحر المحیط لابی حیان: جلد 8 صفحہ 21)
اسی طرح اہل ایمان کے درمیان فحش باتوں کی نشر و اشاعت سے بھی روک دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞ (سورۃ النور آیت 19)
ترجمہ: یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِى الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلۡيَـعۡفُوۡا وَلۡيَـصۡفَحُوۡا اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 22)
ترجمہ:اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
ج: اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان اس کی ان پر شفقت اور رحم دلی کا بیان۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمۡ فِىۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 14)
ترجمہ: اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی وجہ سے تم پر اس وقت سخت عذاب آپڑتا۔
اسی طرح سچے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کی غیرت، اس کی طرف سے ان کا دفاع اور جو ان پر زنا وغیرہ کی تہمت لگائے اللہ تعالیٰ کا ان کو دنیا و آخرت میں لعنت کا چیلنج دینا۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بیان ہوا ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 23)
ترجمہ: یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے، اور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔
د: یہ کہ واقعہ افک سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت پر واضح دلیل مل گئی اور یہ کہ آپ غیب نہیں جانتے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ اس آزمائش میں گزارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاملہ کی حقیقت کا ذرہ بھر علم نہ تھا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کرتے رہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رہنے والی صحابیات اور گھر میں آنے جانے والے اصحاب سے معاملے کے بارے میں پوچھتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے کتنی سچی بات کی ہے:
قُلْ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِىۡ نَـفۡعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ وَلَوۡ كُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ لَاسۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ السُّۤوۡءُ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ وَّبَشِيۡرٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ۞ (سورۃ الأعراف آیت 188)
ترجمہ: کہو کہ جب تک اللہ نہ چاہے میں خود اپنے آپ کو بھی کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں اچھی اچھی چیزیں خوب جمع کرتا، اور مجھے کبھی کوئی تکلیف ہی نہ پہنچتی میں تو بس ایک ہوشیار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں، ان لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔
اس آیت کریمہ میں ان بدعتی گروہوں کا ردّ ہے جو کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں تھے۔ نیز وہ یہ حیران کن دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے تھے۔
ھ: یہ کہ اس حادثے نے اہل ایمان کی صفوں میں گھسے ہوئے منافقوں کو علیحدہ کر دیا۔ چنانچہ آزمائشوں اور فتنوں کا ایک اساسی فائدہ یہ بھی ہے کہ سینوں میں چھپا ہوا نفاق ظاہر ہو جاتا ہے اور اسلام اور اہل اسلام سے کینہ و بغض رکھنے والوں کا پتا چل جاتا ہے۔ منافقت اور منافقوں کا سب کو پتا چل جاتا ہے۔
و: یہ کہ اسلام کے داعی جو صدق و اخلاص کے ساتھ اسلام کی دعوت و تبلیغ میں مصروف رہتے ہیں ہمیشہ تہمتوں، ملامتوں، سازشوں اور خصوصاً اہل علم و فضل و شرف ان اوچھے ہتھکنڈوں کا عموماً نشانہ بنتے ہیں۔ منتقم المزاج حاسدین کا یہی وتیرہ چلا آ رہا ہے۔
غور کا مقام ہے کہ مریم بنت عمران علیہا السلام کی عزت و عفت و پاک دامنی پر جھوٹا بہتان لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس الزام سے بری کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِىۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ ۞ (سورۃ التحريم آیت 12)
ترجمہ: نیز عمران کی بیٹی مریم کو (مثال کے طور پر پیش کرتا ہے) جنہوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی، اور انہوں نے اپنے پروردگار کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی، اور وہ طاعت شعار لوگوں میں شامل تھیں۔
اسی طرح یوسف علیہ السلام کی عزت پر بھی بہتان لگایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی اس بہتان سے بری کر دیا۔ ہم نے کثرت سے پڑھا اور سنا ہے کہ ہر زمانے میں سچے داعیوں اور جلیل القدر علماء کی عزتوں پر تہمتیں لگائی جاتی رہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہی غالب رہتا ہے کہ وہ اہل ایمان کو نکھارتا ہے اور کافروں کو مٹا دیتا ہے۔ کیونکہ کوئی زمانہ ایسا نہ گزرا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو پاک دامن اور گناہوں کی دلدل سے محفوظ قرار نہ دیا ہو اور ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی غالب قدرت سے مضبوطی سے گرفتار کر لیتا ہے جو گناہ اور جرم سے بھرپور سازشیں کرتے ہیں۔