واقعہ افک کے زمانہ جدید میں مثبت اثرات - دفاعِ اہلِ سنت |…

واقعہ افک کے زمانہ جدید میں مثبت اثرات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

4۔ اس موجودہ بہتان تراشی کا ایک مثبت اثر یہ بھی ہے کہ عام لوگ جو رافضیوں کے مکر و فریب کا شکار ہو گئے تھے ان کی آنکھوں سے پردہ ہٹ گیا۔ ہم نے سنا ہے کہ رافضی بکثرت اہل سنت کا مذہب اختیار کر رہے ہیں اور اپنے سابقہ طرز عمل پر ندامت کا اظہار کر رہے ہیں۔ روافض خلفائے راشدینؓ اور امہات المؤمنین سمیت اکثر صحابہ کرامؓ کے بارے میں جس بداعتقادی کا شکار ہیں اور وہ ان نفوس قدسیہ کے ساتھ جس قدر کینہ اور بغض رکھتے ہیں ان سے توبہ تائب ہو رہے ہیں اس خیر کے لیے ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔

(مقالہ: بعنوان ’’ماہی اول برکتکم یا آل ابی بکر‘‘ جدید واقعہ افک کی برکتیں تہ بہ تہ ہیں لعبد الرحمن بن محمد السیدق)

5۔ اہل سنت نے میڈیا کے جدید ذرائع کو صحابہ اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب بیان کرنے کے لیے خوب استعمال کیا ہے، جبکہ روافض کا خصوصی نشانہ ہماری پیاری امی جان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ اہل سنت کے علماء و خطباء اور مصنفین نے ان کا دفاع سنہری حروف کے ساتھ کیا اور یہی برکت ہی کافی ہے۔

6۔ ماضی قریب میں کچھ علماء اور محققین طلباء نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق شر انگیز شبہات کو جمع کیا اور ان کی پرزور اور مدلل تردید کی اور صحابہ اور امہات المومنین رضی اللہ عنہم کے متعلق من گھڑت افسانوں اور جھوٹی افواہوں کا اچھی طرح بطلان کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کارنامے کا بیڑہ اٹھانے والوں کو ہماری طرف سے اور اسلام کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔

7۔ سیرت امہات المؤمنین اور سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق کچھ مؤسسات خیریہ اور رفاہی منظمات اور اسلامی ویب سائٹس کے ذریعے کوئز پروگرام چلائے جا رہے ہیں جو ان ذوات قدسیہ کے اردگر پھیلائے ہوئے من گھڑت افسانوں کی تردید میں بہت کارگر ثابت ہو رہے ہیں۔

8۔ انحاء عالم سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے دفاع کے لیے ادباء اور شعراء نے بھی میدان سجا لیے اور جو انھیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنائے ہوئے تھے، ان کی ہجو میں شعراء اہل سنت نے بحسن و خوبی عمدہ کردار ادا کیا۔

9۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیٹوں کی اپنی امی جان کے ساتھ محبت و عقیدہ میں قابل قدر اضافہ ہو گیا اور جو اس کی شان اور آبرو پر طعن و تشنیع کرتے ہیں ان کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیٹوں کے بغض و نفرت میں شدت پیدا ہو گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے اپنی امی جان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی رکھنے کے لیے ہر وقت دعائیں کرتے ہیں اور ان کی سیرت عاطرہ کو زندہ رکھنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے نوجوان ایسے ہیں جن کو صرف اتنا ہی معلوم ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی ہیں، اس کے علاوہ انھیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ لہٰذا ہم پر واجب ہے کہ ہم اپنی اولاد اور اہل و عیال کے سامنے سیرت عائشہ کو دہراتے رہیں تاکہ ہماری اولاد بھی اپنی امی جان کی سیرت سے آگاہ ہو جائے اور وہ اس کی اقتدا میں اپنی زندگیاں گزاریں۔

 درج بالا خیر کی ہماری عملی زندگی میں موجود کچھ مثالیں 

1۔ مساجد اور مدارس کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ موسوم کرنا۔

2۔ اہل اسلام کے اکثر خاندان اپنی بیٹیوں کے نام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رکھتے ہیں۔

3۔ انٹرنیٹ پر بکثرت ایسی سائٹس موجود ہیں جو سیرت و فضائل اور برأت عائشہ رضی اللہ عنہا کو نشر کرتی رہتی ہیں۔

4۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بغض و عداوت رکھنے والوں کے ساتھ دشمنی میں روز افزوں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

5۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں راسخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی کے فضائل و مناقب خطبوں اور تحریری مقالات میں بیان کیے جاتے ہیں۔

6۔ فقہ، حدیث اور دعوت کی مجلات میں کتب اور تحقیقی مقالے اور اس باب میں منہج اہل سنت کے مطابق تحقیقات کا نشر ہونا۔

اختصار کے ساتھ تحریر کردہ مذکورہ امور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی یاد دلاتے ہیں:

لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌۞ (سورۃ النور آیت 11)

ترجمہ: تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔

اگرچہ آیت کریمہ تو اس واقعہ افک کے ضمن میں نازل ہوئی جو منافقوں نے تیار کی تھی لیکن آج آیت کا نکھار واضح ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان بلند کرنا چاہی اور ایسا کیوں نہ ہوتا بالآخر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ ہیں۔

جس حقیقت میں ذرہ بھر شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا فضل و سبقت سے بھرنے کے لیے اپنا کشکول ہمیشہ بلند رکھتیں اور بے عقل روافض عفیفۂ کائنات عائشہ رضی اللہ عنہا کے ان اعمال و نظریات پر مواخذہ کرتے ہیں جن کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی توجیہات اور ارشادات عائشہ رضی اللہ عنہا کی جانب مبذول کرتے رہتے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے یہ نظریات دو طرح سے ان کے حق میں جاتے ہیں:

1۔ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ توجیہات و تادیبات مسلمان گھرانے کے لیے باعث تربیت و برکت بن گئی ہیں۔

2۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر نصیحت کو توجہ سے سننا اور اس پر عمل کرنا ہر مسلمان عورت کے لیے مشعل راہ ہے۔

آخر میں ہم یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے واقعہ افک کے یہ چند مثبت فوائد تحریر کیے گئے جو دراصل دریا میں سے چلو بھر پانی لینے کے مترادف ہے۔


صفحہ 2 از 2