واقعہ افک کے زمانہ جدید میں مثبت اثرات - دفاعِ اہلِ سنت |…

واقعہ افک کے زمانہ جدید میں مثبت اثرات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جس گروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طاہر و کریم گھرانے پر تہمت لگائی اور اس میں شکوک و شبہات پیدا کیے وہ آج بھی موجود ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گروہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زنا وغیرہ جیسے گھناؤنے افتراء ات کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔ (اس زمانہ کے ایک زندیق اور نجس انسان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یوم وفات کی مناسبت سے سترہ رمضان 1431 ہجری ایک ناپاک محفل منعقد کی جس میں اس ظالم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف ہر نقص منسوب کیا جس کے سننے کی کوئی اہل ایمان تاب نہیں لا سکتا کجا کہ اسے اپنے منہ یا نوک قلم سے بیان کرے۔ پھر اس ظالم و ملعون شخص نے اس کے بعد آنے والے اسی دن کے موقع پر یہ محفل بپا کی۔ اللہ اسے اور اس کا انتظام کرنے والوں کو ان کی بدعملی جیسا وہی اجر عطا کرے جس کے وہ مستحق ہیں۔ اس سے اور اس کے ہم نواؤں سے جنہوں نے اس محفل میں سیدہ رضی اللہ عنہا کے متعلق اخلاق سوز گفتگو کی، ان سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہی اللہ انتقام لے۔)

جبکہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان جھوٹی اور من گھڑت تہمتوں سے بہت پہلے سے ہی بری کر دیا تھا۔ لیکن ظالموں کا یہ گروہ پھر وہی تہمتیں لے کر لوٹ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثۡلِهٖۤ اَبَدًا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‌۞ (سورۃ النور آیت 17)

ترجمہ: اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا، اگر واقعی تم مومن ہو۔

حالانکہ گزشتہ اور موجودہ زمانے کا ہدف ایک ہی ہے جس کا مقصد اسلام اور اہل اسلام کی تنقیص ہے۔ لیکن موجودہ زمانے کا بہتان زمانہ قدیم کے بہتان سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ نزول قرآن کے بعد ظاہر ہوا ہے جبکہ بہتان قدیم سے برأت تو قرآن کریم میں بیان ہو چکی ہے اور اسے دہرانے کی ممانعت بھی ہو چکی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے کے افتراء پردازوں نے قرآن کریم کو جھٹلانے کے علاوہ بہت کچھ ماننے سے انکار کر دیا اور جس عمل سے اللہ تعالیٰ نے روکا تھا وہ اسی کا دوبارہ ارتکاب کر رہے ہیں۔

آسمان سے برأت نازل ہونے اور اللہ کی جانب سے سیدہ رضی اللہ عنہا کی طہارت و پاکیزگی کا اعلان آنے کے باوجود ہمارا مشاہدہ ہے کہ کچھ لوگوں کے دل کفر، نفاق اور خباثت سے لبریز ہیں۔ وہ الفاظ میں تحریف کرتے ہیں اور رب العالمین کی مخلوق کی معزز ترین اور سب سے زیادہ پاکباز عورت کی تنقیص و تقبیح میں محو و مشغول ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ بازی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کے درمیان فتنہ و فساد پھیلانے میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں اور ان کے زعم باطل کے مطابق حب اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آڑ میں وہ اللہ اور اس کے رسول کی معصیت کا ارتکاب نہایت جرأت مندی اور دیدہ دلیری سے کرتے ہیں۔

حالانکہ اہل بیت ان سے بیزار ہیں وہ لوگوں کے لیے ان کا دین، عقیدہ اور اسلام بگاڑ رہے ہیں۔

قدیم زمانے کے واقعہ افک کی تہوں میں بے شمار خیر مخفی تھی۔ اسی طرح موجودہ زمانے کے جدید بہتان بھی فوائد اور مثبت آثار سے خالی نہیں بلکہ بھلائیوں، بشارتوں، فضائل اور برکتوں سے مالامال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قدیم بہتان کے بارے میں جو فرمایا وہی موجودہ زمانے کے بہتان پر صادق آتا ہے:

لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌۞ (سورۃ النور آیت 11)

ترجمہ:  تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔

جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشوں نے حملہ کر دیا اور نئے انداز سے اس کی نسبت سے بہتان تراشے تو یہ فتنہ بھی اپنے ساتھ بے شمار فوائد اور ثمرات طیبہ لایا۔ ان میں سے اہم فوائد ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:

1۔ اس ظالمانہ عمل کے نتیجے میں سب سے بڑی بھلائی امت مسلمہ کو یہ حاصل ہوئی ہے کہ اکثر اہل اسلام کے سامنے رافضیت کی طرف منسوب لوگوں کا دین اور اخلاق کھل کر سامنے آ گیا ہے اور وہ اپنے علاوہ دیگر تمام امت اسلامیہ کے لیے جو بدعملیاں کرتے ہیں اور جو بغض و خباثت ان کے سینوں کے اندر پھڑپھڑا رہی ہے خصوصاً اکثر صحابہ اور امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم کے بارے میں وہ جو کچھ اپنے دلوں میں ’’تقیہ‘‘ کے پردوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ ان کی زبانوں سے الم غلم نکلتا رہتا ہے، اس سے امت اسلامیہ کا ہر منصف مزاج پیروکار اس کی حقیقت سے واقف ہو گیا ہے کہ اس کا سبب وحید امت کا رافضیت کی اصلیت سے جہالت اور عدم معرفت ہے۔

2۔ اس موجودہ حادثہ بہتان میں ان لوگوں کے لیے صریح پیغام ہے جو مذہب تشیع سے ناطہ جوڑنا چاہتے ہیں کہ وہ جن مصلحتوں کا شکار ہیں، ان مصلحتوں کو ان کی بنیاد سے اکھیڑ دیا گیا ہے اور اب ان کے لیے واضح ہو گیا ہے کہ وہ حق اور باطل کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی مثال بالکل اس شخص کی ہے جو پانی میں جلتا ہوا انگارہ تلاش کرے یا جو سراب سے اپنی پیاس بجھانا چاہے۔

3۔ اس مصیبت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بیشتر علماء و دعاۃ اہل سنت، رافضیت کے خطرات سے امت کو آگاہ کرنے میں لگ گئے اور اس کے بد اثرات کا پول کھولنے میں اہم کردار ادا کرنے میں مصروف ہو گئے اور جدید وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کے متعدد چینلز اور انٹرنیٹ پر متعدد مخصوص ویب سائٹس کے ذریعے سے اہل روافض کی پھیلائی ہوئی ضلالتوں اور ان کی طرف سے اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے کی کاوشوں کا خوب قلع قمع کیا گیا ہے، جو واقعی قابل تعریف ہے۔

اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی کہ روافض کے خطرات سے آگاہی کے لیے عوام کا شعور بیدار کیا جائے تاکہ وہ گھروں، چوک چوراہوں، بازاروں، فیکٹریوں، اجتماعات اور محافل میں رافضیوں کے پھیلائے ہوئے گمراہ عقائد و اعمال کی اصلاح کریں اور یہ عمل الحمد للہ خیر کثیر کا پیش خیمہ ہے۔ جس کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ دعاۃ و خطباء اور واعظین کا کام بہت آسان ہو گیا ہے اور بد اعمالوں کی تدبیروں سے صرف بداعمال ہی ہلاک ہوتے ہیں۔ و الحمد للّٰہ رب العالمین!!

صفحہ 1 از 2